Friday, May 15, 2020

گیارہ مئی 1953 یومِ تحفظ ختم نبوت

11 مئی 1953
جب ختم نبوت کے تحفظ کے جرم میں مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو سزائے موت سنائی گئی

جب بات سرکار کی ناموس کی ہو تو ہم میں سے ہر ایک کو ہر سزا منظور ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی تو ہمارا کل اثاثہ ہے

فروری 1953 میں تحریک ختم نبوت  قادیانی وزیر خارجہ کی برطرفی کے مطالبے سے شروع ہوئی اور 06 مارچ 1953 کو پاکستان کی تاریخ کا پہلا جزوی مارشل لاء لاہور میں نافذ کر دیا گیا ۔اسی مارشل لاء کی فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی

1953ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا عبدالستار خان نیازی کا بڑا اہم کردار ہے۔ تحریک کے مرکز، مسجد وزیر خاں (لاہور) میں تحریک کی قیادت کرتے رہے۔ 9 مارچ 1953 کو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے قصور سے روانہ ہوئے تو گرفتار کر لئے گئے

فوجی عدالت میں بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا ۔11 مئی 1953 کو فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ آپ نے خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کیا اور کہا ختم نبوت کی خاطر ہر سزا منظور ہے نہ صرف منظور بلکہ خوشی سے منظور ہے

اس سزا کے خلاف پورے ملک میں احتجاج شروع ہو گیا چنانچہ 13 مئی 1953 کو حکومت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، پھر دو سال اور ایک ماہ بعد یہ سزا بھی ختم ہو گئی

مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ اپنی اسیری کے بارے میں فرماتے ہیں :-

’’مجھے اپنی زندگی پر فخر ہے کہ جب تحریک ختم نبوت کے مقدمہ کے بعد میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی۔ اس پر میں نے کہا تھا۔ ’’میری عمر وہ دن اور راتیں ہیں جو میں نے ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی اس جیل والی زندگی پر ناز ہے‘‘

حضرت مولانا عبدالستار خاں صاحب نیازیؒ کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ آپ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و نزاکت پر نہایت موثر انداز میں اظہار خیال فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’چودھویں صدی میں تمام عالم اسلام کے اندر ہر محب اسلام کا یہ فرض ہے کہ ختم نبوت کے مسئلہ کو تمام دوسرے مسائل پر ترجیح دے۔ اگر ہم تحفظ ختم نبوت کے ذریعے اپنی بقاء کا اہتمام کر لیتے ہیں تو توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، قرآن شریف، شریعت الغرض کسی اصول دین کو ضعف نہیں پہنچ سکتا، لیکن خدانخواستہ اگر قادیانی تحفظ ختم نبوت کو ہماری لوح قلب سے ذرا بھی اوجھل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر نہ ہمیں ناموسِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، ہمارا ایمان برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نہ وِلائے اہل بیتؓ ہماری نجات کے لیے کافی ہو سکتی ہے، نہ قرآن ہی کے اوراق میں ہمارے لیے ہدایت باقی رہ جاتی ہے، نہ مساجد ہی کے محراب و منبر میں کوئی تقدیس باقی رہ جاتی ہے اور نہ اولیاء اللہ اور مشائخ عظام ہی کی نسبتیں جاری رہ جاتی ہیں، نہ علمائے کرام ہی کی تدریس و وعظ میں اثر باقی رہ جاتا ہے، نہیں نہیں صرف یہی نہیں، خاکم بدہن اُمت محمدیہؐ کے تسمیہ اور وجود دونوں پر زَد پڑتی ہے۔ اُمتِ محمدیہ ملتوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ملتیں، حکومتوں میں بٹ جاتی ہیں اور حکومتیں، گروہوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتی ہیں، فقط اتنا ہی نہیں خاندان ملت سے خارج ہو جاتے ہیں، خود خاندان کے اندر صلہ رحمی، قطع رحمی سے مبدل ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، خاتم النبیین نہیں تو پھر شریعت نہیں، جب شریعت نہیں تو حرام و حلال بھی نہیں، جب حرام و حلال نہیں تو باپ، بیٹے، ماں بہن، خاوند اور بیوی غرض دنیا کے سب رشتے اپنی تقدیس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ختم نبوت کا انکار آسمان پر فرشتوں کا انکار ہے، زمین پر قبلہ اور حج کا انکار ہے، سیاست میں مسلمانوں کے غلبے اور جداگانہ وجود کا انکار ہے۔ غرض ختم نبوت سے انکار خود مسلمان کے مسلمان ہونے سے انکار ہے، یہاں پہنچ کر زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ قلم ٹوٹ جاتا ہے اور الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جاتا ہے‘‘

ہے یہ وہ نام خاک کو پاک کرے نکھار کر
ہے یہ وہ نام خار کو پھول کرے سنوار کر

ہے یہ وہ نام ارض کو کر دے سما اُبھار کر
اکبر اسی کا ورد تُو صدق سے بیشمار کر

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

No comments:

Post a Comment