Monday, April 27, 2020

چھبیس اپریل 1984 امتناع قادیانیت آرڈیننس

26 اپریل 1984
جب ریاست پاکستان نے ختم نبوت میں نقب لگانے کے تمام چور راستے بند کر دئیے

جنرل ضیاء الحق نے 26 اپریل 1984ء کو ”امتناعِ قادیانیت آرڈیننس“ جاری کر دیا ، جس کے مطابق قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر، قادیانیوں کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا، اذان دینا، اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنا اور شعائر اسلام استعمال کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984 کی وجہ سے مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر 20 مجریہ 1984
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس

چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہٰذا اب 5 جولائی 1977 کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا

حصہ اول ابتدائیہ

1۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

(1) یہ آرڈیننس قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس 1984 کے نام سے موسوم ہو گا

(2) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا

2۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر 45 بابت 1860) کی ترمیم

3۔ ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء میں نئی دفعات 298۔ب اور 298۔ج کا اضافہ

مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر 45، 1860ء میں باب 10 میں، دفعہ 298 الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی
298۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال

(1) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے

(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے

(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے

(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے

یا

(د) اپنی عبادت گاہ کو "مسجد" کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے

تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا

(2) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا

298۔ قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو "احمدی" یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا

4۔ ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء کی دفعہ 99۔الف کی ترمیم

مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء (ایکٹ نمبر 5 بابت 1898ء) میں جس کا حوالہ بعد ازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ 99، الف میں، ذیلی دفعہ (1) میں

(الف) الفاظ اور سکتہ "اس طبقہ کے" کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جس کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس 1963ء کی دفعہ 24 کی ذیلی دفعہ (1) کی شق ( ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف 298۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف یا دفعہ 298۔ب یا دفعہ 298۔ج شامل کر دئیے جائیں گے

قادیانیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صدر مملکت نے 26 اپریل 1984ء کو امتناعِ قادیانیت آرڈینینس نافذ کیا اورتعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 298۔ بی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پر یا کسی فعل کے ذریعے مرزا قادیانی کے جانشینوں یا ساتھیوں کو ’’امیر المومنین‘‘ یا ’’صحابہ‘‘ یا اس کی بیوی کو ’’ام المومنین‘‘ یا اس کے خاندان کے افراد کو ’’اہلِ بیت‘‘ کے الفاظ سے پکاریں یا اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہے‘ تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے

 قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے اس آرڈینینس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج بھی کر دیا کہ یہ آرڈینینس قرآن و سنت کے منافی ہے

وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی ۔ قادیانیوں کی طرف سے مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کی طرف سے عبدالواجد لاہوری مرزائی پیش ہوئے ۔ 25 جولائی 1984ء سے 12 اگست 1984ء تک اس کی سماعت جاری رہی

29  اکتوبر 1984ء کواس کیس کے  247 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں اس آرڈینینس کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا گیا ۔ اس فیصلہ میں اہل بیت کی اصطلاح مرزا قادیانی کے خاندان والوں کے لئے استعمال کرنے سے متعلق عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ’’ اہل بیت کی اصطلاح بھی جیسا کہ کئی احادیث سے واضح ہوتا ہے حضرت رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے افراد کے لیے مخصوص ہے، ایسے اشخاص جو مسلمان نہیں ہیں یا جو مسلمان نہیں تھے ان کو اس نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ قادیانیوں کی طرف سے مرزا قادیانی کے افراد یا خاندان کے لیے ایسے نام کا استعمال زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اوصاف جن سے رسول اللہ ﷺ کے افرادِ خاندان متصف تھے وہ کسی اور شخص میں موجود نہیں ہو سکتے‘ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں نے اس توہین کا برا منایا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے امن و امان کا مسئلہ خراب ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی امت کے مفاد میں تھا کہ اس کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے کر قادیانیوں کو اس کے استعمال سے منع کر دیا جائے‘‘                 

(فیصلہ وفاقی شرعی عدالت مورخہ 29 اکتوبر 1984ء)  (PLD 1985 FSC 8)

No comments:

Post a Comment