Friday, April 17, 2020

سرخوں کا موقف

سرخوں کا موقف

سرخے آج کل جو پوسٹس کر رہے ہیں ان کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں
انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان کی بات بھی سنی جائے

پہلا موقف

ہم نے ڈیورنڈ لائن کے اس پار پشتونوں کو انگریز کے ہاتھ سو سال کے لیے بیچا تھا اور واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ لیکن جب ان لوگوں نے انگریز کو ہی بھگا دیا تو وہ سودا ختم ہوا۔ لہٰذا ہمیں ہمارا  بیچا ہوا مال (پشتون) واپس کرو۔ ویسے بھی سودے کی مدت سو سال پوری ہوچکی ہے

دوسرا موقف

پنجابی انگریز کا غلام ہے
پشتون پنجابی کا غلام
(یعنی پشتون غلام کا غلام؟)
ہم اس غلام پشتون کو آزاد افغان بنانا چاہتے ہیں۔

تیسرا موقف

ہم نے دو سپر پاورز کو شکست دی، یہ پنجابی کیا چیز ہیں۔
البتہ روس کو افغانستان پر حملے کی دعوت دینا اور امریکی انخلاء کی مخالفت کرنا ہماری مجبوری ہے
ورنہ پنجابی ہمیں مجاہدین کے ذریعے مارے گا
(یعنی پنجابی کے خوف دو دو سپر پاورز کو خود پر۔۔۔؟)

چوتھا موقف

ہماری دو لاکھ فوج ساٹھ ہزار طالبان کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لیے ہم نے انڈیا سے فوجی مدد مانگی ہے۔ انڈین سکھ رجمنٹ (دال خور پنجابی) ہمیں بچا سکتے ہیں

پانچواں موقف

فقیر ایپی اس لیے ولی اللہ ہے کہ اس نے انگریز کے خلاف جنگ لڑی اور طالبان اس لیے دہشتگرد ہیں کہ وہ انگریز کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں

فقیر ایپی نے انگریز سے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا وہ مجاہد ہے
قائد اعظم  نے انگریز کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی آزاد کرایا اس لیے ہم اس کے خلاف ہیں

ہاں جی ۔۔۔؟؟؟

یہی ہے نا،،، یا میں نے کچھ غلط بیان کیا ؟؟؟

No comments:

Post a Comment