20 اپریل 571
محبوب رب العالمین کا یوم ولادت
جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم پیدائش کی قمری تاریخ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے اسی طرح سن عیسوی میں سن اور تاریخ کے حوالے سے بھی اختلاف رائے ہے
بعض کے مطابق سن پیدائش 570 بعد از مسیح ہے ۔اور اکثر کے نزدیک 571 ہے
اپریل کے مہینے پہ اتفاق رائے ہے لیکن تاریخ کے حساب میں اختلاف ہے
سید سلمان ندوی 22 اپریل 571 بتاتے ہیں لیکن ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق درست تاریخ 20 اپریل 571 ہے۔
کیلنڈر دیکھا جائے تو 571 کے اپریل میں پیر کا دن 20 تاریخ کو ہی آتا ہے ۔لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ آج یومِ ولادت باسعادت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
حضرت محمد ﷺ کو تاباں و درخشاں شریعت دے کر اللہ تعالیٰ نے بہت سے اہم مناصب بیک وقت مرحمت فرما دئیے۔ آپ ایک جلیل القدر پیغمبر اور نبی آخر الزمان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نظریاتی فلاحی ریاست کے بانی بھی ہیں۔ اس طرح اگر آپ ﷺ مصلحِ اعظم ہیں تو ایک بے نظیر سیاستدان بھی۔ قائدِ لشکر ہیں تو عظیم فاتح بھی۔ اگر عظیم سربراہِ مملکت ہیں تو بے عدیل قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) بھی۔ اگر عدیم المثال تاجر ہیں تو مہربان شوہر، شفیق باپ اور مخلص دوست بھی۔ غرض آپ کی ذاتِ گرامی میں ہر قسم کی خوبیاں جمع ہو گئی ہیں۔
نپولین نے ٹھیک کہا ہے کہ عظماءِ تاریخ میں سے ہر ایک صرف کسی ایک گوشے میں عظیم ہوتا تھا، اور ایک آدھ خوبی کا مالک ہوتا تھا۔ مگر پیغمبرِ اسلام میں انسان عظیم کے تمام خصائص موجود ہیں
آنحضور ﷺ کی سیرت کو خود اللہ تعالیٰ نے کامل ترین سیرت قرار دیا ہے۔
﴿وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ ٤﴾
محبوب رب العالمین کا یوم ولادت
جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم پیدائش کی قمری تاریخ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے اسی طرح سن عیسوی میں سن اور تاریخ کے حوالے سے بھی اختلاف رائے ہے
بعض کے مطابق سن پیدائش 570 بعد از مسیح ہے ۔اور اکثر کے نزدیک 571 ہے
اپریل کے مہینے پہ اتفاق رائے ہے لیکن تاریخ کے حساب میں اختلاف ہے
سید سلمان ندوی 22 اپریل 571 بتاتے ہیں لیکن ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق درست تاریخ 20 اپریل 571 ہے۔
کیلنڈر دیکھا جائے تو 571 کے اپریل میں پیر کا دن 20 تاریخ کو ہی آتا ہے ۔لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ آج یومِ ولادت باسعادت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
حضرت محمد ﷺ کو تاباں و درخشاں شریعت دے کر اللہ تعالیٰ نے بہت سے اہم مناصب بیک وقت مرحمت فرما دئیے۔ آپ ایک جلیل القدر پیغمبر اور نبی آخر الزمان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نظریاتی فلاحی ریاست کے بانی بھی ہیں۔ اس طرح اگر آپ ﷺ مصلحِ اعظم ہیں تو ایک بے نظیر سیاستدان بھی۔ قائدِ لشکر ہیں تو عظیم فاتح بھی۔ اگر عظیم سربراہِ مملکت ہیں تو بے عدیل قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) بھی۔ اگر عدیم المثال تاجر ہیں تو مہربان شوہر، شفیق باپ اور مخلص دوست بھی۔ غرض آپ کی ذاتِ گرامی میں ہر قسم کی خوبیاں جمع ہو گئی ہیں۔
نپولین نے ٹھیک کہا ہے کہ عظماءِ تاریخ میں سے ہر ایک صرف کسی ایک گوشے میں عظیم ہوتا تھا، اور ایک آدھ خوبی کا مالک ہوتا تھا۔ مگر پیغمبرِ اسلام میں انسان عظیم کے تمام خصائص موجود ہیں
آنحضور ﷺ کی سیرت کو خود اللہ تعالیٰ نے کامل ترین سیرت قرار دیا ہے۔
﴿وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ ٤﴾

No comments:
Post a Comment