01 رمضان المبارک 470 ہجری
17 مارچ 1078
یومِ پیدائش سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی
شیخ عبدالقادر جیلانی سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں
نام : عبدالقادر
کنیت : ابو محمد
لقب : محی الدین، پیرانِ پیر دستگیر، شیخ الشیوخ
شیخ عبدالقادر جیلانی یکم رمضان المبارک 470 ہجری بمطابق 17 مارچ 1078 کو ایران کے صوبہ کرمان شاہ کے شہر مغربی گیلان میں پیدا ہوئے، جس کو کیلان بھی کہا جاتا ہے اور اسی لیے آپ کا ایک اور نام شیخ عبد القادر گیلانی بھی ماخوذ ہے
والد ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ، والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ "نجیب الطرفین" سیّد ہیں۔ والد ماجد کی طرف سے سلسلۂ نسب سیدنا امام حسن بن علی المرتضیٰ سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملتا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے۔
سید ابو صالح موسٰی جنگی دوست بن عبد اللہ الجیلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد مورث بن سید داؤد بن سید موسٰی ثانی بن سید موسٰی الجون بن سید عبد اللہ ثانی بن سید عبداللہ المحض بن سید حسن المثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علی المرتضٰ کرم اللہ وجہہ الکریم
18 سال کی عمر میں (1095) شیخ عبدالقادر جیلانی تحصیلِ علم کے لئے بغداد تشریف لے گئے۔ آپ کو فقہ کے علم میں ابو سید علی مخرمی، علِم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیرکے لئے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے
شیخ عبدالقادر جیلانی نے سیدنا ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی
آپ کا شجرہ طریقت کچھ اس طرح ہے
حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ
حضرت شیخ قاضی ابو سعید محمد مبارک مخزومیؒ
حضرت شیخ ابو الحسن علی هنکاریؒ
حضرت شیخ محمد ابو الفرح طرطوسیؒ
حضرت شیخ ابو الفضل عبدالواحد تمیمی
حضرت شیخ ابوبکر شبلیؒ
سید الطائفه حضرت شیخ جنید بغدادیؒ
حضرت شیخ سری سقطی
حضرت شیخ اسد الدین معروف کرخی
حضرت شیخ ابوسلیمان داؤد طائی
حضرت خواجہ ابو نصر حبیب عجمی
حضرت خواجہ حسن بصری
حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی الله عنه
خاتم النبین حضرت محمد مصطفٰی صلی الله علیه وسلم
1127ء میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔ 40 سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، نتیجتاً ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف و توصیف میں سیرت نگاروں کے تذکرے بھرے پڑے ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق و محامد سے متصف فرمایا تھا کہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی آپ کے حسنِ سلوک کے گرویدہ تھے۔ آپ اسلامی اخلاق اور انسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں : "میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا"
آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔ سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے، لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کئے۔ مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مروت سے پیش آتے۔ سچائی اور حق گوئی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ آپ معروف کا حکم دیتے اور منکرات سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ ڈال دیا تھا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ مجسمہ ایثار و سخاوت تھے۔ دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جو کچھ پاس ہوتا سب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے۔عفو و کرم کے پیکر جمیل تھے۔ کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصہ نہیں کیا۔ لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔ نہایت رقیق القلب تھے
شیخ عبد القادر جیلانی نے طالبینِ حق کے لیے گراں قدر کتابیں تحریر کیں، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں
(بعض کتابوں کی شیخ کی طرف نسبت اختلافی ہے)
غنیۃ الطالبین
الفتح الربانی والفیض الرحمانی
ملفوظات
فتوح الغیب
جلاء الخاطر
ورد الشیخ عبد القادر الجیلانی
الحدیقۃ المصطفویہ
الرسالۃ الغوثیہ
آدابِ سلوک و التوصل الی منازلِ سلوک
جغرافیۃ الباز الاشہب
1۔ فتوح الغیب
فتوح الغیب شیخ عبد القادر جیلانی کی تصنیف ہے۔ یہ علم تصوف و معرفت پر معرکۃ الآراء کتاب ہے اس کے مضامین، مضامین قرآنی اور اسرار طریقت سے معمور ہیں، یہ کتاب کئی مقالات پر مشتمل ہے، ہر مقالہ معرفت و حقیقت کا آئینہ دار ہے، اس کتاب میں غوث اعظم کے اٹھہتر 78 وعظ ہیں جو انہوں نے مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے۔ ان مقالات کا مطالعہ ایمان میں حرارت پیدا کرتا ہے اور صحیح اعمال و عقائد کی عکاسی کرتا ہے یہ کتاب اصل میں انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد عیسیٰ کی تعلیم کے لیے تصنیف فرمائی اس کتاب میں فنا و بقاء اور نفس و دل کے امراض اور ان کا علاج تجویز کیا گیا ہے
اس کتاب کے کئی ترجمے ہوئے، شاہ عبد الحق قادری محدث دہلوی نے ترجمہ کیا جو بہت شہرت رکھتا ہے ابو الحسن سیالکوٹی، نواب صدیق حسن بھوپالی اور محمد عالم کاکوروی نے بھی تراجم کیے ہیں
2۔ غنیتہ الطالبین
غنیۃ الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی تصنیف کردہ ایک مشہور کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے متعدد فقہی مسائل پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک مخصوص انداز میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اذکار و ادعیہ اور فضائل اعمال وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
شیخ عبد القادر نے مختلف اوقات مین چار شادیاں کیں جبکہ ازداوجی زندگی کا آغاز 50 برس کی عمر سے کیا۔ ان کے نام یہ ہیں
سیدہ بی بی مدینہ بنت سید میر محمد
سیدہ بی بی صادقہ بنت سید محمد شفیع
سیدہ بی بی مومنہ
سیدہ بی بی صادقہ
شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کی چار ازواج سے انچاس بچے پیدا ہوئے۔ بیس لڑکے اور باقی لڑکیاں۔ جن بیٹوں کے نام ملے وہ یہ ہیں
شیخ سیف الدین عبد الوہاب
شیخ تاج الدین عبد الرزاق
شیخ شرف الدین عیسیٰ
شیخ ابو اسحاق ابراہیم
شیخ ابو بکر عبد العزیز
شیخ ابو زکریا یحیٰ
شیخ عبد الجبار
شیخ ابو نصر موسیٰ
شیخ ابو الفضل محمد
شیخ عبد اللہ
آپ کے چند فرموداتِ
اے انسان، اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسا لے تو ربِ تعالٰی کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اُس وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت و صحبت میسر نہ آجائے
اہلِ دل کی صحبت اختیار کر تاکہ تو بھی صاحبِ دل ہو جائے
میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اُس کو مانتا ہوں، جس کا دل اللہ کا ذکر کرے
شیخ عبد القادر جیلانی کا انتقال 11 ربیع الثانی 561 ہجری بمطابق 12 فروری 1166 کو ہفتہ کی شب کو بغداد میں ہوا اور آپ کی تدفین آپ کے مدرسے کے احاطہ میں ہوئی
17 مارچ 1078
یومِ پیدائش سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی
شیخ عبدالقادر جیلانی سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں
نام : عبدالقادر
کنیت : ابو محمد
لقب : محی الدین، پیرانِ پیر دستگیر، شیخ الشیوخ
شیخ عبدالقادر جیلانی یکم رمضان المبارک 470 ہجری بمطابق 17 مارچ 1078 کو ایران کے صوبہ کرمان شاہ کے شہر مغربی گیلان میں پیدا ہوئے، جس کو کیلان بھی کہا جاتا ہے اور اسی لیے آپ کا ایک اور نام شیخ عبد القادر گیلانی بھی ماخوذ ہے
والد ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ، والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ "نجیب الطرفین" سیّد ہیں۔ والد ماجد کی طرف سے سلسلۂ نسب سیدنا امام حسن بن علی المرتضیٰ سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملتا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے۔
سید ابو صالح موسٰی جنگی دوست بن عبد اللہ الجیلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد مورث بن سید داؤد بن سید موسٰی ثانی بن سید موسٰی الجون بن سید عبد اللہ ثانی بن سید عبداللہ المحض بن سید حسن المثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علی المرتضٰ کرم اللہ وجہہ الکریم
18 سال کی عمر میں (1095) شیخ عبدالقادر جیلانی تحصیلِ علم کے لئے بغداد تشریف لے گئے۔ آپ کو فقہ کے علم میں ابو سید علی مخرمی، علِم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیرکے لئے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے
شیخ عبدالقادر جیلانی نے سیدنا ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی
آپ کا شجرہ طریقت کچھ اس طرح ہے
حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ
حضرت شیخ قاضی ابو سعید محمد مبارک مخزومیؒ
حضرت شیخ ابو الحسن علی هنکاریؒ
حضرت شیخ محمد ابو الفرح طرطوسیؒ
حضرت شیخ ابو الفضل عبدالواحد تمیمی
حضرت شیخ ابوبکر شبلیؒ
سید الطائفه حضرت شیخ جنید بغدادیؒ
حضرت شیخ سری سقطی
حضرت شیخ اسد الدین معروف کرخی
حضرت شیخ ابوسلیمان داؤد طائی
حضرت خواجہ ابو نصر حبیب عجمی
حضرت خواجہ حسن بصری
حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی الله عنه
خاتم النبین حضرت محمد مصطفٰی صلی الله علیه وسلم
1127ء میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔ 40 سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، نتیجتاً ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف و توصیف میں سیرت نگاروں کے تذکرے بھرے پڑے ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق و محامد سے متصف فرمایا تھا کہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی آپ کے حسنِ سلوک کے گرویدہ تھے۔ آپ اسلامی اخلاق اور انسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں : "میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا"
آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔ سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے، لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کئے۔ مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مروت سے پیش آتے۔ سچائی اور حق گوئی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ آپ معروف کا حکم دیتے اور منکرات سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ ڈال دیا تھا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ مجسمہ ایثار و سخاوت تھے۔ دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جو کچھ پاس ہوتا سب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے۔عفو و کرم کے پیکر جمیل تھے۔ کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصہ نہیں کیا۔ لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔ نہایت رقیق القلب تھے
شیخ عبد القادر جیلانی نے طالبینِ حق کے لیے گراں قدر کتابیں تحریر کیں، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں
(بعض کتابوں کی شیخ کی طرف نسبت اختلافی ہے)
غنیۃ الطالبین
الفتح الربانی والفیض الرحمانی
ملفوظات
فتوح الغیب
جلاء الخاطر
ورد الشیخ عبد القادر الجیلانی
الحدیقۃ المصطفویہ
الرسالۃ الغوثیہ
آدابِ سلوک و التوصل الی منازلِ سلوک
جغرافیۃ الباز الاشہب
1۔ فتوح الغیب
فتوح الغیب شیخ عبد القادر جیلانی کی تصنیف ہے۔ یہ علم تصوف و معرفت پر معرکۃ الآراء کتاب ہے اس کے مضامین، مضامین قرآنی اور اسرار طریقت سے معمور ہیں، یہ کتاب کئی مقالات پر مشتمل ہے، ہر مقالہ معرفت و حقیقت کا آئینہ دار ہے، اس کتاب میں غوث اعظم کے اٹھہتر 78 وعظ ہیں جو انہوں نے مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے۔ ان مقالات کا مطالعہ ایمان میں حرارت پیدا کرتا ہے اور صحیح اعمال و عقائد کی عکاسی کرتا ہے یہ کتاب اصل میں انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد عیسیٰ کی تعلیم کے لیے تصنیف فرمائی اس کتاب میں فنا و بقاء اور نفس و دل کے امراض اور ان کا علاج تجویز کیا گیا ہے
اس کتاب کے کئی ترجمے ہوئے، شاہ عبد الحق قادری محدث دہلوی نے ترجمہ کیا جو بہت شہرت رکھتا ہے ابو الحسن سیالکوٹی، نواب صدیق حسن بھوپالی اور محمد عالم کاکوروی نے بھی تراجم کیے ہیں
2۔ غنیتہ الطالبین
غنیۃ الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی تصنیف کردہ ایک مشہور کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے متعدد فقہی مسائل پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک مخصوص انداز میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اذکار و ادعیہ اور فضائل اعمال وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
شیخ عبد القادر نے مختلف اوقات مین چار شادیاں کیں جبکہ ازداوجی زندگی کا آغاز 50 برس کی عمر سے کیا۔ ان کے نام یہ ہیں
سیدہ بی بی مدینہ بنت سید میر محمد
سیدہ بی بی صادقہ بنت سید محمد شفیع
سیدہ بی بی مومنہ
سیدہ بی بی صادقہ
شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کی چار ازواج سے انچاس بچے پیدا ہوئے۔ بیس لڑکے اور باقی لڑکیاں۔ جن بیٹوں کے نام ملے وہ یہ ہیں
شیخ سیف الدین عبد الوہاب
شیخ تاج الدین عبد الرزاق
شیخ شرف الدین عیسیٰ
شیخ ابو اسحاق ابراہیم
شیخ ابو بکر عبد العزیز
شیخ ابو زکریا یحیٰ
شیخ عبد الجبار
شیخ ابو نصر موسیٰ
شیخ ابو الفضل محمد
شیخ عبد اللہ
آپ کے چند فرموداتِ
اے انسان، اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسا لے تو ربِ تعالٰی کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اُس وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت و صحبت میسر نہ آجائے
اہلِ دل کی صحبت اختیار کر تاکہ تو بھی صاحبِ دل ہو جائے
میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اُس کو مانتا ہوں، جس کا دل اللہ کا ذکر کرے
شیخ عبد القادر جیلانی کا انتقال 11 ربیع الثانی 561 ہجری بمطابق 12 فروری 1166 کو ہفتہ کی شب کو بغداد میں ہوا اور آپ کی تدفین آپ کے مدرسے کے احاطہ میں ہوئی

No comments:
Post a Comment