Sunday, April 5, 2020

گیارہ شعبان المعظم 42 ہجری یومِ ولادت سیدنا علی اکبر رضی اللہ عنہ

11 شعبان المعظم 42 ہجری
یومِ پیدائش سیدنا علی اکبر بن امام حسین بن علی المرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم

السلام اے شبیہہ پیمبر
السلام اے کربلا کے پہلے ہاشمی شہید

سیدنا علی اکبر بن امام حسین بن مولائے کائنات سیدنا علی بن ابی‌ طالب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے ہیں جو علی اکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کی ولادت 11 شعبان 42 ہجری بمطابق 30 نومبر 662 کو  مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لیلٰی بنت ابی مُرَّه بن عُروَه بن مسعود بن مُعَتِّب ہے ۔آپ کا تعلق قبیلۂ ثقیف سے تھا۔

سیدنا علی اكبر رضی اللہ عنہ والد اور والدہ دونوں کی طرف سے شریف ترین سلسلہ نسب کے مالک تھے۔ والد کی طرف سے آباء و اجداد تعارف کے محتاج نہیں ہیں جبکہ آپ کے نانا عروہ بن مسعود ثقفی وہ بزرگ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو تبلیغ دین کی راہ میں شہید ہوئے اور پیغمبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا : " میں نے عيسٰی ابن مريم  کو دیکھا ہے اور عروة بن مسعود  ان سے بہت زیادہ شباہت رکھتے ہیں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار بزرگ عرب مردوں میں سے ایک قرار دیا

علی اکبر رضی اللہ عنہ نیک خصال اور نیک سیرت ہونے کے علاوہ انتہائی خوبصورت اور خوش سیمان جوان تھے۔ سیدنا علی اکبر رضی اللہ عنہ ظاہری شکل و شمائل اور باطنی سیرت کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے اسی لئے آپ کو شبیہ پیغمبر بھی کہا جاتا ہے اس وجہ سے جب بھی اصحاب پیغمبر کا اپنے نبی کی زیارت کو دل چاہتا تھا تو وہ آپ کی زیارت کرنے چلے آتے

آپ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدان کربلا میں شہید ہوئے۔آپ خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے فرد تھے جنہوں نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے اذن جہاد مانگا اور میدان کارزار میں قدم رکھا۔ آپ شہدائے کربلا میں پہلے ہاشمی شہید تھے۔

جب علی ابن الحسین دشمن سے جنگ کرنے کے لیے میدان کی طرف گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس حالت میں فرمایا : خداوند آپ ان لوگوں پر گواہ رہنا کہ ابھی جو جوان ان سے جنگ کرنے کے لیے گیا ہے، وہ تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ رسول خدا کے مشابہ ہے۔ حضرت علی اکبر ان لوگوں پر حملہ کرتے اور پھر اپنے والد بزرگوار کی طرف واپس پلٹتے اور فرماتے تھے کہ اے بابا جان العطش! یہ سن کر امام حسین رضی اللہ عنہ نے بیٹے سے فرمایا :  اے میرے عزیز تھوڑا صبر کرو، تم اس دنیا میں تھوڑی دیر کے مہمان ہو اور بہت جلد تم اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے جامِ کوثر سے سیراب ہو گے۔ حضرت علی اکبر دشمنوں پر لگاتار حملے کر رہے تھے کہ اچانک ایک تیر آپکے گلے پر لگا اور اس نے گلے کو پھاڑ کر رکھ دیا۔ جب وہ زخموں سے خون میں لت پت تھے تو اپنے بابا کو آواز دی : بابا جان ، آپ پر میرا آخری سلام ہو۔ یہ  میرے پاس ابھی میرے جد رسول خدا ہیں کہ جو آپکو سلام دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ: آپ بھی جلدی سے ہمارے پاس آ جائیں۔ حضرت علی اکبر اتنی بات کر کے شہید ہو گئے۔

یہ 10 محرم الحرام 61 ہجری بمطابق 10 اکتوبر 680 کا دن تھا جب آپ شہید ہوئے

اللہ ہم سب کو اہل بیت اطہار کی محبت پہ زندہ رکھے اور ہماری نسلوں کو بھی اسی محبت پہ موت دے۔ آمین

No comments:

Post a Comment