01 اپریل 1936
یومِ پیدائش محسن پاکستان
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
آج محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وجہ سے ہم دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں
دل سے سلام اور دعا گو ہوں ان کے لیے۔ ان کا احسان ہم نہیں چکا سکتے
پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں یکم اپریل 1936 میں پیدا ہوئے۔ عبدالقدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ ڈاکٹر عبد القدیر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر "انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز" کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعدازاں اس ادارے کا نام صدر یاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کر کے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نومبر 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔
ڈاکٹر عبدالقدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بناء پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں ـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـ
ڈاکٹر عبدالقدیر خان وه مایه ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصه میں انتھک محنت و لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافته سائنس دانوں کو ورطه حیرت میں ڈال دیا۔
مئی 1998ء کو آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابله میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی ـ بالآخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کئے ـ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا که ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ یوں آپ پوری دنیا میں مقبول عام ہوئے۔ سعودی مفتی اعظم نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ اسکے بعد سے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیا گیا تھا۔ مغربی دنیا نے پروپیگنڈہ کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے بخوشی قبول کرلیا۔ پرویز مشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظر بند رہے۔ انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔
1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔
14 اگست 1996ء میں صدر پاکستان فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet کے نام سے ایک فلاحی اداره بنایا، جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سر گرم عمل ہے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔
22 اگست 2016 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے ان کے کالم’’سحر ہونے تک‘‘میں جنرل محمد ضیاء الحق اور ایٹمی پروگرام کے نام سے اپنی یادداشتوں میں کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے اختیار سنبھالنے کے تین ماہ بعد سے ہی ایٹمی پروگرام کو اولین ترجیح دینا شروع کر دی تھی اور مہینہ میں کم از کم دو مرتبہ جنرل نقوی اور مجھ سے تفصیلی ملاقات کر تے تھے۔ ہماری کامیابیوں اور کام کی رفتار سے بے حد خوش ہوتے تھے۔ 1979 کے وسط میں دشمن ممالک کو ہمارے پروگرام کی بھنک پڑ گئی اور ان کو اور غلام اسحٰق خان صاحب کو بڑی فکر ہوئی کہ ایسا نہ ہو کہ سامان کی درآمد پر پابندی سے ہمارا پروگرام بند ہو جائے۔ جب میں نے ان کو بتلایا کہ میں نے اپنا ہوم ورک بہت اچھی طرح کر لیا ہے اور ہمیں قطعی کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تو وہ سُن کر بے حد خوش ہوئے۔ صدر ضیاء الحق اور جناب غلام اسحاق خان صاحب کو پوری طرح یہ احساس تھا کہ ہمارے پروگرام پر ملک کی سلامتی اور مستقبل کا انحصار ہے۔ اس دوران ایک ملک کا فرسٹ سیکرٹری اپنے سفیر کو لے کر (ایک پرائیویٹ کار میں) کہوٹہ کی جانب جاسوسی کی غرض سے گیا۔ جنرل ضیاء اور غلام اسحاق خان صاحب نے ہمارے ڈائریکٹر سکیورٹی کو جو نہایت اعلیٰ، قابل اور چاق و چوبند افسر تھے، ہدایات دیدی تھیں کہ اگر کوئی کہوٹہ کی جاسوس کرتا پکڑا جائے تو اس کی اچھی طرح پٹائی کردیں۔ جب اس ملک کا سفیر اور فرسٹ سیکرٹری کہوٹہ سے پانچ کلومیٹر دور پھروالا قلعہ کے قریب تھے کہ کرنل عبدالرحمٰن کے جوانوں نے ان کی وہ پٹائی کی جو وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے ۔ اسی روز شام کو ہم نے صدر کو جا کر بتا دیا۔تین چار دن بعد دونوں صدر ضیاء الحق سے ملے اور شکایت کی۔ صدر نے ایسا تاثر دیا جیسے ان کو علم ہی نہیں تھا۔ بعد میں جب ہم ملے تو خوب ہنسے اور کہا کہ اب کوئی نہ جائے گا۔ 1983میں ہم نے کئی کولڈ ٹیسٹ کئے اور وہ بہت امید افزاء تھے۔ 1984 میں ہم نے اور ٹیسٹ کئے اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اب ہم کامیابی کے قریب ہیں۔ کرنل عبدالرحمٰن کے مشورہ پر اگر ہم نے یہ بات تحریری طور پر صدر کو نہیں بتائی تو کل کوئی دعویٰ کرے گا کہ اس نے یہ کام کیا ہے اور ان کا یہ شک بعد میں آنے والے حالات نے صحیح ثابت کر دیا۔ 10 دسمبر 1984 کو میں ایک خط لے کر جنرل ضیاء الحق کے پاس گیا۔ خط پڑھ کر انہوں نے مجھے گلے لگا لیا اور پیشانی پر بوسہ دیدیا اور کہا ڈاکٹر صاحب اب اس ملک کا مستقبل محفوظ ہے اور ہمیں کوئی بُری نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ میں نے خط میں ان کو لکھ دیا تھا کہ ہم ان کے حکم پر ایک ہفتہ میں ایٹمی دھماکہ کر سکتے ہیں۔ اس خط کا اعتراف جنرل عارف نے اوریان لیوی مصب ڈیسیپشن میں کیا ہے۔ ایٹمی پروگرام کے بارے میں جنرل ضیاء بہت ہی سخت تھے۔ انہوں نے میرے سامنے جناب آغا شاہی اور بعد میں صاحبزادہ یعقوب خان کو بھی یہ سخت ہدایت کر دی کہ وہ کسی بھی ملک سے ایٹمی پروگرام پر قطعی بات نہ کریں، صاف کہہ دیں کہ یہ بات آپ صدر ضیاء الحق سے کریں۔ ایک ملک نے لا تعداد نمائندے جنرل ضیاء الحق کے پاس بھیجے کہ پروگرام بند کر دیں یا انسپیکشن کیلئے کھول دیں مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام میرے مشورے پر اور میری خدمات کی پیش کش پر مرحوم بھٹو نے شروع کرایا تھا اگر وہ یہ پروگرام شروع نہ کراتے تو آج پاکستان اتنا محفوظ نہ ہوتا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی وفات کے بعد اگر صدر ضیاء الحق اور غلام اسحاق خان مغربی دباؤ رد نہ کرتے تو بھی ہمارا پروگرام ختم ہو سکتا تھا۔ اور اس تمام کام کا سہرا تو ابالآخر ہم گمنام ایٹمی ہیروز کے سروں پر ہی سجتا ہے۔ جنرل ورنن والٹرز بہت تجربہ کار اور با اثر تھا وہ دوسری جنگ عظیم کا ویٹرن تھا اور یو این میں بھی نمائندہ رہ چکا تھا۔ اس نے صدر جنرل ضیاء الحق کو ان الفاظ سے خراج تحسین پیش کیا ہے ’’یا تو جنرل ضیاء الحق کو واقعی ایٹمی پروگرام کے بارے میں کچھ علم نہیں یا وہ اس قدر محب وطن دروغ گو ہے کہ اس جیسا شخص میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا‘‘ یہ بیان صدر ریگن کی شائع شدہ دستاویزات میں موجود ہے۔
لیکن پھر وقت بدلا اور 30 جنوری 2004 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے ہی گھر میں نظر بند کر دیا گیا ۔ اس محسن کو جسے دو بار نشان امتیاز سے نوازا جس کے سینے پر ہلال امتیاز سجایا مگر پھر خود ہی اس کے چہرے پر سیاہی مَلنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ قوموں پر اچھے برے وقت آتے ہیں مگر ماضی قریب میں کوئی ایسا حاکم نہیں دیکھا جس نے اپنی قوم کے محسن کے ساتھ اتنا ذلت آمیز سلوک کیا ہو۔ وہ جس کی مُٹھی میں ایٹمی ٹیکنالوجی بند تھی اسے اسی کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
4 فروری 2004 وہ سیاہ دن تھا جب قوم کے محسن نے ٹیلی ویژن پر آکر قوم سے معافی مانگی اور اعترافی بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ” میں رضاکارانہ طور پر خود پر لگائے گئے الزامات قبول کرتا ہو ‘‘ ہائے رے قسمت، ایک وہ وقت تھا کہ جب ایک آمر نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی پر ایک بٹالین رکھی تھی کہ کہیں ایٹمی طاقت بنانے والے کو کوئی نقصان نا پہنچے اور چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ ایک اور آمر نے امریکی دباؤ پر کیسے اپنے محسن کو رسوا کیا ۔آج آپ کے یومِ پیدائش پر آپ سے شرمندہ اور معافی کے طلبگار ہیں کیونکہ ہم فرشتوں کے دیس میں رہتے ہیں جہاں آپ جیسے خطا کار محسن کی جگہ نہیں ہے۔
میرے مالک میرے محسن کو سدا سلامت رکھنا۔ آمین
یومِ پیدائش محسن پاکستان
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
آج محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وجہ سے ہم دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں
دل سے سلام اور دعا گو ہوں ان کے لیے۔ ان کا احسان ہم نہیں چکا سکتے
پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں یکم اپریل 1936 میں پیدا ہوئے۔ عبدالقدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ ڈاکٹر عبد القدیر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر "انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز" کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعدازاں اس ادارے کا نام صدر یاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کر کے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نومبر 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔
ڈاکٹر عبدالقدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بناء پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں ـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـ
ڈاکٹر عبدالقدیر خان وه مایه ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصه میں انتھک محنت و لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافته سائنس دانوں کو ورطه حیرت میں ڈال دیا۔
مئی 1998ء کو آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابله میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی ـ بالآخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کئے ـ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا که ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ یوں آپ پوری دنیا میں مقبول عام ہوئے۔ سعودی مفتی اعظم نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ اسکے بعد سے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیا گیا تھا۔ مغربی دنیا نے پروپیگنڈہ کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے بخوشی قبول کرلیا۔ پرویز مشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظر بند رہے۔ انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔
1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔
14 اگست 1996ء میں صدر پاکستان فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet کے نام سے ایک فلاحی اداره بنایا، جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سر گرم عمل ہے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔
22 اگست 2016 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے ان کے کالم’’سحر ہونے تک‘‘میں جنرل محمد ضیاء الحق اور ایٹمی پروگرام کے نام سے اپنی یادداشتوں میں کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے اختیار سنبھالنے کے تین ماہ بعد سے ہی ایٹمی پروگرام کو اولین ترجیح دینا شروع کر دی تھی اور مہینہ میں کم از کم دو مرتبہ جنرل نقوی اور مجھ سے تفصیلی ملاقات کر تے تھے۔ ہماری کامیابیوں اور کام کی رفتار سے بے حد خوش ہوتے تھے۔ 1979 کے وسط میں دشمن ممالک کو ہمارے پروگرام کی بھنک پڑ گئی اور ان کو اور غلام اسحٰق خان صاحب کو بڑی فکر ہوئی کہ ایسا نہ ہو کہ سامان کی درآمد پر پابندی سے ہمارا پروگرام بند ہو جائے۔ جب میں نے ان کو بتلایا کہ میں نے اپنا ہوم ورک بہت اچھی طرح کر لیا ہے اور ہمیں قطعی کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تو وہ سُن کر بے حد خوش ہوئے۔ صدر ضیاء الحق اور جناب غلام اسحاق خان صاحب کو پوری طرح یہ احساس تھا کہ ہمارے پروگرام پر ملک کی سلامتی اور مستقبل کا انحصار ہے۔ اس دوران ایک ملک کا فرسٹ سیکرٹری اپنے سفیر کو لے کر (ایک پرائیویٹ کار میں) کہوٹہ کی جانب جاسوسی کی غرض سے گیا۔ جنرل ضیاء اور غلام اسحاق خان صاحب نے ہمارے ڈائریکٹر سکیورٹی کو جو نہایت اعلیٰ، قابل اور چاق و چوبند افسر تھے، ہدایات دیدی تھیں کہ اگر کوئی کہوٹہ کی جاسوس کرتا پکڑا جائے تو اس کی اچھی طرح پٹائی کردیں۔ جب اس ملک کا سفیر اور فرسٹ سیکرٹری کہوٹہ سے پانچ کلومیٹر دور پھروالا قلعہ کے قریب تھے کہ کرنل عبدالرحمٰن کے جوانوں نے ان کی وہ پٹائی کی جو وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے ۔ اسی روز شام کو ہم نے صدر کو جا کر بتا دیا۔تین چار دن بعد دونوں صدر ضیاء الحق سے ملے اور شکایت کی۔ صدر نے ایسا تاثر دیا جیسے ان کو علم ہی نہیں تھا۔ بعد میں جب ہم ملے تو خوب ہنسے اور کہا کہ اب کوئی نہ جائے گا۔ 1983میں ہم نے کئی کولڈ ٹیسٹ کئے اور وہ بہت امید افزاء تھے۔ 1984 میں ہم نے اور ٹیسٹ کئے اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اب ہم کامیابی کے قریب ہیں۔ کرنل عبدالرحمٰن کے مشورہ پر اگر ہم نے یہ بات تحریری طور پر صدر کو نہیں بتائی تو کل کوئی دعویٰ کرے گا کہ اس نے یہ کام کیا ہے اور ان کا یہ شک بعد میں آنے والے حالات نے صحیح ثابت کر دیا۔ 10 دسمبر 1984 کو میں ایک خط لے کر جنرل ضیاء الحق کے پاس گیا۔ خط پڑھ کر انہوں نے مجھے گلے لگا لیا اور پیشانی پر بوسہ دیدیا اور کہا ڈاکٹر صاحب اب اس ملک کا مستقبل محفوظ ہے اور ہمیں کوئی بُری نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ میں نے خط میں ان کو لکھ دیا تھا کہ ہم ان کے حکم پر ایک ہفتہ میں ایٹمی دھماکہ کر سکتے ہیں۔ اس خط کا اعتراف جنرل عارف نے اوریان لیوی مصب ڈیسیپشن میں کیا ہے۔ ایٹمی پروگرام کے بارے میں جنرل ضیاء بہت ہی سخت تھے۔ انہوں نے میرے سامنے جناب آغا شاہی اور بعد میں صاحبزادہ یعقوب خان کو بھی یہ سخت ہدایت کر دی کہ وہ کسی بھی ملک سے ایٹمی پروگرام پر قطعی بات نہ کریں، صاف کہہ دیں کہ یہ بات آپ صدر ضیاء الحق سے کریں۔ ایک ملک نے لا تعداد نمائندے جنرل ضیاء الحق کے پاس بھیجے کہ پروگرام بند کر دیں یا انسپیکشن کیلئے کھول دیں مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام میرے مشورے پر اور میری خدمات کی پیش کش پر مرحوم بھٹو نے شروع کرایا تھا اگر وہ یہ پروگرام شروع نہ کراتے تو آج پاکستان اتنا محفوظ نہ ہوتا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی وفات کے بعد اگر صدر ضیاء الحق اور غلام اسحاق خان مغربی دباؤ رد نہ کرتے تو بھی ہمارا پروگرام ختم ہو سکتا تھا۔ اور اس تمام کام کا سہرا تو ابالآخر ہم گمنام ایٹمی ہیروز کے سروں پر ہی سجتا ہے۔ جنرل ورنن والٹرز بہت تجربہ کار اور با اثر تھا وہ دوسری جنگ عظیم کا ویٹرن تھا اور یو این میں بھی نمائندہ رہ چکا تھا۔ اس نے صدر جنرل ضیاء الحق کو ان الفاظ سے خراج تحسین پیش کیا ہے ’’یا تو جنرل ضیاء الحق کو واقعی ایٹمی پروگرام کے بارے میں کچھ علم نہیں یا وہ اس قدر محب وطن دروغ گو ہے کہ اس جیسا شخص میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا‘‘ یہ بیان صدر ریگن کی شائع شدہ دستاویزات میں موجود ہے۔
لیکن پھر وقت بدلا اور 30 جنوری 2004 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے ہی گھر میں نظر بند کر دیا گیا ۔ اس محسن کو جسے دو بار نشان امتیاز سے نوازا جس کے سینے پر ہلال امتیاز سجایا مگر پھر خود ہی اس کے چہرے پر سیاہی مَلنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ قوموں پر اچھے برے وقت آتے ہیں مگر ماضی قریب میں کوئی ایسا حاکم نہیں دیکھا جس نے اپنی قوم کے محسن کے ساتھ اتنا ذلت آمیز سلوک کیا ہو۔ وہ جس کی مُٹھی میں ایٹمی ٹیکنالوجی بند تھی اسے اسی کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
4 فروری 2004 وہ سیاہ دن تھا جب قوم کے محسن نے ٹیلی ویژن پر آکر قوم سے معافی مانگی اور اعترافی بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ” میں رضاکارانہ طور پر خود پر لگائے گئے الزامات قبول کرتا ہو ‘‘ ہائے رے قسمت، ایک وہ وقت تھا کہ جب ایک آمر نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی پر ایک بٹالین رکھی تھی کہ کہیں ایٹمی طاقت بنانے والے کو کوئی نقصان نا پہنچے اور چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ ایک اور آمر نے امریکی دباؤ پر کیسے اپنے محسن کو رسوا کیا ۔آج آپ کے یومِ پیدائش پر آپ سے شرمندہ اور معافی کے طلبگار ہیں کیونکہ ہم فرشتوں کے دیس میں رہتے ہیں جہاں آپ جیسے خطا کار محسن کی جگہ نہیں ہے۔
میرے مالک میرے محسن کو سدا سلامت رکھنا۔ آمین

No comments:
Post a Comment