21 اپریل 1938
20 صفر المظفر 1357 ہجری
یومِ وفات علامہ محمد اقبال
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا
سوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر
مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر
کیا دبدبۂ نادر کیا شوکت تیموری
ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر
خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی
چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1899ء میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ 1905ء میں وہ یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد آپ وکالت کے پیشے سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوگئے۔ علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز زمانۂ طالب علمی ہی سے ہوچکا تھا۔ ابتداء میں انہوں نے داغ دہلوی سے اصلاح لی۔ 1910ء کی دہائی میں آپ نے شکوہ، جواب شکوہ، شمع اور شاعر اور خضر راہ جیسی یادگار نظمیں تحریر کیں۔ اسی زمانے میں آپ کی فارسی مثنویاں اسرار خودی اور رموز بے خودی شائع ہوئیں۔ 1922ء میں حکومت برطانیہ نے آپ کو سر کا خطاب عطا کیا۔ 1930ء میں آپ نے الٰہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا
علامہ سر محمد اقبال کا انتقال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں ہوا۔ آپ کو بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کے پاس سپرد خاک کیا گیا
علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبرئیل، اسرار خودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، پس چے چہ باید کرد اے اقوام شرق اور ارمغان حجاز کے نام شامل ہیں۔ انہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑا اردو شاعر تسلیم کیا جاتا ہے
سر علامہ محمد اقبال کی زندگی تاریخ کے آئینے میں
9 نومبر 1877ء بروز جمعہ شیخ محمد اقبال شیخ نور محمد کے ہاں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے
= 1891ء اسکاچ مشن ہائی اسکول سیالکوٹ سے مڈل پاس کیا
= 4 مئی 1893ء : کریم بی بی سے پہلی شادی ہوئی
= 4 مئی 1893ء اسکاچ مشن ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا
= 1895ء اسکاچ مشن ہائی اسکول (جو اب کالج بن چکا تھا) سے ایف اے پاس کیا اور اعلٰی تعلیم کے لیے لاہور منتقل ہوگئے
= دسمبر 1895ء حکیم شجاع احمد اور دین محمد نے اُردو بزمِ مشاعرہ" قائم کی ہوئی تھی - اس بزم کے دوسرے اجلاس میں انہوں نے سیالکوٹ سے لاہور منتقلی کے بعد کسی بھی مشاعرے میں پہلی بار شرکت کی اور اپنی غزل "موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے" سُنائی
= 1897ء گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے پاس کیا
=12 نومبر 1899ء انجمن حمایت اسلام لاہور کی مجلس انتظامیہ کے رکن منتخب ہوئے
= 1899ء انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں نظم "فریادِ اُمت" پڑھی
= 1899ء گورنمنٹ کالج لاھور سے ایم اے (فلسفہ) پاس کیا
= 13 مئی 1899ء یونیورسٹی اوریئنٹل کالج میں میکوڈ عریبک ریڈر مقرر ہوئے
= یکم جنوری 1901ء اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے
= 14 فروری 1900ء انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں "نالۂ یتیم" پڑھی - اس اجلاس کی صدارت ڈپٹی نذیر احمد نے کی تھی
= اپریل 1901ء شمارہ "مخزن" میں شیخ محمد اقبال ایم اے قائم مقام پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور کی پہلی نظم ہمالہ "کوہستانِ ہمالہ" کے عنوان سے شائع ہوئی
= مئی 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "گلِ رنگین" شائع ہوئی
= جون 1901ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل " نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی" شائع ہوئی
= جولائی 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "عہدِ طفلی" شائع ہوئی
= ستمبر 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "مرزا غالب" شائع ہوئی
= نومبر 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "ابرِ کوہسار" شائع ہوئی
= جنوری 1902ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "چاہیں اگر تو اپنا کرشمہ دکھائیں ہم" شائع ہوئی
= فروری 1902ء شمارہ "مخزن" میں نظم "خفگانِ خاک سے استفسار" شائع ہوئی
= مارچ 1902ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "دِل کی بستی عجیب بستی ہے" شائع ہوئی
= اپریل 1902ء میں ایک نظم "شمع و پروانہ" شائع ہوئی
= مئی 1902ء شمارہ "مخزن" میں "خطِ منظوم" جو "بانگِ درا" میں "عقل و دِل" کے عنوان سے موجود ہے شائع ہوئی
= جون 1902ء شمارہ "مخزن" میں "صدائے درد" شائع ہوئی
= جولائی 1902ء شمارہ "مخزن" میں نظم "ماتمِ پسر" جو "بانگِ درا" میں شامل نہیں شائع ہوئی
= اگست 1902ء شمارہ "مخزن" میں نظم "آفتاب" شائع ہوئی
= ستمبر 1902ء شمارہ "مخزن" میں ڈاکٹر رائٹ برجنٹ کے ایک مضمون کا ترجمہ "زبانِ اُردو" کر کے شائع کرایا
= 13 اکتوبر 1902ء گورنمنٹ کالج لاھور میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے
= اکتوبر 1902ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "عاشق دیدار محشر کا تمنائی ہوا" شائع ہوئی
= دسمبر 1902ء شمارہ "مخزن" میں دو نظمیں "شمع" اور "ایک آرزو" شائع ہوئیں
= جنوری 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "سید کی لوحِ تربت" شائع ہوئی
= فروری 1903ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا" شائع ہوئی
= اپریل 1903ء شمارہ "مخزن" میں دو تازہ غزلیں "لڑکپن کے ہیں دن صورت کسی کی بھولی بھولی ہے" اور "ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی" شائع ہوئیں
= مئی 1903ء شمارہ "مخزن" میں "اہلِ درد" کے عنوان کے تحت دو ہم زمیں غزلیں شائع ہوئیں
= 3 جون 1903ء گورنمنٹ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر (فلسفہ) مقرر ہوئے
= اگست 1903ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "عبادت میں زاہد کو مسرور رہنا" شائع ہوئی
= ستمبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "برگِ گُل" شائع ہوئی
= اکتوبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں ایک مضمون شائع ہوا
= نومبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "عشق اور موت" اور ایک قصیدہ جو ہزہائنس نواب محمد بہاول خاں عباسی پنجم کی تخت نشینی کے موقع پر لکھا گیا شائع ہوئے
= دسمبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "زہد و رندی" شائع ہوئی
= فروری 1904ء شمارہ "مخزن" میں نظم "طفلِ شیرخوار" شائع ہوئی
= مارچ 1904ء شمارہ "مخزن" میں در نظمیں "رخصت اے بزمِ جہاں" اور "تصویرِ درد" شائع ہوئیں
= اپریل 1904ء شمارہ "مخزن" میں "علم الاقتصاد" کا ایک باب "آبادی" شائع ہوا
= مئی 1904ء شمارہ "مخزن" میں نظم "نالۂ فراق" شائع ہوئی
= جولائی 1904ء شمارہ "مخزن" میں نظم "چاند" شائع ہوئی
= ستمبر 1904ء شمارہ "مخزن" میں ایک نظم "ہلال" اور ایک غزل "نگاہ پائی ازل سے جو نکتہ بیں میں نے" یہ غزل "بانگِ دردا" میں "سرگذشتِ آدم" کے عنوان سے شامل ہے ، شائع ہوئیں
= دسمبر 1904ء شمارہ "مخزن" میں دو نظمیں "جگنو" اور "صبح کا ستارہ" شائع ہوئیں
= جنوری 1905ء شمارہ "مخزن" میں فارسی نظم "سپاس کنابِ امیر" شائع ہوئی
= فروری 1905ء شمارہ "مخزن" میں "ہندوستانی بچوں کا قومی گیت" شائع ہوا
= مارچ 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "نیا شوالہ" شائع ہوئی
= اپریل 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "داغ" شائع ہوئی
= مئی 1905ء شمارہ "مخزن" میں غزل "مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے" شائع ہوئ
= یکم ستمبر 1905ء اعلٰی تعلیم کے لیے انگلستان روانہ ہوئے
= اکتوبر 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "التجائے مسافر" شائع ہوئی
= نومبر 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "کنارِ راوی" شائع ہوئی
= دسمبر 1906ء شمارہ "مخزن" میں دو غزلیں شائع ہوئیں
= جنوری 1907ء شمارہ "مخزن" میں نظم "سوامی رام تیرتھ" شائع ہوئی
= فروری 1907ء شمارہ "مخزن" میں نظم" پرندے کی فریاد" شائع ہوئی
= اپریل 1907ء شمارہ "مخزن" میں "علم الاقتصاد" کا اشتہار شائع ہوا
= 1907ء : میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی
= یکم جولائی 1908ء لنکنز ان سے بار ایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی
= اگست 1908ء شمارہ "مخزن" میں نظم "جزیرہ سسلی" انگلستان سے واپسی پر شائع ہوئی
= دسمبر 1908ء شمارہ "مخزن" میں نظم "عبدالقادر کے نام" شائع ہوئی
= اپریل 1909ء شمارہ "مخزن" میں نظم "بلادِ اسلامیہ" شائع ہوئی
= 7 اپریل 1910ء عطیہ فیضی کو خط لکھا
= جون 1910ء شمارہ مخزن" میں دو نظمیں "شکریہ" اور "گورستان" جو شیخ عبدالقادر نے "مخزن" کے طریقۂ کار کو تبدیل کرکے مضامین سے پہلے جگہ دے کر شائع کیں
=۔مئی 1911ء شمارہ "مخزن" میں انجمن کے سالانہ جلسے میں پڑھا گیا کلام شائع ہوا
= 7 جولائی 1911ء عطیہ فیضی کو خط لکھا
=۔اکتوبر 1911ء شمارہ "مخزن" میں نظم "غزۃٔ شوال" شائع ہوئی
= جنوری 1912ء شمارہ "مخزن" میں نظم "ہمارا تاجدار" شائع ہوئی
= مارچ 1912ء شمارہ "العصر" لکھنؤ(مدیر ،پیارے لال شاکر میرٹھی) میں نظم "درد عشق" شائع ہوئی
= 23 نومبر 1913ء مہاراجہ کشن پرشاد شاد کو خط لکھا
=۔29 اپریل 1914ء کے "زمیندار" میں انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے سالانہ جلسے میں پڑھی گئی نظم کا کچھ حصہ شائع ہوا
= 9 ستمبر 1915ء مہاراجہ کشن پرشاد شاد کو خط لکھا
= 15 ستمبر 1918ء پنجاب پبلسٹی کمیٹی لاہور کے مشاعرے میں شرکت کی اور اپنا فارسی کلام پڑھا
=اکتوبر 1919ء شمارہ "معارف" اعظم گڑھ میں ایک قطعہ شائع ہوا
= 18 مئی 1923ء مہاراجہ کشن پرشاد شاد کو خط لکھا
= 3 ستمبر 1924ء "بانگِ درا" کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا
= اپریل 1926ء "بانگِ درا" کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا
= 27 دسمبر 1930 کو نواب آف بہاولپور نے انجمن حمایت اسلام کی صدارت کی، جس میں سپاس نامہ علامہ اقبال نے پیش کیا
= 29 دسمبر 1930ء مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الہ آباد کی صدارت فرمائی
=29 دسمبر 1932 غالب نامہ کے مصنف شیخ محمد اکرام نے لندن میں ملاقات کی
= جنوری 1935ء "بالِ جبریل" کا پہلا ایڈیشن تاج کمپنی لمٹیڈ لاہور سے شائع ہوا
= 13 اکتوبر 1935ء وصیت نامہ لکھوایا
= جولائی 1936ء جولائی گورنمنٹ کالج لاہور کے مشاعرے میں شرکت کی جہاں انہوں نے فیض احمد فیض کو "مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ" پڑھنے پر فیض احمد فیض کو بُلا کر بہت داد دی
= 27 اپریل 1937ء انجمن حمایت اسلام لاہور کے صدر منتخب ہوئے
= 28 مئی 1937ء قائد اعظم کو خط لکھا
= 21 جون 1937ء قائد اعظم کو خط لکھا
= 20 اپریل 1938ء صبح ناشتے میں دلیے کے ساتھ چائے پی۔ میاں محمد شفیع نے اخبار پڑھ کر سنوایا۔ حجام سے شیو بنوائی۔ شام 4:30 بجے بیرن جان والتھائیم ملنے آئے اُن کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت کرتے رہے - شام کو اپنا پلنگ خوابگاہ سے اُٹھوا کر دالان میں بچھوایا - ایک گھنٹے بعد پلنگ گول کمرے میں لانے کو کہا - وہاں حسبِ عادت منیزہ اُن کے بستر میں گھس کر اُن سے لپٹ گئی۔ اُس رات معمول سے ہٹ کر زیادہ دیر اُن کے ساتھ رہی۔ جب اُس کو ہٹنے کے لیے کہا گیا تو وہ نہ ہٹی۔ اس پر انہوں نے انگریزی میں کہا "اُسے اُس کی حِس آگاہ کر رہی ہے کہ شاید باپ سے یہ آخری ملاقات ہے" اس کے وہاں سے چلے جانے کے بعد فاطمہ بیگم ،پرنسپل اسلامیہ کالج برائے خواتین نے ملاقات کی۔ رات تقریباً 8 بجے چودھری محمد حسین ، سید نذیر نیازی ، سید سلامت اللہ شاہ ، حکیم محمد حسن قرشی اور راجہ حسن اختر آ گئے۔ ڈاکٹروں کے بورڈ نے اُن کا معائنہ کیا - اُس رات وہ زیادہ ہشاش بشاش نظر آ رہے تھے۔ 11 بجے رات انہیں نیند آ گئی لیکن گھنٹہ بھر سونے کے بعد شانوں میں درد کے باعث جلد بیدار ہوگئے - ڈاکٹروں نے خواب آوار دوا دینے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ "دوا میں افیون کے اجزا ہیں اور مَیں بے ہوشی کے عالم میں مرنا نہیں چاہتا"
رات 3 بجے کے قریب اُن کی حالت اچانک پھر خراب ہو گئی۔ انہوں نے اپنا پلنگ گول کمرے سے واپس خواب گاہ میں رکھوایا
20 صفر المظفر 1357 ہجری بمطابق 21 اپریل 1938 بروز جمعرات صبح ڈاکٹر عبدالقیوم میاں محمد شفیع فجر کی نماز ادا کرنے مسجد گئے ہوئے تھے تو انہیں پھر شدید درد ہوا جس پر انہوں نے "اللہ" کہا اور پھر 5 بجکر 14 منٹ پر اللہ کو پیارے ہوگئے ... انا للہ و انا الیہ راجعون
5 بجے شام جاوید منزل سے جنازہ اُٹھایا گیا۔ اسلامیہ کالج کے گراؤنڈ میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی
سیالکوٹ سے شیخ عطا محمد رات نو بجے کے بعد لاہور پہنچے۔ پونے دس بجے رات سپردِ خاک کر دئیے گئے
20 صفر المظفر 1357 ہجری
یومِ وفات علامہ محمد اقبال
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا
سوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر
مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر
کیا دبدبۂ نادر کیا شوکت تیموری
ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر
خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی
چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1899ء میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ 1905ء میں وہ یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد آپ وکالت کے پیشے سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوگئے۔ علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز زمانۂ طالب علمی ہی سے ہوچکا تھا۔ ابتداء میں انہوں نے داغ دہلوی سے اصلاح لی۔ 1910ء کی دہائی میں آپ نے شکوہ، جواب شکوہ، شمع اور شاعر اور خضر راہ جیسی یادگار نظمیں تحریر کیں۔ اسی زمانے میں آپ کی فارسی مثنویاں اسرار خودی اور رموز بے خودی شائع ہوئیں۔ 1922ء میں حکومت برطانیہ نے آپ کو سر کا خطاب عطا کیا۔ 1930ء میں آپ نے الٰہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا
علامہ سر محمد اقبال کا انتقال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں ہوا۔ آپ کو بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کے پاس سپرد خاک کیا گیا
علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبرئیل، اسرار خودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، پس چے چہ باید کرد اے اقوام شرق اور ارمغان حجاز کے نام شامل ہیں۔ انہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑا اردو شاعر تسلیم کیا جاتا ہے
سر علامہ محمد اقبال کی زندگی تاریخ کے آئینے میں
9 نومبر 1877ء بروز جمعہ شیخ محمد اقبال شیخ نور محمد کے ہاں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے
= 1891ء اسکاچ مشن ہائی اسکول سیالکوٹ سے مڈل پاس کیا
= 4 مئی 1893ء : کریم بی بی سے پہلی شادی ہوئی
= 4 مئی 1893ء اسکاچ مشن ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا
= 1895ء اسکاچ مشن ہائی اسکول (جو اب کالج بن چکا تھا) سے ایف اے پاس کیا اور اعلٰی تعلیم کے لیے لاہور منتقل ہوگئے
= دسمبر 1895ء حکیم شجاع احمد اور دین محمد نے اُردو بزمِ مشاعرہ" قائم کی ہوئی تھی - اس بزم کے دوسرے اجلاس میں انہوں نے سیالکوٹ سے لاہور منتقلی کے بعد کسی بھی مشاعرے میں پہلی بار شرکت کی اور اپنی غزل "موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے" سُنائی
= 1897ء گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے پاس کیا
=12 نومبر 1899ء انجمن حمایت اسلام لاہور کی مجلس انتظامیہ کے رکن منتخب ہوئے
= 1899ء انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں نظم "فریادِ اُمت" پڑھی
= 1899ء گورنمنٹ کالج لاھور سے ایم اے (فلسفہ) پاس کیا
= 13 مئی 1899ء یونیورسٹی اوریئنٹل کالج میں میکوڈ عریبک ریڈر مقرر ہوئے
= یکم جنوری 1901ء اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے
= 14 فروری 1900ء انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں "نالۂ یتیم" پڑھی - اس اجلاس کی صدارت ڈپٹی نذیر احمد نے کی تھی
= اپریل 1901ء شمارہ "مخزن" میں شیخ محمد اقبال ایم اے قائم مقام پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور کی پہلی نظم ہمالہ "کوہستانِ ہمالہ" کے عنوان سے شائع ہوئی
= مئی 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "گلِ رنگین" شائع ہوئی
= جون 1901ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل " نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی" شائع ہوئی
= جولائی 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "عہدِ طفلی" شائع ہوئی
= ستمبر 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "مرزا غالب" شائع ہوئی
= نومبر 1901ء شمارہ "مخزن" میں نظم "ابرِ کوہسار" شائع ہوئی
= جنوری 1902ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "چاہیں اگر تو اپنا کرشمہ دکھائیں ہم" شائع ہوئی
= فروری 1902ء شمارہ "مخزن" میں نظم "خفگانِ خاک سے استفسار" شائع ہوئی
= مارچ 1902ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "دِل کی بستی عجیب بستی ہے" شائع ہوئی
= اپریل 1902ء میں ایک نظم "شمع و پروانہ" شائع ہوئی
= مئی 1902ء شمارہ "مخزن" میں "خطِ منظوم" جو "بانگِ درا" میں "عقل و دِل" کے عنوان سے موجود ہے شائع ہوئی
= جون 1902ء شمارہ "مخزن" میں "صدائے درد" شائع ہوئی
= جولائی 1902ء شمارہ "مخزن" میں نظم "ماتمِ پسر" جو "بانگِ درا" میں شامل نہیں شائع ہوئی
= اگست 1902ء شمارہ "مخزن" میں نظم "آفتاب" شائع ہوئی
= ستمبر 1902ء شمارہ "مخزن" میں ڈاکٹر رائٹ برجنٹ کے ایک مضمون کا ترجمہ "زبانِ اُردو" کر کے شائع کرایا
= 13 اکتوبر 1902ء گورنمنٹ کالج لاھور میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے
= اکتوبر 1902ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "عاشق دیدار محشر کا تمنائی ہوا" شائع ہوئی
= دسمبر 1902ء شمارہ "مخزن" میں دو نظمیں "شمع" اور "ایک آرزو" شائع ہوئیں
= جنوری 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "سید کی لوحِ تربت" شائع ہوئی
= فروری 1903ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا" شائع ہوئی
= اپریل 1903ء شمارہ "مخزن" میں دو تازہ غزلیں "لڑکپن کے ہیں دن صورت کسی کی بھولی بھولی ہے" اور "ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی" شائع ہوئیں
= مئی 1903ء شمارہ "مخزن" میں "اہلِ درد" کے عنوان کے تحت دو ہم زمیں غزلیں شائع ہوئیں
= 3 جون 1903ء گورنمنٹ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر (فلسفہ) مقرر ہوئے
= اگست 1903ء شمارہ "مخزن" میں ایک غزل "عبادت میں زاہد کو مسرور رہنا" شائع ہوئی
= ستمبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "برگِ گُل" شائع ہوئی
= اکتوبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں ایک مضمون شائع ہوا
= نومبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "عشق اور موت" اور ایک قصیدہ جو ہزہائنس نواب محمد بہاول خاں عباسی پنجم کی تخت نشینی کے موقع پر لکھا گیا شائع ہوئے
= دسمبر 1903ء شمارہ "مخزن" میں نظم "زہد و رندی" شائع ہوئی
= فروری 1904ء شمارہ "مخزن" میں نظم "طفلِ شیرخوار" شائع ہوئی
= مارچ 1904ء شمارہ "مخزن" میں در نظمیں "رخصت اے بزمِ جہاں" اور "تصویرِ درد" شائع ہوئیں
= اپریل 1904ء شمارہ "مخزن" میں "علم الاقتصاد" کا ایک باب "آبادی" شائع ہوا
= مئی 1904ء شمارہ "مخزن" میں نظم "نالۂ فراق" شائع ہوئی
= جولائی 1904ء شمارہ "مخزن" میں نظم "چاند" شائع ہوئی
= ستمبر 1904ء شمارہ "مخزن" میں ایک نظم "ہلال" اور ایک غزل "نگاہ پائی ازل سے جو نکتہ بیں میں نے" یہ غزل "بانگِ دردا" میں "سرگذشتِ آدم" کے عنوان سے شامل ہے ، شائع ہوئیں
= دسمبر 1904ء شمارہ "مخزن" میں دو نظمیں "جگنو" اور "صبح کا ستارہ" شائع ہوئیں
= جنوری 1905ء شمارہ "مخزن" میں فارسی نظم "سپاس کنابِ امیر" شائع ہوئی
= فروری 1905ء شمارہ "مخزن" میں "ہندوستانی بچوں کا قومی گیت" شائع ہوا
= مارچ 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "نیا شوالہ" شائع ہوئی
= اپریل 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "داغ" شائع ہوئی
= مئی 1905ء شمارہ "مخزن" میں غزل "مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے" شائع ہوئ
= یکم ستمبر 1905ء اعلٰی تعلیم کے لیے انگلستان روانہ ہوئے
= اکتوبر 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "التجائے مسافر" شائع ہوئی
= نومبر 1905ء شمارہ "مخزن" میں نظم "کنارِ راوی" شائع ہوئی
= دسمبر 1906ء شمارہ "مخزن" میں دو غزلیں شائع ہوئیں
= جنوری 1907ء شمارہ "مخزن" میں نظم "سوامی رام تیرتھ" شائع ہوئی
= فروری 1907ء شمارہ "مخزن" میں نظم" پرندے کی فریاد" شائع ہوئی
= اپریل 1907ء شمارہ "مخزن" میں "علم الاقتصاد" کا اشتہار شائع ہوا
= 1907ء : میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی
= یکم جولائی 1908ء لنکنز ان سے بار ایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی
= اگست 1908ء شمارہ "مخزن" میں نظم "جزیرہ سسلی" انگلستان سے واپسی پر شائع ہوئی
= دسمبر 1908ء شمارہ "مخزن" میں نظم "عبدالقادر کے نام" شائع ہوئی
= اپریل 1909ء شمارہ "مخزن" میں نظم "بلادِ اسلامیہ" شائع ہوئی
= 7 اپریل 1910ء عطیہ فیضی کو خط لکھا
= جون 1910ء شمارہ مخزن" میں دو نظمیں "شکریہ" اور "گورستان" جو شیخ عبدالقادر نے "مخزن" کے طریقۂ کار کو تبدیل کرکے مضامین سے پہلے جگہ دے کر شائع کیں
=۔مئی 1911ء شمارہ "مخزن" میں انجمن کے سالانہ جلسے میں پڑھا گیا کلام شائع ہوا
= 7 جولائی 1911ء عطیہ فیضی کو خط لکھا
=۔اکتوبر 1911ء شمارہ "مخزن" میں نظم "غزۃٔ شوال" شائع ہوئی
= جنوری 1912ء شمارہ "مخزن" میں نظم "ہمارا تاجدار" شائع ہوئی
= مارچ 1912ء شمارہ "العصر" لکھنؤ(مدیر ،پیارے لال شاکر میرٹھی) میں نظم "درد عشق" شائع ہوئی
= 23 نومبر 1913ء مہاراجہ کشن پرشاد شاد کو خط لکھا
=۔29 اپریل 1914ء کے "زمیندار" میں انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے سالانہ جلسے میں پڑھی گئی نظم کا کچھ حصہ شائع ہوا
= 9 ستمبر 1915ء مہاراجہ کشن پرشاد شاد کو خط لکھا
= 15 ستمبر 1918ء پنجاب پبلسٹی کمیٹی لاہور کے مشاعرے میں شرکت کی اور اپنا فارسی کلام پڑھا
=اکتوبر 1919ء شمارہ "معارف" اعظم گڑھ میں ایک قطعہ شائع ہوا
= 18 مئی 1923ء مہاراجہ کشن پرشاد شاد کو خط لکھا
= 3 ستمبر 1924ء "بانگِ درا" کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا
= اپریل 1926ء "بانگِ درا" کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا
= 27 دسمبر 1930 کو نواب آف بہاولپور نے انجمن حمایت اسلام کی صدارت کی، جس میں سپاس نامہ علامہ اقبال نے پیش کیا
= 29 دسمبر 1930ء مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الہ آباد کی صدارت فرمائی
=29 دسمبر 1932 غالب نامہ کے مصنف شیخ محمد اکرام نے لندن میں ملاقات کی
= جنوری 1935ء "بالِ جبریل" کا پہلا ایڈیشن تاج کمپنی لمٹیڈ لاہور سے شائع ہوا
= 13 اکتوبر 1935ء وصیت نامہ لکھوایا
= جولائی 1936ء جولائی گورنمنٹ کالج لاہور کے مشاعرے میں شرکت کی جہاں انہوں نے فیض احمد فیض کو "مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ" پڑھنے پر فیض احمد فیض کو بُلا کر بہت داد دی
= 27 اپریل 1937ء انجمن حمایت اسلام لاہور کے صدر منتخب ہوئے
= 28 مئی 1937ء قائد اعظم کو خط لکھا
= 21 جون 1937ء قائد اعظم کو خط لکھا
= 20 اپریل 1938ء صبح ناشتے میں دلیے کے ساتھ چائے پی۔ میاں محمد شفیع نے اخبار پڑھ کر سنوایا۔ حجام سے شیو بنوائی۔ شام 4:30 بجے بیرن جان والتھائیم ملنے آئے اُن کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت کرتے رہے - شام کو اپنا پلنگ خوابگاہ سے اُٹھوا کر دالان میں بچھوایا - ایک گھنٹے بعد پلنگ گول کمرے میں لانے کو کہا - وہاں حسبِ عادت منیزہ اُن کے بستر میں گھس کر اُن سے لپٹ گئی۔ اُس رات معمول سے ہٹ کر زیادہ دیر اُن کے ساتھ رہی۔ جب اُس کو ہٹنے کے لیے کہا گیا تو وہ نہ ہٹی۔ اس پر انہوں نے انگریزی میں کہا "اُسے اُس کی حِس آگاہ کر رہی ہے کہ شاید باپ سے یہ آخری ملاقات ہے" اس کے وہاں سے چلے جانے کے بعد فاطمہ بیگم ،پرنسپل اسلامیہ کالج برائے خواتین نے ملاقات کی۔ رات تقریباً 8 بجے چودھری محمد حسین ، سید نذیر نیازی ، سید سلامت اللہ شاہ ، حکیم محمد حسن قرشی اور راجہ حسن اختر آ گئے۔ ڈاکٹروں کے بورڈ نے اُن کا معائنہ کیا - اُس رات وہ زیادہ ہشاش بشاش نظر آ رہے تھے۔ 11 بجے رات انہیں نیند آ گئی لیکن گھنٹہ بھر سونے کے بعد شانوں میں درد کے باعث جلد بیدار ہوگئے - ڈاکٹروں نے خواب آوار دوا دینے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ "دوا میں افیون کے اجزا ہیں اور مَیں بے ہوشی کے عالم میں مرنا نہیں چاہتا"
رات 3 بجے کے قریب اُن کی حالت اچانک پھر خراب ہو گئی۔ انہوں نے اپنا پلنگ گول کمرے سے واپس خواب گاہ میں رکھوایا
20 صفر المظفر 1357 ہجری بمطابق 21 اپریل 1938 بروز جمعرات صبح ڈاکٹر عبدالقیوم میاں محمد شفیع فجر کی نماز ادا کرنے مسجد گئے ہوئے تھے تو انہیں پھر شدید درد ہوا جس پر انہوں نے "اللہ" کہا اور پھر 5 بجکر 14 منٹ پر اللہ کو پیارے ہوگئے ... انا للہ و انا الیہ راجعون
5 بجے شام جاوید منزل سے جنازہ اُٹھایا گیا۔ اسلامیہ کالج کے گراؤنڈ میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی
سیالکوٹ سے شیخ عطا محمد رات نو بجے کے بعد لاہور پہنچے۔ پونے دس بجے رات سپردِ خاک کر دئیے گئے

No comments:
Post a Comment