21 شعبان المعظم 673 ہجری
19 فروری 1275ء
21 شعبان المعظم 673 ہجری بمطابق 19 فروری 1275 عیسوی سندھ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کی تاریخ وفات ہے
لال شہباز قلندر (1177ء تا 1274ء) جن کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا تعلق صوفی سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیھم ان کے قریباً ہم عصر تھے
آپ کی ولادت 538 ہجری بمطابق 1143 عیسوی آذر بائیجان کے علاقے مروند میں ہوئی
آپ کا سلسلہ عالی نسب 13 واسطوں سے حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سید محمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادق رحمۃ اللہ علیھم
آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھی اس وجہ سے آپ کا لقب لعل مشہور ہوا۔ شہبازکا لقب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا کہ ہم تمہیں اپنے نانا سے ایک شہباز عطا کرتے ہیں، اس وجہ سے "شہباز" لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے
آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ آپ کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور آپ کی مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی بڑی عزت تھی۔ آپ سرخ لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے انہیں لال کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں جھولے لال بھی کہا جاتا تھا
وصال :-
آپ کا وصال 19 فروری 1275 بمطابق 21 شعبان المعظم 673 ہجری کو ہوا
آپ کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے
19 فروری 1275ء
21 شعبان المعظم 673 ہجری بمطابق 19 فروری 1275 عیسوی سندھ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کی تاریخ وفات ہے
لال شہباز قلندر (1177ء تا 1274ء) جن کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا تعلق صوفی سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیھم ان کے قریباً ہم عصر تھے
آپ کی ولادت 538 ہجری بمطابق 1143 عیسوی آذر بائیجان کے علاقے مروند میں ہوئی
آپ کا سلسلہ عالی نسب 13 واسطوں سے حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سید محمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادق رحمۃ اللہ علیھم
آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھی اس وجہ سے آپ کا لقب لعل مشہور ہوا۔ شہبازکا لقب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا کہ ہم تمہیں اپنے نانا سے ایک شہباز عطا کرتے ہیں، اس وجہ سے "شہباز" لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے
آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ آپ کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور آپ کی مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی بڑی عزت تھی۔ آپ سرخ لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے انہیں لال کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں جھولے لال بھی کہا جاتا تھا
وصال :-
آپ کا وصال 19 فروری 1275 بمطابق 21 شعبان المعظم 673 ہجری کو ہوا
آپ کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے

No comments:
Post a Comment