1920 میں القدس کی تصویر، جب ارض مقدس سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ ترک پرچم ہر گلی و کوچے میں لہرائے جاتے تھے پھر ایک " ترک نادان " نے اس پرچم کو لپیٹ لیا اور وہ دن اور آج کا دن، سو سال ہو گئے القدس اسلامی پرچم نہ دیکھ سکا
اسی سال اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کا شاید سب سے فصیح و بلیغ شعر کہا
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف " ینسلون "
سورہ انبیاء کی وہ آیت ترجمے کے ساتھ یہ امت لازمی پڑھ لے جسمیں یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کا ذکر ہے
القدس یاجوج اور ماجوج کے لشکر کے خلاف پھر کسی "عثمانی" کا متلاشی ہے تاکہ یہ گلیاں یہود کے ستارہ داؤدی کی جگہ مسلم امہ کے ہلالی پرچم سے دوبارہ آراستہ ہوں !!!
اسی سال اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کا شاید سب سے فصیح و بلیغ شعر کہا
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف " ینسلون "
سورہ انبیاء کی وہ آیت ترجمے کے ساتھ یہ امت لازمی پڑھ لے جسمیں یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کا ذکر ہے
القدس یاجوج اور ماجوج کے لشکر کے خلاف پھر کسی "عثمانی" کا متلاشی ہے تاکہ یہ گلیاں یہود کے ستارہ داؤدی کی جگہ مسلم امہ کے ہلالی پرچم سے دوبارہ آراستہ ہوں !!!

No comments:
Post a Comment