18 اپریل 2019
بلوچستان میں 14 سرکاری اہلکار شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کر دئیے گئے
خان صاحب ایک ایک چیک ان بے چاروں کے بندھے ہاتھوں کو بھی عطا ہو۔ مجرموں کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ تو تم سے پورا ہوتا نہیں ہے
روز جنازے اٹھیں گے اور روز کفن پہناؤ گے
میں شرط لگا کر کہتا ہوں کہ تم نہ ہوش میں آؤ گے
لکھ دو یہ دیواروں پر خاموش لبوں سے رونے والوں
میں بھی مارا جاؤں گا اور تم بھی مارے جاؤ گے
بس چیخ سنو فریاد سنو اک قصہ برباد سنو
میں لکھوں گا میں بولوں گا تم روک نہ مجھکو پاؤ گے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد نے 14 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا
یہ واقعات اورماڑہ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آئے اور ہلاک شدگان مختلف مسافر بسوں میں کراچی اور گوادر کے درمیان سفر کر رہے تھے
اورماڑہ میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ واقعہ ہنگول کے قریب بزی پاس کے علاقے میں پیش آیا
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے چار، پانچ بسوں کو روکا۔ مسلح افراد نے بسیں روکنے کے بعد مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ان میں سے 14 افراد کو اتارا جنہیں تھوڑی دور لے جا کر ہلاک کر دیا گیا
شہید ہونے والے تمام افراد سیکیورٹی فورسز کے اہل کار بتائے جاتے ہیں
شہید ہونے والے اہلکاروں کے نام درج ذیل ہیں
(1)۔یوسف
(2)۔ وسیم
(3)۔فرحان اللہ
(4)۔ علی رضا
(5)۔ ذوالفقار
(6)ہارون
(7)علی اصغر
(8)حمزہ
(9)۔رضوان
(10) وسیم
(11)۔ذہین
بقایا (03) اہلکاروں کے نام معلوم نہیں ہوسکے جبکہ شہید ہونے والے اہلکاروں میں سے (9) کا تعلق نیوی، (1) کوسٹ گارڈ اور (1) ائیر فورس کا ملازم بتلایا جاتا ہے
بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بھیس بدلنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ہلاک شدگان میں سے بعض کا تعلق بھی سکیورٹی فورسز سے بتایا جاتا ہے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں اور سرچ آپریشن شروع کر دئیے ہیں
ایک مقامی اہلکار کے مطابق تمام لاشوں کو اورماڑہ کے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
اہلکار نے بتایا اس حملے کے بعد حملہ آور آواران کے پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہو گئے جن کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے
بلوچستان کی دہشت گرد تنظیموں کے اتحاد بلوچ آجوئی سنگت نے اورماڑہ میں دہشتگرد حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے
بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان گارڈز کے ترجمان کے مطابق بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں کو شناخت کر کے نشانہ بنایا گیا
اورماڑہ کراچی کے قریب بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل ہے۔ کوسٹل ہائی وے پر کراچی اور گوادر کے درمیان چلنے والی گاڑیاں اسی علاقے سے گزرتی ہیں
بلوچستان میں ضلع گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ سمیت بعض دیگر علاقوں میں پہلے بھی مسافروں کو بسوں اور دیگر گاڑیوں سے اتارکر ہلاک کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے گوادر، کیچ اور ان سے متصل دیگر علاقوں میں بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے پیش نظر اس نوعیت کے واقعات میں کمی آئی ہے
گوادر اور کیچ میں ماضی میں جن لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر ہلاک کیا جاتا رہا ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو کہ غیر قانونی طور پر یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے رہے
اس کے علاوہ مستونگ اور بولان کے علاقے میں بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال نے اورماڑہ میں ہلاکتوں کی مذمت کی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ بعض عناصر بیرونی عناصر کو خوش رکھنے کے لیے اپنے لوگوں کا خون بہا رہے ہیں
وزیر اعلیٰ نے اسے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو روکنے کی ایک گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملزمان کو ان کے کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا
بلوچستان میں 14 سرکاری اہلکار شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کر دئیے گئے
خان صاحب ایک ایک چیک ان بے چاروں کے بندھے ہاتھوں کو بھی عطا ہو۔ مجرموں کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ تو تم سے پورا ہوتا نہیں ہے
روز جنازے اٹھیں گے اور روز کفن پہناؤ گے
میں شرط لگا کر کہتا ہوں کہ تم نہ ہوش میں آؤ گے
لکھ دو یہ دیواروں پر خاموش لبوں سے رونے والوں
میں بھی مارا جاؤں گا اور تم بھی مارے جاؤ گے
بس چیخ سنو فریاد سنو اک قصہ برباد سنو
میں لکھوں گا میں بولوں گا تم روک نہ مجھکو پاؤ گے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد نے 14 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا
یہ واقعات اورماڑہ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آئے اور ہلاک شدگان مختلف مسافر بسوں میں کراچی اور گوادر کے درمیان سفر کر رہے تھے
اورماڑہ میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ واقعہ ہنگول کے قریب بزی پاس کے علاقے میں پیش آیا
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے چار، پانچ بسوں کو روکا۔ مسلح افراد نے بسیں روکنے کے بعد مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ان میں سے 14 افراد کو اتارا جنہیں تھوڑی دور لے جا کر ہلاک کر دیا گیا
شہید ہونے والے تمام افراد سیکیورٹی فورسز کے اہل کار بتائے جاتے ہیں
شہید ہونے والے اہلکاروں کے نام درج ذیل ہیں
(1)۔یوسف
(2)۔ وسیم
(3)۔فرحان اللہ
(4)۔ علی رضا
(5)۔ ذوالفقار
(6)ہارون
(7)علی اصغر
(8)حمزہ
(9)۔رضوان
(10) وسیم
(11)۔ذہین
بقایا (03) اہلکاروں کے نام معلوم نہیں ہوسکے جبکہ شہید ہونے والے اہلکاروں میں سے (9) کا تعلق نیوی، (1) کوسٹ گارڈ اور (1) ائیر فورس کا ملازم بتلایا جاتا ہے
بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بھیس بدلنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ہلاک شدگان میں سے بعض کا تعلق بھی سکیورٹی فورسز سے بتایا جاتا ہے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں اور سرچ آپریشن شروع کر دئیے ہیں
ایک مقامی اہلکار کے مطابق تمام لاشوں کو اورماڑہ کے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
اہلکار نے بتایا اس حملے کے بعد حملہ آور آواران کے پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہو گئے جن کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے
بلوچستان کی دہشت گرد تنظیموں کے اتحاد بلوچ آجوئی سنگت نے اورماڑہ میں دہشتگرد حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے
بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان گارڈز کے ترجمان کے مطابق بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں کو شناخت کر کے نشانہ بنایا گیا
اورماڑہ کراچی کے قریب بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل ہے۔ کوسٹل ہائی وے پر کراچی اور گوادر کے درمیان چلنے والی گاڑیاں اسی علاقے سے گزرتی ہیں
بلوچستان میں ضلع گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ سمیت بعض دیگر علاقوں میں پہلے بھی مسافروں کو بسوں اور دیگر گاڑیوں سے اتارکر ہلاک کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے گوادر، کیچ اور ان سے متصل دیگر علاقوں میں بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے پیش نظر اس نوعیت کے واقعات میں کمی آئی ہے
گوادر اور کیچ میں ماضی میں جن لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر ہلاک کیا جاتا رہا ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو کہ غیر قانونی طور پر یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے رہے
اس کے علاوہ مستونگ اور بولان کے علاقے میں بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال نے اورماڑہ میں ہلاکتوں کی مذمت کی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ بعض عناصر بیرونی عناصر کو خوش رکھنے کے لیے اپنے لوگوں کا خون بہا رہے ہیں
وزیر اعلیٰ نے اسے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو روکنے کی ایک گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملزمان کو ان کے کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا

No comments:
Post a Comment