سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللّه علیھا کا جنازہ کس نے پڑھایا تھا ؟؟؟
کنز العمال میں امام جعفر الصادق رضی اللّه عنہ سے روایت ہے جب سیدہ فاطمہ سلام اللّه علیھا کا جنازہ مبارک پڑھانے کے لئے جناب سیدنا علی المرتضی علیہ السلام کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّه عنہ نے فرمایا تو مولا علی علیہ السلام نے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو جواب دیا آپ خلیفئہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں آپ سے پیش قدمی نہیں کر سکتا، پس سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے جنازہ پڑھایا💞
کنزالعمال باب فضائل فاطمہ ؓ ٦ / ٣١٨
اس مسئلہ پر بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے انداز فکر کے لحاظ سے روشنی ڈالی ہے اور مختلف آراء اور نظریات سامنے آئے کچھ لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش لغو کی ہے کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں ۔اور آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ وہ میرے جنازے میں شریک نہ ہوں ۔تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو رات کو ہی دفن کر دیا تھا اور خلیفۃ المسمین کو اس کی خبر ہی نہ ہونے دی۔ اُس رات سے ان لوگوں نے حضرت علی المرتضٰی اور حضرت ابوبکر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ناراضگی اور اختلاف کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جمہور علماء اہلسنت و جماعت کا موقف ہے اور مستند ترین کتابوں میں یہ موجود ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراء کا جنازہ خلیفہ بلا فصل انبیاء کے بعد سرکار علیہ التحیۃ والثناء کے ظاہری و باطنی اور روحانی خلیفہ و جانشین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے اور اسی پر اکثر امت مسلمہ کا اتفاق ہے
حوالہ نمبر ١۔
عن حماد عن ابراھیم النخعی قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فکبر اربعا۔
ترجمہ : حضرت ابرھیم نخعی نے کہا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں
طبقات ابن سعد جلد ثامن صفحہ ١٩ تذکرہ فاطمہ مطبوعہ لیدن (یورپ)
حوالہ نمبر ٢:۔
عن مجاھد عن الشعبی قال صلی علیھا ابوبکر رضی اللہ عنہ وعنہا
ترجمہ : حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ فاطمہ پر ابوبکر الصدیق نے نماز جنازہ پڑھایا
بحوالہ طبقات ابن سعد جلد ٨ صفحہ ١٩تذکر ہ فاطمہ طبع لیدن (یورپ)
حوالہ نمبر ٣ : تیسری روایت امام بہیقی سے اپنی سند کیساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ
حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حدثنا عون بن سلام حدثنا سوار بن مصعب عن مجالدعن الشعبی ان فاطمۃ اماماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا(رضوان اللہ علیہم اجمعین)
ترجمہ : یعنی جب حضرت فاطمہ فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنھما نے انکو رات میں ہی دفن کردیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کر دیا
بحوالہ السنن الکبریٰ للبیہقی مو الجواھر النقی جلد٤ صفحہ ٢٩کتاب الجنائز
حوالہ نمبر ٤ :۔
امام محمدباقر سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے
عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا
ترجمہ : امام جعفر صادق امام محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ ؐ فوت ہوئیں تو ابوبکر و عمر دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابوبکر نے علی المرتضٰی سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائیے تو علی المرتضٰی نے جواب دیا کہ آپ خلیفۃ رسول ہیں آپکی موجودگی میں مَیں آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابوبکر صدیق نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا
بحوالہ کنزالعمال (خط فی رواۃ مالک)جلد ٦ صفحہ ٣١٨(طبع قدیم)روایت ٥٢٩٩باب فضائل الصحابہ ۔فصل الصدیق مسندات علی )
حوالہ نمبر ٥ :۔
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے
عن مالک عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن جدہ علی ابن حسین قال ماتت فاطمہ بین المغرب والعشاء فحضرھا ابوبکر و عمر وعثمان والزبیر وعبدالرحمان ابن عوف فلما وضعت لیصلیٰ علیھا قال علی تقدم یا ابابکر قال وانت شاھد یا اباالحسن؟قال نعم !فواللہ لا یصلی علیھا غیرک فصلٰی علیھا ابوبکر(رضوان اللہ علیہم اجمعین)ودفنت لیلا
بحوالہ ریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ مبشرہلمحب الطبری جلد١صفحہ ١٥٦باب وفات فاطمہ
ترجمہ : جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب و عشاء کے درمیان حضرت فاطمۃ الزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابوبکر و عمر و عثمان و زبیر و عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنھم حاضر ہوئے۔ جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائیے
اللہ کی قسم آپکے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نمازجنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں
حوالہ نمبر ٦ :۔
شاہ عبدالعزیز نے تحفہ اثنا عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر ١٤ کے آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہوئے ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے وہ بھی درج ذیل ہے
در فصل الخطاب آوردہ کہ ابوبکر صدیق و عثمان وعبدالرحمانابن عوف وزبیربن عوام وقت نماز عشاء حاضر شدندو رحلت حضرت فاطمہدرمیان مغرب و عشاء شب سہ شنبہ سوم ماہ رمضان ١١ھبعد ازششماہ از واقعہ سرور جہاں بوقوع آمدہبودوستین عمرش بست و ہشت بود وابوبکر بموجب گفتہ علی المرتضٰی پیش امام شدونماز بروئے گزاشتو چہار تکبیر بر آورد
ترجمہ : فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر صدیق و عثمان و عبدالرحمان بن عوف و زبیر بن عوام تمام حضرات عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضورؐ کے چھ ماہ بعد فاطمہ کا انتقال مبارک ہوا اسوقت فاطمہ کی عمر ٢٨ سال تھی علی المرتضٰی کے فرمان کے مطابق ابوبکر الصدیق نماز جنازہ کے لیئے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی
بحوالہ اثنا عشریہ مطاعن صدیقی طعن نمبر ١٤ صفحہ نمبر ٤٤٥( طبع نول کشور لکھنوئ)
حوالہ نمبر ٧ :۔
حافظ ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیساتھ ابن عباس سے جنازہ کی روایت کی ہے
عن میمون بن مھران عن ابن عباس النبی اتی بجنازۃ فصلٰی علیھا اربعا وقال کیرت الملائکۃ علیٰ ادم اربع تکبیرات و کبرابوبکر علیٰ فاطمہ اربعا وکبر عمر علیٰ ابی بکر اربعا وکبر صہیب علیٰ عمر اربعا
حضرت ابن عباس ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس مزید فرماتے ہیں کہ ابوبکر نے حضرت فاطمہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیریں کہیں اور عمر نے ابوبکر اور صہیب نے عمر پر چار تکبیریں کہیں تھیں
بحوالہ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانہ جلد نمبر٤ صفحہ ٩٦ تذکرہ میمون بن مھران
حوالہ نمبر ٨ :۔
کتاب بزل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ (عربی) مؤلفہ علامہ مخدوم ہاشم سندھی کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء مترجم (مفتی علیم الدین )کے صفحہ ٦٠٦ پر حضرت فاطمۃ الزھراء کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپکا جنازہ حضرت صدیق اکبر نے پڑھایا
بحوالہ سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر ٦٠٦ کا حاشیہ نمبر ١
حوالہ نمبر ٩ :۔
تاریخ ابن کثیر البدایہ و النھایہ از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیر دمشقی اردو ترجمہ حصہ ششم صفحہ ٤٤٣ پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپکی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق نے پڑھائی
حضرت عباس اور حضرت علی کے متعلق بھی روایات موجود ہیں
بحوالہ تاریخ ابن کثیر اردو ترجمہ البدیہ والنھایہ از امام ابن کثیر حصہ ششم صفحہ ٤٤٣
حوالہ نمبر ١٠ :۔
مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی( مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین ) کے صفحہ ٥٤٤ پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہم) بھی آئے
حوالہ مدارج النبوت از شیخ عبدالحق محدث دہلوی جلد دوم صفحہ ٥٤٤ مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور
(نتیجہ)
ان دس کتابوں کی ان روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃ الرسول جانشین سرور عالم ؐ امام المسلمین و المومنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خدا حضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپکو مصلٰی امامت پر کھڑا کیا اور خود انکی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی 💞
کنز العمال میں امام جعفر الصادق رضی اللّه عنہ سے روایت ہے جب سیدہ فاطمہ سلام اللّه علیھا کا جنازہ مبارک پڑھانے کے لئے جناب سیدنا علی المرتضی علیہ السلام کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّه عنہ نے فرمایا تو مولا علی علیہ السلام نے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو جواب دیا آپ خلیفئہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں آپ سے پیش قدمی نہیں کر سکتا، پس سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے جنازہ پڑھایا💞
کنزالعمال باب فضائل فاطمہ ؓ ٦ / ٣١٨
اس مسئلہ پر بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے انداز فکر کے لحاظ سے روشنی ڈالی ہے اور مختلف آراء اور نظریات سامنے آئے کچھ لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش لغو کی ہے کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں ۔اور آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ وہ میرے جنازے میں شریک نہ ہوں ۔تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو رات کو ہی دفن کر دیا تھا اور خلیفۃ المسمین کو اس کی خبر ہی نہ ہونے دی۔ اُس رات سے ان لوگوں نے حضرت علی المرتضٰی اور حضرت ابوبکر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ناراضگی اور اختلاف کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جمہور علماء اہلسنت و جماعت کا موقف ہے اور مستند ترین کتابوں میں یہ موجود ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراء کا جنازہ خلیفہ بلا فصل انبیاء کے بعد سرکار علیہ التحیۃ والثناء کے ظاہری و باطنی اور روحانی خلیفہ و جانشین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے اور اسی پر اکثر امت مسلمہ کا اتفاق ہے
حوالہ نمبر ١۔
عن حماد عن ابراھیم النخعی قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فکبر اربعا۔
ترجمہ : حضرت ابرھیم نخعی نے کہا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں
طبقات ابن سعد جلد ثامن صفحہ ١٩ تذکرہ فاطمہ مطبوعہ لیدن (یورپ)
حوالہ نمبر ٢:۔
عن مجاھد عن الشعبی قال صلی علیھا ابوبکر رضی اللہ عنہ وعنہا
ترجمہ : حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ فاطمہ پر ابوبکر الصدیق نے نماز جنازہ پڑھایا
بحوالہ طبقات ابن سعد جلد ٨ صفحہ ١٩تذکر ہ فاطمہ طبع لیدن (یورپ)
حوالہ نمبر ٣ : تیسری روایت امام بہیقی سے اپنی سند کیساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ
حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حدثنا عون بن سلام حدثنا سوار بن مصعب عن مجالدعن الشعبی ان فاطمۃ اماماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا(رضوان اللہ علیہم اجمعین)
ترجمہ : یعنی جب حضرت فاطمہ فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنھما نے انکو رات میں ہی دفن کردیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کر دیا
بحوالہ السنن الکبریٰ للبیہقی مو الجواھر النقی جلد٤ صفحہ ٢٩کتاب الجنائز
حوالہ نمبر ٤ :۔
امام محمدباقر سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے
عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا
ترجمہ : امام جعفر صادق امام محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ ؐ فوت ہوئیں تو ابوبکر و عمر دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابوبکر نے علی المرتضٰی سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائیے تو علی المرتضٰی نے جواب دیا کہ آپ خلیفۃ رسول ہیں آپکی موجودگی میں مَیں آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابوبکر صدیق نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا
بحوالہ کنزالعمال (خط فی رواۃ مالک)جلد ٦ صفحہ ٣١٨(طبع قدیم)روایت ٥٢٩٩باب فضائل الصحابہ ۔فصل الصدیق مسندات علی )
حوالہ نمبر ٥ :۔
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے
عن مالک عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن جدہ علی ابن حسین قال ماتت فاطمہ بین المغرب والعشاء فحضرھا ابوبکر و عمر وعثمان والزبیر وعبدالرحمان ابن عوف فلما وضعت لیصلیٰ علیھا قال علی تقدم یا ابابکر قال وانت شاھد یا اباالحسن؟قال نعم !فواللہ لا یصلی علیھا غیرک فصلٰی علیھا ابوبکر(رضوان اللہ علیہم اجمعین)ودفنت لیلا
بحوالہ ریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ مبشرہلمحب الطبری جلد١صفحہ ١٥٦باب وفات فاطمہ
ترجمہ : جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب و عشاء کے درمیان حضرت فاطمۃ الزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابوبکر و عمر و عثمان و زبیر و عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنھم حاضر ہوئے۔ جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائیے
اللہ کی قسم آپکے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نمازجنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں
حوالہ نمبر ٦ :۔
شاہ عبدالعزیز نے تحفہ اثنا عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر ١٤ کے آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہوئے ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے وہ بھی درج ذیل ہے
در فصل الخطاب آوردہ کہ ابوبکر صدیق و عثمان وعبدالرحمانابن عوف وزبیربن عوام وقت نماز عشاء حاضر شدندو رحلت حضرت فاطمہدرمیان مغرب و عشاء شب سہ شنبہ سوم ماہ رمضان ١١ھبعد ازششماہ از واقعہ سرور جہاں بوقوع آمدہبودوستین عمرش بست و ہشت بود وابوبکر بموجب گفتہ علی المرتضٰی پیش امام شدونماز بروئے گزاشتو چہار تکبیر بر آورد
ترجمہ : فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر صدیق و عثمان و عبدالرحمان بن عوف و زبیر بن عوام تمام حضرات عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضورؐ کے چھ ماہ بعد فاطمہ کا انتقال مبارک ہوا اسوقت فاطمہ کی عمر ٢٨ سال تھی علی المرتضٰی کے فرمان کے مطابق ابوبکر الصدیق نماز جنازہ کے لیئے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی
بحوالہ اثنا عشریہ مطاعن صدیقی طعن نمبر ١٤ صفحہ نمبر ٤٤٥( طبع نول کشور لکھنوئ)
حوالہ نمبر ٧ :۔
حافظ ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیساتھ ابن عباس سے جنازہ کی روایت کی ہے
عن میمون بن مھران عن ابن عباس النبی اتی بجنازۃ فصلٰی علیھا اربعا وقال کیرت الملائکۃ علیٰ ادم اربع تکبیرات و کبرابوبکر علیٰ فاطمہ اربعا وکبر عمر علیٰ ابی بکر اربعا وکبر صہیب علیٰ عمر اربعا
حضرت ابن عباس ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس مزید فرماتے ہیں کہ ابوبکر نے حضرت فاطمہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیریں کہیں اور عمر نے ابوبکر اور صہیب نے عمر پر چار تکبیریں کہیں تھیں
بحوالہ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانہ جلد نمبر٤ صفحہ ٩٦ تذکرہ میمون بن مھران
حوالہ نمبر ٨ :۔
کتاب بزل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ (عربی) مؤلفہ علامہ مخدوم ہاشم سندھی کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء مترجم (مفتی علیم الدین )کے صفحہ ٦٠٦ پر حضرت فاطمۃ الزھراء کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپکا جنازہ حضرت صدیق اکبر نے پڑھایا
بحوالہ سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر ٦٠٦ کا حاشیہ نمبر ١
حوالہ نمبر ٩ :۔
تاریخ ابن کثیر البدایہ و النھایہ از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیر دمشقی اردو ترجمہ حصہ ششم صفحہ ٤٤٣ پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپکی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق نے پڑھائی
حضرت عباس اور حضرت علی کے متعلق بھی روایات موجود ہیں
بحوالہ تاریخ ابن کثیر اردو ترجمہ البدیہ والنھایہ از امام ابن کثیر حصہ ششم صفحہ ٤٤٣
حوالہ نمبر ١٠ :۔
مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی( مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین ) کے صفحہ ٥٤٤ پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہم) بھی آئے
حوالہ مدارج النبوت از شیخ عبدالحق محدث دہلوی جلد دوم صفحہ ٥٤٤ مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور
(نتیجہ)
ان دس کتابوں کی ان روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃ الرسول جانشین سرور عالم ؐ امام المسلمین و المومنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خدا حضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپکو مصلٰی امامت پر کھڑا کیا اور خود انکی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی 💞

No comments:
Post a Comment