اگر کرونا وائرس چین نے بنایا اور پھیلایا ہے، یہ بات مان بھی لیں تو امریکیوں کو پہلے ہی سے کیسے علم تھا کہ ایسا ایک وائرس آئے گا جسے چین نے بنانا ہے گرچہ چین کو علم ہی نہیں ہے لیکن امریکیوں کو دہائیوں پہلے سے اس کے بارے میں علم تھا
عالمی دجالی طاقتوں کے زیرِ سایہ چلنے والے کارٹون " سمپسن " میں 1980، 1993اور 1999 کے دور میں کرونا وائرس جیسی بیماری کی پیشنگوئی کردی گئی تھی۔ خیر دُنیا جسے پیشنگوئی کہتی ہے میں اسے دجالی منصوبہ بندی کہتا ہوں جو سال 1700 عیسویٰ میں شروع ہوئی تھیں اور ہنوز جاری و ساری ہیں
اس کے علاوہ ایک امریکی مصنف ڈین کوونٹز نے 1981 میں اپنے ایک ناول "دی آئز آف ڈارکنس "میں اس وبائی بیماری کی پیش گوئی کی تھی۔ انہوں نے اس وباء کو وہان-400 کا نام دیا تھا اور لکھا تھا کہ یہ وائرس بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر سائنسدان تیار کریں گے
ایک اور امریکہ مصنفہ سلوویا براؤن نے 2008 میں اپنی کتاب " اینڈ آف دی ورلڈ، دُنیا کے خاتمے سے متعلق پیشنگوئیاں" میں لکھا تھا کہ 2020 میں ایک نمونیہ قسم کی بیماری ساری دُنیا میں پھیل جائے گی۔ یہ بیماری پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کو متاثر کرے گی
ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل، میساچوسٹس پبلک ہیلتھ کے عہدیداروں نے پیش گوئی کی تھی کہ لاکھوں افراد تنفس کی ایک نئی بیماری سے بیمار ہو سکتے ہیں اور یہ تنفس کی بیماری آج کی کرونا وائرس ہے۔ 2006 میں اس وبائی مرض سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس مرض سے ذیادہ سے ذیادہ 20 لاکھ لوگ بیمار ہونگے۔انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس بیماری سے امریکہ میں ہسپتال پہ مریضوں کا اتنا بوجھ پڑ جائے گا کہ ہسپتال بوجھ اٹھانے سے قاصر ہونگےاور امریکہ میں اس سے 20 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جائیں گے۔انہوں نے آگاہ کیا تھا کہ ہسپتالوں کے علاوہ اس بیماری سے نپٹنے کے لیے دوسری جگہیں بھی تیار رکھنی ہونگی
بِل گیٹس ہمیں بتا رہا ہے کہ ہر 20 سال بعد ایک ایسی وباء پھیلے گی۔ بِل گیٹس ہی نے ہمیں کرونا وائرس کا 2015 میں بتایا تھا کہ ایسی ایک وباء جلد ہی آنے والی ہے اور ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں
وائٹ ہاؤس کے طبی ماہرین نے بھی کچھ سال قبل کرونا وائرس سے متعلق آگاہ کیا تھا کہ ایک عالمی وباء پھیلنے والی ہے۔
وبائی امراض کے ماہر مائیکل آسٹرہولم بھی گذشتہ ایک دہائی سے عالمی وبائی بیماری کی وارننگ دے رہے تھے۔انہوں نے پہلے 2005 میں ایک میگزین کو انٹرویو میں جبکہ 2017 میں اپنی کتاب " مہلک دشمن : قاتل جراثیم کے خلاف ہماری جنگ" میں آنے والی وباء سے متعلق آگاہ کیا تھا
ماہر امراض رابرٹ جی ویبسٹر نے دسمبر 2018 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں آنے والے فلو کی وبائی بیماری کی پیش گوئی کردی تھی
ایک امریکی انٹیلیجنس ٹیم نے 2018 میں حالیہ کرونا وائرس کی وباء کے متعلق امکان ظاہر کرتے ہوئے پہلے سے ہی متنبہ کردیا تھا کہ ایک وباء آنے والی ہے یعنی آج کی کروناوائرس۔ اس ٹیم نے یہ تک بتا دیا تھا کہ یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے میں بہت تیزی سے منتقل ہوگی اور آج کے سماجی و معاشی نقصانات کے بارے تک آگاہ کردیا تھا
اوبامہ انتظامیہ کے ماتحت یو ایس ایڈ کے دفتر برائے امریکی و غیر ملکی آفات سے متعلق امداد کے سابق ڈائریکٹر جیریمی کونیڈک نے کہا تھا کہ 2018 میں فلو کی وبائی بیماری جیسا ایک وائرس ابھرے گا۔
انکا کہنا تھا کہ کسی موقع پر ایک انتہائی مہلک ، انتہائی متعدی وائرس ابھرے گا - جیسے 1918 میں 'ہسپانوی فلو' وبائی مرض ، جس نے دنیا کی ایک تہائی آبادی کو متاثر کیا تھا اور 50 سے 100 ملین افراد کو ہلاک کیا تھا۔ "انہوں نے مزید لکھا ، کہ صدر ٹرمپ وباء کے لئے تیار نہیں ہیں"
وائٹ ہاؤس نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) کی وبائی امراض کی ذمہ دار ٹیم کی سابقہ ڈاکٹر لوسیانا بوریو نے بھی پہلے ہی اس وبائی مرض یعنی کرونا وائرس کے خطرے سے متعلق 2018 میں ہی آگاہ کردیا تھا۔
پھر اسکے بعد ہدایتکار اسٹیون سوڈربرگ اور اسکرین رائٹر اسکاٹ زیڈ برنز کی فلم "کنٹیجین" میں بھی بظاہر کورونا وائرس وبائی بیماری کی پیشنگوئی کی گئی تھی۔ اس میں یہ بیماری چمگادڑوں اور سؤر سے انسانوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ایک شخص ہاتھ دھوئے بغیر دوسرے شخص سے مصافحہ کرتا ہے اور یہ وائرس دوسرے شخص کو منتقل ہوجاتا ہے
اس کے علاوہ چین میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 17 نومبر 2019 کو رپورٹ ہوتا ہے اس سے پہلے نہ تو دُنیا کو کرونا وائرس کا علم ہوتا ہے نہ چین جانتا ہے نہ ہی کبھی اس سے پہلے اس کا کوئی مریض سامنے آتا ہے مگر 15 نومبر 2019 کو یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپلوڈ ہوتی ہےجس میں کہ کرونا وائرس کے حوالے سے مکمل معلومات ہوتی ہیں اس نے اسے "ڈیزیز ایکس" کا نام دیا۔ ویڈیو کو آپ درج ذیل عنوان سے یوٹیوب پر تلاش کرسکتے ہیں
"This is The New Killer Virus That Will End Humanity"
یہ ساری بات بتانے کا مقصد یہ تھا کہ چین جو ہمارا بھائیوں جیسا دوست ملک ہے وہ کرونا وائرس سے ایسے ہی لاعلمی میں متاثر ہوا جیسا کہ ہم ہوئے۔ اس لیے چین پہ کیچڑ اچھال کر عالمی دجالی قوتوں کی پشت پناہی نہ کیجیے چین کو باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت بدنام کیا جا رہا ہے جس چیز کا 1980 کی دہائی میں امریکیوں کو علم تھا اس کا بھلا چین کو کیسے علم ہوتا اور چین کو علم تھا تو 1980 کی دہائی میں امریکی اسے کیوں دکھا رہے تھے ؟؟؟
یہ عالمی سازش ہے جس کا مقابلہ ہمیں مل جل کر کرنا ہے۔ چین جیسے دوست کو جس نے ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں پاکستان کے مفادات کومدِنظر رکھا وہ چین کہ جس کی ایک ارب کی آبادی سے پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی مریض پاکستان نہیں آیا، وہ چین کے جس نے چین میں مقیم پاکستانیوں کو بھی پاکستان نہیں آنے دیا کہ وباء پاکستان نہ پہنچے، وہ چین کے جس نے چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کی حفاظت اپنے شہریوں سے بڑھ کر کی، وہ چین کے جو ایران اور افغانستان نامی بھائیوں سے لاکھ درجے بہتر ہے
مجھے چین کے مفادات ویسے ہی عزیز ہیں جیسے پاکستان کے اور ہم ان شاء اللہ چین کے خلاف پاکستان میں بیٹھے غداروں کی بھی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کا کھیل ہے، کوشش کریں انہی پر ہی لوٹائیں اسے !!!
عالمی دجالی طاقتوں کے زیرِ سایہ چلنے والے کارٹون " سمپسن " میں 1980، 1993اور 1999 کے دور میں کرونا وائرس جیسی بیماری کی پیشنگوئی کردی گئی تھی۔ خیر دُنیا جسے پیشنگوئی کہتی ہے میں اسے دجالی منصوبہ بندی کہتا ہوں جو سال 1700 عیسویٰ میں شروع ہوئی تھیں اور ہنوز جاری و ساری ہیں
اس کے علاوہ ایک امریکی مصنف ڈین کوونٹز نے 1981 میں اپنے ایک ناول "دی آئز آف ڈارکنس "میں اس وبائی بیماری کی پیش گوئی کی تھی۔ انہوں نے اس وباء کو وہان-400 کا نام دیا تھا اور لکھا تھا کہ یہ وائرس بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر سائنسدان تیار کریں گے
ایک اور امریکہ مصنفہ سلوویا براؤن نے 2008 میں اپنی کتاب " اینڈ آف دی ورلڈ، دُنیا کے خاتمے سے متعلق پیشنگوئیاں" میں لکھا تھا کہ 2020 میں ایک نمونیہ قسم کی بیماری ساری دُنیا میں پھیل جائے گی۔ یہ بیماری پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کو متاثر کرے گی
ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل، میساچوسٹس پبلک ہیلتھ کے عہدیداروں نے پیش گوئی کی تھی کہ لاکھوں افراد تنفس کی ایک نئی بیماری سے بیمار ہو سکتے ہیں اور یہ تنفس کی بیماری آج کی کرونا وائرس ہے۔ 2006 میں اس وبائی مرض سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس مرض سے ذیادہ سے ذیادہ 20 لاکھ لوگ بیمار ہونگے۔انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس بیماری سے امریکہ میں ہسپتال پہ مریضوں کا اتنا بوجھ پڑ جائے گا کہ ہسپتال بوجھ اٹھانے سے قاصر ہونگےاور امریکہ میں اس سے 20 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جائیں گے۔انہوں نے آگاہ کیا تھا کہ ہسپتالوں کے علاوہ اس بیماری سے نپٹنے کے لیے دوسری جگہیں بھی تیار رکھنی ہونگی
بِل گیٹس ہمیں بتا رہا ہے کہ ہر 20 سال بعد ایک ایسی وباء پھیلے گی۔ بِل گیٹس ہی نے ہمیں کرونا وائرس کا 2015 میں بتایا تھا کہ ایسی ایک وباء جلد ہی آنے والی ہے اور ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں
وائٹ ہاؤس کے طبی ماہرین نے بھی کچھ سال قبل کرونا وائرس سے متعلق آگاہ کیا تھا کہ ایک عالمی وباء پھیلنے والی ہے۔
وبائی امراض کے ماہر مائیکل آسٹرہولم بھی گذشتہ ایک دہائی سے عالمی وبائی بیماری کی وارننگ دے رہے تھے۔انہوں نے پہلے 2005 میں ایک میگزین کو انٹرویو میں جبکہ 2017 میں اپنی کتاب " مہلک دشمن : قاتل جراثیم کے خلاف ہماری جنگ" میں آنے والی وباء سے متعلق آگاہ کیا تھا
ماہر امراض رابرٹ جی ویبسٹر نے دسمبر 2018 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں آنے والے فلو کی وبائی بیماری کی پیش گوئی کردی تھی
ایک امریکی انٹیلیجنس ٹیم نے 2018 میں حالیہ کرونا وائرس کی وباء کے متعلق امکان ظاہر کرتے ہوئے پہلے سے ہی متنبہ کردیا تھا کہ ایک وباء آنے والی ہے یعنی آج کی کروناوائرس۔ اس ٹیم نے یہ تک بتا دیا تھا کہ یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے میں بہت تیزی سے منتقل ہوگی اور آج کے سماجی و معاشی نقصانات کے بارے تک آگاہ کردیا تھا
اوبامہ انتظامیہ کے ماتحت یو ایس ایڈ کے دفتر برائے امریکی و غیر ملکی آفات سے متعلق امداد کے سابق ڈائریکٹر جیریمی کونیڈک نے کہا تھا کہ 2018 میں فلو کی وبائی بیماری جیسا ایک وائرس ابھرے گا۔
انکا کہنا تھا کہ کسی موقع پر ایک انتہائی مہلک ، انتہائی متعدی وائرس ابھرے گا - جیسے 1918 میں 'ہسپانوی فلو' وبائی مرض ، جس نے دنیا کی ایک تہائی آبادی کو متاثر کیا تھا اور 50 سے 100 ملین افراد کو ہلاک کیا تھا۔ "انہوں نے مزید لکھا ، کہ صدر ٹرمپ وباء کے لئے تیار نہیں ہیں"
وائٹ ہاؤس نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) کی وبائی امراض کی ذمہ دار ٹیم کی سابقہ ڈاکٹر لوسیانا بوریو نے بھی پہلے ہی اس وبائی مرض یعنی کرونا وائرس کے خطرے سے متعلق 2018 میں ہی آگاہ کردیا تھا۔
پھر اسکے بعد ہدایتکار اسٹیون سوڈربرگ اور اسکرین رائٹر اسکاٹ زیڈ برنز کی فلم "کنٹیجین" میں بھی بظاہر کورونا وائرس وبائی بیماری کی پیشنگوئی کی گئی تھی۔ اس میں یہ بیماری چمگادڑوں اور سؤر سے انسانوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ایک شخص ہاتھ دھوئے بغیر دوسرے شخص سے مصافحہ کرتا ہے اور یہ وائرس دوسرے شخص کو منتقل ہوجاتا ہے
اس کے علاوہ چین میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 17 نومبر 2019 کو رپورٹ ہوتا ہے اس سے پہلے نہ تو دُنیا کو کرونا وائرس کا علم ہوتا ہے نہ چین جانتا ہے نہ ہی کبھی اس سے پہلے اس کا کوئی مریض سامنے آتا ہے مگر 15 نومبر 2019 کو یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپلوڈ ہوتی ہےجس میں کہ کرونا وائرس کے حوالے سے مکمل معلومات ہوتی ہیں اس نے اسے "ڈیزیز ایکس" کا نام دیا۔ ویڈیو کو آپ درج ذیل عنوان سے یوٹیوب پر تلاش کرسکتے ہیں
"This is The New Killer Virus That Will End Humanity"
یہ ساری بات بتانے کا مقصد یہ تھا کہ چین جو ہمارا بھائیوں جیسا دوست ملک ہے وہ کرونا وائرس سے ایسے ہی لاعلمی میں متاثر ہوا جیسا کہ ہم ہوئے۔ اس لیے چین پہ کیچڑ اچھال کر عالمی دجالی قوتوں کی پشت پناہی نہ کیجیے چین کو باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت بدنام کیا جا رہا ہے جس چیز کا 1980 کی دہائی میں امریکیوں کو علم تھا اس کا بھلا چین کو کیسے علم ہوتا اور چین کو علم تھا تو 1980 کی دہائی میں امریکی اسے کیوں دکھا رہے تھے ؟؟؟
یہ عالمی سازش ہے جس کا مقابلہ ہمیں مل جل کر کرنا ہے۔ چین جیسے دوست کو جس نے ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں پاکستان کے مفادات کومدِنظر رکھا وہ چین کہ جس کی ایک ارب کی آبادی سے پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی مریض پاکستان نہیں آیا، وہ چین کے جس نے چین میں مقیم پاکستانیوں کو بھی پاکستان نہیں آنے دیا کہ وباء پاکستان نہ پہنچے، وہ چین کے جس نے چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کی حفاظت اپنے شہریوں سے بڑھ کر کی، وہ چین کے جو ایران اور افغانستان نامی بھائیوں سے لاکھ درجے بہتر ہے
مجھے چین کے مفادات ویسے ہی عزیز ہیں جیسے پاکستان کے اور ہم ان شاء اللہ چین کے خلاف پاکستان میں بیٹھے غداروں کی بھی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کا کھیل ہے، کوشش کریں انہی پر ہی لوٹائیں اسے !!!

No comments:
Post a Comment