Monday, April 20, 2020

بیس اپریل 1870 یومِ پیدائش بابائے اردو مولوی عبدالحق

20 اپریل 1870
یومِ پیدائش بابائے اردو مولوی عبدالحق

بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق برِ صغیر پاک و ہند کے عظیم اردو مفکر، محقق، ماہر لسانیات، معلم اور انجمن ترقی اردو اور اردو کالج کراچی (موجودہ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی) کے بانی تھے۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی اردو کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی

مولوی عبد الحق 20 اپریل 1870ء کو سراواں (ہاپوڑ)، میرٹھ ضلع، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ مولوی عبد الحق کے بزرگ ہاپوڑ کے ہندو کائستھ تھے، جنہوں نے عہدِ مغلیہ میں اسلام کی روشنی سے دلوں کو منور کیا اور ان کے سپرد محکمہ مال کی اہم خدمات رہیں۔ مسلمان ہونے کے بعد بھی انہیں (مولوی عبد الحق کے خاندان کو) وہ مراعات و معافیاں حاصل رہیں جو سلطنت مغلیہ کی خدمات کی وجہ سے عطا کی گئیں تھیں۔ ان مراعات و معافیوں کو انگریز حکومت نے بھی بحال رکھا۔

مولوی عبد الحق نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی پھر میرٹھ میں پڑھتے رہے۔ 1894ء میں علی گڑھ کالج سے بی اے کیا۔ علی گڑھ میں سر سید احمد خان کی صحبت میسر رہی۔ جن کی آزاد خیالی اور روشن دماغی کا مولوی عبد الحق کے مزاج پر گہرا اثر پڑا۔ 1895ء میں حیدرآباد دکن میں ایک اسکول میں ملازمت کی اس کے بعد صدر مہتمم تعلیمات ہوکر اورنگ آباد منتقل ہو گئے۔ ملازمت ترک کرکے عثمانیہ کالج اورنگ آباد کے پرنسپل ہو گئے اور 1930ء میں اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے

جنوری 1902ء میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشن کانفرنس علی گڑھ کے تحت ایک علمی شعبہ قائم کیا گیا جس کا نام انجمن ترقی اردو تھا۔ مولانا شبلی نعمانی اس کے سیکرٹری رہے تھے۔ 1905ء میں نواب حبیب الرحمن خان شیروانی اور 1909ء میں عزیز مرزا اس عہدے پر فائز ہوئے۔ عزیز مرزا کے بعد 1912ء میں مولوی عبد الحق سیکرٹری منتخب ہوئے جنہوں نے بہت جلد انجمن ترقی اردو کو ایک فعال ترین علمی ادارہ بنا دیا۔ مولوی عبد الحق اورنگ آباد (دکن ) میں ملازم تھے وہ انجمن کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس طرح حیدر آباد دکن اس کا مرکز بن گیا۔ انجمن کے زیر اہتمام لاکھ سے زائد جدید علمی، فنی اور سائنسی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیا گیا۔ نیز اردو کے نادر نسخے تلاش کرکے چھاپے گئے۔ دو سہ ماہی رسائل، اردو اورسائنس جاری کیے گئے۔ ایک عظیم الشان کتب خانہ قائم کیا گیا۔ حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی انجمن ہی کی کوششوں کی مرہون منت ہے۔ اس یونیورسٹی میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ انجمن نے ایک دار الترجمہ بھی قائم کیا جہاں سینکڑوں علمی کتابیں تصنیف و ترجمہ ہوئیں۔ اس انجمن کے تحت لسانیات، لغت اور جدید علوم پر دو سو سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعدانہوں نے اسی انجمن کے اہتمام میں کراچی، پاکستان اردو آرٹس کالج، اردو سائنس کالج، اردو کامرس کالج اور اردو لا کالج جیسے ادارے قائم کیے۔ مولوی عبد الحق انجمن ترقی اردوکے سیکریٹری ہی نہیں مجسّم ترقّی اردو تھے۔ ان کا سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، پڑھنا لکھنا، آنا جانا، دوستی، تعلقات، روپیہ پیسہ غرض کہ سب کچھ انجمن کے لیے تھا۔

1935ء میں جامعہ عثمانیہ کے ایک طالب علم محمد یوسف نے انہیں بابائے اردو کا خطاب دیا جس کے بعد یہ خطاب اتنا مقبول ہوا کہ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ 23 مارچ، 1959ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا

تصانیف و تالیفات

وہ کتابیں جو مولوی صاحب نے لکھیں یا جن کو تحقیق و حواشی کے ساتھ شائع کیا

نکات الشعرا
دیوان ِ تابان
گلشنِ عشق
قطب مشتری۔دیوانِ اثر
تذکرہ ریختہ گویاں
مخزن شعرا
ریاض الفصحا
عقدِ ثریا
کہانی رانی کیتکی اور اودھ بھان
تذکرہ ہندی
چمنستانِ شعرا
ذکرِ مِیر
مخزن نکات
اُردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام
قواعد اُردو
معراج العاشقین
باغ و بہار
سب رس از ملاّ وجہی
قدیم اُردو
سرسیّد احمد خاں - حالات و افکار
چند ہم عصر
نصرتی-حالات اور کلام پر تبصرہ
مرحوم دہلی کالج
پاکٹ انگریزی اُردو ڈکشنری
اسٹوڈنس انگریزی اُردو ڈکشنری
اُردو انگریزی ڈکشنری
اسٹینڈرڈ انگلش اُردو ڈکشنری
لغتِ کبیر جلد اول
انتخاب کلامِ میر
دریائے لطافت
گل عجائب
انتخابِ داغ
اُردو صَرف و نحو
خطبات گارساں د تاسی
دی پاپولر انگلش اُردو ڈکشنری
افکارِ حالی
پاکستان کی قومی و سرکاری زبان کا مسئلہ
سر آغا خاں کی اُردو نوازی

ڈاکٹر عبادت بریلوی کے مطابق ”اگر بابائے اردو مولوی عبد الحق نہ ہوتے اور اردو سے انہیں یہ والہانہ وابستگی اور مجنونانہ لگاؤ نہ ہوتا تو کیا واقعی موجودہ دور میں اردو کو وہ مرتبہ حاصل ہوتا جو آج بہت سی زبانوں کے لیے باعث رشک ہے انہوں نے اردو کو اس کی اہمیت کا احساس دلایا اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا، زندگی کی راہوں پر دوڑایا۔ اس کے بازوؤں میں حریفوں سے مقابلہ کی سکت پیدا کی۔ اردو کی تاریخ ، مخالفت کی تاریخ کشمکش کی تاریخ ہے۔ ہنگاموں کی تاریخ ہے۔ بابائے اردو کی ذات نہ ہوتی تو اردو کے لیے ان منزلوں سے گزرنا آسان نہ ہوتا۔ ممکن تھا کہ وہ ان معرکوں میں کام آجاتی اور آج کوئی اس کا نام بھی نہ لیتا۔ بابائے اردو کے طفیل ہی وہ زندہ اور سرخ رو ہے دنیا میں شاید ہی کوئی مثال، زبان سے اس قدر بے پناہ محبت کی کہیں اور ملتی ہو وہ سپردگی اور انہماک اور استغراق اور وہ دُھن جو جنون کی سرحد سے ٹکراتی ہے دنیا کے عظیم ترین دماغوں ہی کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بابائے اردو کی اردو سے یہ لگن تحریک پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی بنی“

بابائے اردو مولوی عبدالحق 16 اگست 1961ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے عبد الحق کیمپس کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں

No comments:

Post a Comment