Sunday, April 19, 2020

انیس اپریل 2014 صحافتی طوائف حامد میر پر خود ساختہ حملہ

19 اپریل 2014
حامد میر حملہ اور جیو نیوز کی رپورٹنگ

پاکستان کی صحافتی طوائفوں کی داستان ہزیمت

19 اپریل 2014ء کو حامد میر نے ڈرون حملوں کے خلاف  ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے کراچی کا دورہ کیا۔ کراچی ہوائی اڈے سے جیو کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں ناتھا پل کے قریب ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں حامد میر کو چھ گولیاں لگیں۔ حامد میر کے بھائی نے براہ راست الزام اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیر الاسلام پر لگایا اور 7 گھنٹے تک جیو نیوز کی اسکرین آئی ایس آئی چیف کو بطور ملزم دکھاتی رہی

بعد میں اس حملے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا جس کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔ یہ رپورٹ 9 اپریل 2016 کو جاری کی گئی تھی

19 اپریل 2014 کو کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی جوڈیشل انکوائری کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے الزامات کو مفروضہ قرار دیا تھا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس اقبال حمید الرحمٰن پر مشتمل تین رکنی کمیشن نے 41 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی۔ جس میں کہا گیا کہ خفیہ ادارے پر ملوث ہونے کا الزام صرف شک و شبہ اور مفروضہ پر مبنی تھا جس کی نوعیت سنی سنائی شہادت جیسی تھی۔ انکوائری کمیشن نے تحقیقات میں نو ماہ لگائے تھے

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بظاہر کچھ صحافیوں اور آئی ایس آئی میں رسہ کشی جاری تھی اور میڈیا سے وابستہ کچھ افراد نے کمیشن کو بتایا کہ خفیہ ادارہ ان کی رپورٹنگ سے ناخوش تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعہ کی تفتیش میں مکمل ناکام رہے

کمیشن کی بند کمرے میں سماعت کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی جس میں نظر آتا ہے کہ دو افراد کراچی ائیرپورٹ پر حامد میر کے پہنچنے کے وقت مشکوک انداز میں نظر آرہے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں تک نہیں پہنچ سکے

رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر نے واقعہ سے مکمل لاتعلقی کااظہار کیا لیکن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے خفیہ ادارے پر ہی انگلیاں اٹھائیں۔ کمیشن نے کہا کہ میڈیا سے وابستہ افراد کے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ایجنسیوں سے رابطوں کے اہم پہلو سے ہم صرف نظر نہیں کرسکتے۔

قومی سلامتی کے حساس معاملے سے متعلق رپورٹ کے کئی معاملات پر ایجنسیوں کی جانب سے تشویش ظاہر کی جاتی ہے جن کی بنیاد آئین کے آرٹیکل 5 اور آرٹیکل 10 (7) ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اظہار رائے کی آزادی کا حق کئی معقول پابندیوں کےساتھ ہوتا ہے جو ملکی وحدت، سلامتی اور دفاع، دوست ممالک سے خارجہ تعلقات اور امن و امان کو متاثر نہ کرے

بریکنگ نیوز کی دوڑ نے بھی چیزوں کو زیادہ خراب کیا ہے اور کئی جھوٹ دیدہ دلیری سے بولے جاتے ہیں جس سے سچ چھپ جاتا ہے۔ کمیشن نے سوال اٹھایا  کہ آیا میڈیا ادارے لوگوں کو اطلاعات فراہم کر رہے ہیں یا معاشرے میں خوف پھیلا رہے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے

کمیشن نے کہا کہ تمام فریقین کو چاہئے کہ اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہوئے محتاط رہیں کیونکہ غیر ذمہ دارانہ رویوں، افعال اور ردعمل سے پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ صحافی اور ان کے اہلخانہ سکیورٹی خدشات اورتشدد اور بعض اوقات پراسرار انداز میں ہلاکتوں میں خفیہ ہاتھ ہونے کی شکیت کرتے ہیں۔کمیشن نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات آئین کے آرٹیکل4،5،10اے،19 اور 19اے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔

 سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل یہ کمیشن حامد میر پر 19 اپریل 2014 میں حملے کے دو دن بعد قائم کیا گیا تھا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی اس کمیشن کی سربراہی کر رہے تھے ان کے علاوہ اس کمیشن میں جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس اقبال حمید الرحمان شامل تھے

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق یہ رپورٹ 15 دسمبر 2015 کو حکومت کے حوالے کر دی گئی تھی۔ لیکن ماضی میں اس طرز کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کی جانب سے کم ہی عام کی گئی ہے۔ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات میں مدد کرنے پر دس لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا لیکن بظاہر اس کا بھی کوئی فائد نہیں ہوا تھا

حامد میر پر حملہ کراچی کے ہوائی اڈے سے اپنے دفتر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے کیا تھا جس میں انہیں کئی گولیاں لگیں لیکن وہ بال بال بچ گئے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں صحافتی تنظیموں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے حکومت سے تحقیقات اور ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا، حامد میر کے بھائی عامر میر نے حملے کے فوراً بعد آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا تھا

No comments:

Post a Comment