Friday, April 17, 2020

مشال خان کے بارے میں

کچھ مشال خان کے بارے میں

مشال کا وہ اکاؤنٹ آج بھی موجود ہے جس سے وہ متحرک رہتا تھا۔ اس نے وہ اکاؤنٹ غالباً 2012ء میں تخلیق کیا تھا۔
اسی سال وہ روس گیا اور جب 2014ء میں واپس آیا تو بدلا ہوا مشال تھا

اس کی فیس بک پوسٹس میں پہلے بتدریج سرخ نظریات کی ترویج اور بعد میں الحاد کی تبلیغ شروع ہوگئی۔ جس کے بعد وہ باقاعدہ گستاخیاں کرنے لگا

میں ذاتی طور پر اس سے مناظرے کر چکا ہوں

ایک بار اس نے مجھے چڑانے کے لیے طنزیہ انداز میں کہا کہ " میں خدا ہوں بتاؤ مجھ میں کیا خامی ہے ؟"

تب میں نے تپ کر انسان کی ایک بہت بڑی بشری کمزوری کی جانب اشارہ کیا تو اس نے گالیاں دینی شروع کر دیں

نیچے اس کی پوسٹس کی گئی چند سکرین شاٹس پیش خدمت ہیں
ان میں اس نے جو کچھ کہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ کل 35 سکرین شاٹس تھیں جن میں سے اب چند ایک ہی مجھے ملی ہیں

جنید ملعون کی طرح مشال نے بھی یہی سب کچھ اپنی یونیورسٹی میں کہنا شروع کر دیا تھا

ان دنوں وقاص گورایا، سلمان حیدر اور عاصم سعید وغیرہ کے بھینسا، موچی اور روشنی جیسے پیجز دھڑا دھڑ گستاخانہ مواد شیئر کر رہے تھے اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ ایک فضا بنی ہوئی تھی

مشال نے زیادہ تر بکواس گروپس میں کی، وہ بھی کمنٹس کی شکل میں

ان تمام پوسٹس کو اب ڈیلیٹ کیا جا چکا ہے لہٰذا ان کے لنکس پر اگر آپ جائیں تو آپ کو بروکن ملتے ہیں

مشال گستاخ تھا یا نہیں اور یہ آئی ڈی اس کی تھی یا نہیں اس پر میں اپنی یادداشت کے سہارے دو دلائل پیش کرتا ہوں باقی فیصلہ آپ لوگ خود کیجیے

مشال کے حامی اس کی ایک سکرین شاٹ شیئر کرتے تھے جس میں وہ کسی فیک اکاؤنٹ کا بتا رہا ہوتا ہے۔ وہ سرخے دلیل دیتے تھے کہ کسی نے اس کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنا کر استعمال کیا تھا

وہ سکرین شاٹ بھی میں یہاں شیئر کر رہا ہوں اور وہی سکرین شاٹ ہی میری پہلی دلیل ہے

یہ سکرین شاٹ دسمبر 2016ء کی ہے جب مشال کی فیس بک گروپس وغیرہ میں گستاخانہ بکواس عروج پر تھی۔
آپ اس سکرین شاٹ کو غور سے پڑھیں

مشال نے لکھا ہے کہ "کسی نے میرے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنایا ہے اور اس سے ایک اور جعلی اکاؤنٹ کو میسجز کر رہا ہے جو لڑکی کا ہے۔ شاید وہ اس کے ذریعے مجھے بلیک میل کرے۔ دوست خبردار رہیں"

میرا نقطہ بہت سادہ سا ہے

وہ مشال جس نے محض ایک اتنے چھوٹے سے معاملے پر جعلی اکاؤنٹ بننے پر فوراً پوسٹ کی اور دوستوں کو خبردار کیا۔ وہ بھلا ایک ایسے اکاؤنٹ کے متعلق اتنے سال تک کیسے چُپ رہ سکتا تھا جو اس کے نام سے بنا تھا، کئی سال پرانا تھا اور اس سے ایسی گستاخیاں کی جا رہی تھیں جن پر 295 سی یقینی تھی ؟؟؟

مشال نے کبھی کوئی پوسٹ ایسی نہیں کی یا کسی کو بتایا کہ میرے نام سے ایک اتنا پرانا اکاؤنٹ چل رہا ہے جو گستاخیاں کر رہا ہے

اب یہاں ان نام نہاد سماجی کارکنوں کی نفسیات کو بھی سمجھیں۔ آج بھی گستاخان رسول بظاہر خود کو مضبوط کردار کا ثابت کرنے کے لیے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ لڑکیوں کے پیچھے نہیں پڑتے اور ان کے نظریات اور کردار بہت بلند ہیں۔ لیکن اسلام کا انکار اور گستاخیاں وہ دھڑلے سے کرتے ہیں

حتٰی کہ وقاص گورایا بھی خود پر یہ الزام برداشت نہیں کرے گا کہ وہ سوشل میڈیا پر لڑکیوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ اسی لیے اس کی صفائی اس نے فوراً پیش کی

دوسری دلیل یہ ہے کہ مشال کے خلاف جب یہ رپورٹس تواتر سے یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس بھیجی گئیں تو یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کو یونیورسٹی آنے سے منع کیا اور الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا

لیکن مشال اگلے ہی دن یونیورسٹی پہنچ گیا۔ جس کے بعد اس کے قتل کا واقعہ ہوا
مشال کے حامی اس کی بیگناہی کے حق میں یہ بھی ایک دلیل دیتے ہیں

لیکن مجھے تو اس میں بھی اس کے خلاف مضبوط دلیل ملتی ہے

جب مشال پر الزامات لگے اور اس کی یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی پر غور کرنا شروع کیا گیا تو اس دوران کل چار دن گزرے۔ جس کے بعد یونیورسٹی نے اس کو آنے سے منع کیا اور تحقیقات کا فیصلہ کیا

ذرا غور کریں

کسی عام شخص پر اگر گستاخی کا جھوٹا الزام لگے تو وہ اپنی صفائی میں آسمان سر پر اٹھا لے۔ اس کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں۔ کم از کم سوشل میڈیا پر اپنی صفائیاں ضرور دے اگر اس کا عادی ہو

لیکن مشال نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ مشال کا طرز عمل ایسا تھا گویا وہ ان الزامات کا عادی ہو۔ بلکہ الٹا یونیورسٹی انتظامیہ کو دھمکانے لگا

جس کے خلاف یونیورسٹی میں اتنے سنگین الزمات گردش کر رہے ہوں اس کی لاپرواہی اور اعتماد کا یہ عالم کہ اس نے اپنی صفائی میں ایک پوسٹ تک نہ کی بلکہ اگلے ہی دن یونیورسٹی پہنچ گیا اور ان طلباء پر طنز کرنے لگا جنہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی

اس کے بعد مشتعل ہجوم نے جب اس پر دھاوا بولا تو کہتے ہیں شدید زخمی ہونےکے بعد اس نے کلمہ پڑھ کر سنایا اور کہا مجھے ہسپتال لے جائیں

اس کو بھی اس کے مسلمان ہونے کے دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے

بھلا ایک ایسے شخص سے آپ اور کیا امید کر سکتے ہیں جس پر ہجوم اس وجہ سے حملہ آور ہو کہ وہ گستاخ ہے اور اس کو شدید زخمی بھی کر چکا ہو

وہ ہجوم کو کلمہ ہی پڑھ کر سنائیگا اور ہسپتال لے جانے کی ہی فرمائش کرے گا


مشال یہ بھی کہا کرتا تھا کہ وہ نوبل انعام جیتے گا اور ملالہ سے آگے جائیگا۔ اس کو آگے جانے کا شاید یہی طریقہ نظر آیا کہ وہ کچھ کرے اور وہ کچھ کہے جو کوئی نہ کر سکا تھا

اس کی بےگناہی کی گواہی اس لڑکے نے دی جو اس کا قریبی ساتھی مانا جاتا تھا اور جس پر خود بھی ایسے ہی الزامات تھے

اس کو قتل کرنا درست تھا یا نہیں ؟؟؟

میں آخری دلیل دیتا ہوں جتنی بھی سفاک لگے
ان عدالتوں کی موجودگی میں جنہوں نے بھینسا جیسے گستاخانہ پیجز کے ایڈمنز کو نہ صرف تحقیقاتی اداروں سے چھڑایا بلکہ پوری عزت سے باہر بھی بھیجا، گستاخان رسول  کو گستاخیاں کرنے سے روکنے کے لیے کم از کم ایک چیز تو باقی رہنی چاہیے اور وہ ہے " معاشرے کا خوف"

تحریر شاہد خان

نوٹ : منظور پشتین اس کی قبر پر لازمی حاضری دیتا ہے !!!













No comments:

Post a Comment