پی ٹی ایم میں شدید ہوتے اختلافات، گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو
پی ٹی ایم میں پھوٹ تو اُسی دن پڑ چکی تھی جس دن علی وزیر اور محسن داوڑ نے منظور پشتین کے پی ٹی ایم پہ کنٹرول کو چیلنج کرتے ہوئے کھل کر سامنے آنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد منظور پشتین کا پی ٹی ایم پر ہولڈ صرف پاکستان میں چند حلقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا جبکہ علی وزیر اور محسن داوڑ نے پی ٹی ایم کی جڑوں کو پکڑا اور پی ٹی ایم کو فنڈنگ، میڈیا سپورٹ، افرادی سپورٹ فراہم کرنے والوں کی گود میں جا بیٹھے
افغانستان حکومت ہو، پی پی ہو، امریکہ میں حسین حقانی یا انڈین لابی ہو، ان سب کو محسن داوڑ نے ہائی جیک کر لیا۔ اس ہائی جیک کرنے کا بڑا نقصان پی ٹی ایم کو یہ ہوا کہ ان کے درمیان دو گروہ بن گئے اور لوگ تقسیم ہوگئے گو کہ یہ بات یہ پبلک میں نہیں مانتے لیکن "اہم ترین" اندرونی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اندر لاوا اُبل رہا ہے جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔ منظور اور اسکے ساتھی پی ٹی ایم کی اہم مشاورتی و معاملاتی کمیٹی سے علیحدہ ہیں۔ ظاہری طور پر پی ٹی ایم کو بچانے کی خاطر ایک دوسرے کو برداشت کر رہے ہیں
ان ذرائع کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے دوران جب محسن داوڑ اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کو گھروں سے نکالے اور حکومت پاکستان کے خلاف کرونا وائرس کو پراکسی کے طور پہ استعمال کرے اور اس لاک ڈاؤن کے دوران بھی احتجاجی مظاہرے کرکے لوگوں کو باہر لائیں لیکن اس میں منظور پشتین نے انکی حمایت سے کنارہ کرتے ہوئے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد محسن داوڑ اور منظور پشتین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جسے دبا دیا گیا اور معاملے کو رفع دفع کردیا گیا۔ اس کے بعد پی ٹی ایم کی اب جتنی میٹنگز ہوتی ہیں ان میں اکثر میں منظور پشتین اور اسکے قریبی لوگ شامل ہی نہیں ہوتے اور یہ میٹنگز اب صرف اسکائپ کی حد تک ہی رہ چکی ہیں ان میں بھی محسن داوڑ گروپ ہی اپنی من مرضی کی پالیسیز بنا رہا ہے
منظور پشتین گروپ اکثر ان میٹنگز میں شامل نہیں ہوتا جبکہ منظور پشتین گروپ برملا کہتا نظر آتا ہے کہ منظور کے بغیر کوئی پالیسی منظور نہیں۔ پی ٹی ایم کو ہائی جیک کیا گیا ہے جس پی ٹی ایم کو منظور نے کھڑا کیا آج اس پی ٹی ایم کی میٹنگز میں منظور پشتین شامل نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اسکی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی جس سے پارٹی میں کسی وقت بھی شدید بغاوت پھوٹ سکتی ہے جو پی ٹی ایم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی اور منظور پشتین یا محسن داوڑ اور علی وزیر ایک دوسرے کا سارا کچرا باہر نکال سکتے ہیں
پی ٹی ایم میں یہ جھگڑے آج سے نہیں ہیں بلکہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پی ٹی ایم پہ کنٹرول، بیرونی طاقتوں سے محسن داوڑ اور علی وزیر کے یارانے، خڑقمر چیک پوسٹ حملے کے بعد منظور کی بیوفائی، کروڑوں روپے کے چندہ خردبُرد، پھر منظور کی گرفتاری کے بعد محسن داوڑ گروپ کا انتہائی سرد رویہ، اشرف غنی کی صدراتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت، جس میں منظور پشتین کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا جس کے بعد اندرونی ذرائع کی خبر تھی کہ اختلافات شدید ہوتے جا رہے ہیں، لاوا پھٹتا، اس سے پہلے ہی منظور کو افغانستان سے بڑا تحفہ ملا جس میں رقم ، ایک گاڑی اورکچھ دیگر اہم چیزیں شامل تھیں جس کے بعد جا کر منظور نے خاموشی اختیار کرلی
کرونا وائرس کے بعد پی ٹی ایم میں شدید بے چینی ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد پی ٹی ایم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے۔ اللہ ہی جانے لیکن جو پی ٹی ایم کے حالات اور اندرونی خبریں ہیں، ہر دو چار روز بعد قیادت میں چپقلش کی خبریں ہیں اس سے واضح ہو رہا ہے کہ پی ٹی ایم کا شیرازہ جلد ہی بکھر جائے گا۔ یا پھر منظور پشتین اور محسن داوڑ گروپ کھل کر ایک دوسرے کی مخالفت میں آجائیں گے
پی ٹی ایم میں پھوٹ تو اُسی دن پڑ چکی تھی جس دن علی وزیر اور محسن داوڑ نے منظور پشتین کے پی ٹی ایم پہ کنٹرول کو چیلنج کرتے ہوئے کھل کر سامنے آنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد منظور پشتین کا پی ٹی ایم پر ہولڈ صرف پاکستان میں چند حلقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا جبکہ علی وزیر اور محسن داوڑ نے پی ٹی ایم کی جڑوں کو پکڑا اور پی ٹی ایم کو فنڈنگ، میڈیا سپورٹ، افرادی سپورٹ فراہم کرنے والوں کی گود میں جا بیٹھے
افغانستان حکومت ہو، پی پی ہو، امریکہ میں حسین حقانی یا انڈین لابی ہو، ان سب کو محسن داوڑ نے ہائی جیک کر لیا۔ اس ہائی جیک کرنے کا بڑا نقصان پی ٹی ایم کو یہ ہوا کہ ان کے درمیان دو گروہ بن گئے اور لوگ تقسیم ہوگئے گو کہ یہ بات یہ پبلک میں نہیں مانتے لیکن "اہم ترین" اندرونی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اندر لاوا اُبل رہا ہے جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔ منظور اور اسکے ساتھی پی ٹی ایم کی اہم مشاورتی و معاملاتی کمیٹی سے علیحدہ ہیں۔ ظاہری طور پر پی ٹی ایم کو بچانے کی خاطر ایک دوسرے کو برداشت کر رہے ہیں
ان ذرائع کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے دوران جب محسن داوڑ اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کو گھروں سے نکالے اور حکومت پاکستان کے خلاف کرونا وائرس کو پراکسی کے طور پہ استعمال کرے اور اس لاک ڈاؤن کے دوران بھی احتجاجی مظاہرے کرکے لوگوں کو باہر لائیں لیکن اس میں منظور پشتین نے انکی حمایت سے کنارہ کرتے ہوئے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد محسن داوڑ اور منظور پشتین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جسے دبا دیا گیا اور معاملے کو رفع دفع کردیا گیا۔ اس کے بعد پی ٹی ایم کی اب جتنی میٹنگز ہوتی ہیں ان میں اکثر میں منظور پشتین اور اسکے قریبی لوگ شامل ہی نہیں ہوتے اور یہ میٹنگز اب صرف اسکائپ کی حد تک ہی رہ چکی ہیں ان میں بھی محسن داوڑ گروپ ہی اپنی من مرضی کی پالیسیز بنا رہا ہے
منظور پشتین گروپ اکثر ان میٹنگز میں شامل نہیں ہوتا جبکہ منظور پشتین گروپ برملا کہتا نظر آتا ہے کہ منظور کے بغیر کوئی پالیسی منظور نہیں۔ پی ٹی ایم کو ہائی جیک کیا گیا ہے جس پی ٹی ایم کو منظور نے کھڑا کیا آج اس پی ٹی ایم کی میٹنگز میں منظور پشتین شامل نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اسکی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی جس سے پارٹی میں کسی وقت بھی شدید بغاوت پھوٹ سکتی ہے جو پی ٹی ایم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی اور منظور پشتین یا محسن داوڑ اور علی وزیر ایک دوسرے کا سارا کچرا باہر نکال سکتے ہیں
پی ٹی ایم میں یہ جھگڑے آج سے نہیں ہیں بلکہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پی ٹی ایم پہ کنٹرول، بیرونی طاقتوں سے محسن داوڑ اور علی وزیر کے یارانے، خڑقمر چیک پوسٹ حملے کے بعد منظور کی بیوفائی، کروڑوں روپے کے چندہ خردبُرد، پھر منظور کی گرفتاری کے بعد محسن داوڑ گروپ کا انتہائی سرد رویہ، اشرف غنی کی صدراتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت، جس میں منظور پشتین کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا جس کے بعد اندرونی ذرائع کی خبر تھی کہ اختلافات شدید ہوتے جا رہے ہیں، لاوا پھٹتا، اس سے پہلے ہی منظور کو افغانستان سے بڑا تحفہ ملا جس میں رقم ، ایک گاڑی اورکچھ دیگر اہم چیزیں شامل تھیں جس کے بعد جا کر منظور نے خاموشی اختیار کرلی
کرونا وائرس کے بعد پی ٹی ایم میں شدید بے چینی ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد پی ٹی ایم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے۔ اللہ ہی جانے لیکن جو پی ٹی ایم کے حالات اور اندرونی خبریں ہیں، ہر دو چار روز بعد قیادت میں چپقلش کی خبریں ہیں اس سے واضح ہو رہا ہے کہ پی ٹی ایم کا شیرازہ جلد ہی بکھر جائے گا۔ یا پھر منظور پشتین اور محسن داوڑ گروپ کھل کر ایک دوسرے کی مخالفت میں آجائیں گے

No comments:
Post a Comment