21 شعبان المکرم 673 ہجری
یومِ وصال حضرت سخی لعل شہباز قلندر رحمتہ اللّه علیہ
(1177ء تا 1274ء)
جن کا اصل نام سید عثمان ہے، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا تعلق صوفی سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیھم ان کے قریباً ہم عصر تھے۔
#ولادت
آپ کی ولادت 538 ہجری بمطابق 1143 عیسوی میں مروند میں ہوئی
#سلسلہ_نسب
آپ کا سلسلہ نسب 13 واسطوں سے امام جعفر صادق علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سید محمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادقؓ
#القاب_کی_وجہ_تسمیہ
آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھیں اس وجہ سے آپ کا لقب لعل ہوا۔شہباز کا لقب حضرت سیدنا امام حسن علیہ السلام نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا اس وجہ سے "شہباز" لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے۔
#ابتدائی_حالات
آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ ان کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی آپ کی بڑی عزت تھی
#وصال
آپ کا وصال 18 شعبان المعظم 673 ہجری میں ہوا
#مزار_اور_عرس
ان کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے 💞
یومِ وصال حضرت سخی لعل شہباز قلندر رحمتہ اللّه علیہ
(1177ء تا 1274ء)
جن کا اصل نام سید عثمان ہے، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا تعلق صوفی سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیھم ان کے قریباً ہم عصر تھے۔
#ولادت
آپ کی ولادت 538 ہجری بمطابق 1143 عیسوی میں مروند میں ہوئی
#سلسلہ_نسب
آپ کا سلسلہ نسب 13 واسطوں سے امام جعفر صادق علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سید محمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادقؓ
#القاب_کی_وجہ_تسمیہ
آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھیں اس وجہ سے آپ کا لقب لعل ہوا۔شہباز کا لقب حضرت سیدنا امام حسن علیہ السلام نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا اس وجہ سے "شہباز" لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے۔
#ابتدائی_حالات
آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ ان کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی آپ کی بڑی عزت تھی
#وصال
آپ کا وصال 18 شعبان المعظم 673 ہجری میں ہوا
#مزار_اور_عرس
ان کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے 💞

No comments:
Post a Comment