Sunday, April 19, 2020

باچا خان کا اعتراف

باچا خان کا اعتراف

باچا خان نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ  ہم (سرخے) وزیرستان میں جہاں جہاں بھی گئے ہمیں ہر جگہ جرگے نے ایک جیسا جواب دیا اور وہ یہ تھا کہ

" ہم ہندوؤں کی حکومت نہیں چاہتے یا دوسرے لفظوں میں ہندو کے غلام بن کر نہیں رہ سکتے "
باب نمبر 42 صفحہ 181

یہ جواب باچا خان کو میران شاہ، رزمک اور وانا کے جرگوں میں پشتونوں نے دیا

باچا خان کے اس اعتراف سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پشتون علاقوں میں ریفرنڈم  اور اس کے نتائج بلکل ٹھیک تھے۔

سرخے پشتونوں کو ہندوؤں کی غلامی پر آمادہ نہ کرسکے۔
اس ناکامی کے فوراً بعد ہندو وفود تیزی سے افغانستان جانے لگیں اور یہاں سرخوں نے اچانک لوئے ہندوستان کا نعرہ چھوڑ کر اور پینترا بدل کر لوئے افغانستان یا لوئے پشتونستان کا نعرہ لگا دیا

اس کے لیے بنوں میں باچا خان نے فقیر ایبی کو راضی کیا جس نے قیام پاکستان کے بعد افغان سرخوں کی ایماء پر پاکستان کے خلاف پہلی دہشتگردانہ جنگ لڑی جس میں پاکستان کا ساتھ دینے والے بہت سے پشتونوں کو قتل کر دیا گیا

بعد میں جب اس کو احساس ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی تاہم مرتے دم تک فقیر ایپی افغانستان اور افغانیوں کو گالیاں دیتا رہا

یہ سارے اعترافات فقیر ایپی کے ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر نے ریڈیو پاکستان پر بھی کیے !!!

No comments:

Post a Comment