02 اپریل 1955
فیض احمد فی
ض حیدر آباد سینٹرل جیل سے رہا ہوئے تھے۔
قفس ہے بس میں تمہارے‘ تمہارے بس میں نہیں
چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم
09 مارچ 1951 کو فیض احمد فیض كو راولپنڈی سازش كیس میں معاونت كے الزام میں لیاقت علی خان کی حکومت نے گرفتار كر لیا
فیض احمد فیض نے چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیلوں میں گزارے۔
05 جنوری 1953 کو راولپنڈی سازش کیس کا فیصلہ سنایا گیا تھا اور فیض احمد فیض کو چار سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ اس وقت وہ حیدرآباد سینٹرل جیل میں قید تھے۔ بعد میں آپ كو 02 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ۔
زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔
محترم محمد اسحاق صاحب (سابق میجر) فیض کی شاعری کو چار ادوار میں تقسیم کرتے ہیں جن کا تفصیلاً ذکر انہوں نے فیض کے کلام ’’زندان نامہ‘‘ میں مضمون بہ عنوان ’’رودادِ قفس‘‘ میں کیا ہے۔
فیض صاحب کی جیل کی شاعری کے چار رنگ
پہلا رنگ۔۔۔۔۔: سرگودھا اور لائل پور کی جیلوں میں ان کی تین مہینوں کی قیدِ تنہائی کا ہے
متاحِ لوح و قلم چِھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
دوسرا رنگ۔۔۔۔: حیدر آباد کا ہے جہاں انہیں ہر طرح کا جسمانی آرام جو جیل میں ممکن ہو سکتا تھا ‘ میسر تھا
یہی جنوں کا یہی طوق و دار کا موسم
یہی ہے جبر‘ یہی اختیار کا موسم
قفس ہے بس میں تمہارے‘ تمہارے بس میں نہیں
چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
تیسرا رنگ۔۔۔۔۔۔: کراچی کا ہے جہاں فیض صاحب دو ماہ مقیم رہے۔ دراصل یہ رنگ دوسرے اور چوتھے رنگ کی درمیانی کڑی ہے۔کراچی اور منٹگمری میں لکھی ہوئی غزلوں اور نظموں کے مجموعے کا نام ’’زندان نامہ‘‘رکھا گیا
ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن‘ نہ تھی تری انجمن سے پہلے
سزا ‘ خطائے نظر سے پہلے‘ عتاب جرمِ سخن سے پہلے
جو چل سکو تو چلو کہ راہِ وفا بہت مختصر ہوئی ہے
مقام ہے اب کوئی نہ منزل‘ فرازِ دار و رسن سے پہلے
چوتھا رنگ۔۔۔۔۔۔: منٹگمری جیل کی شاعری کا ہے
ہم اہل قفس تنہا ہی نہیں‘ ہر روز نسیم صبحِ وطن
یادوں سے معطر آتی ہے‘ اشکوں سے منور جاتی ہے
ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہو اندھیرے کی فصیلوں سے اُدھر
ان کو شعلوں کے رجز اپنا پتا تو دیں گے
خیر ہم تک وہ پہنچیں بھی‘ صدا تو دیں گے
دُور کتنی ہے ابھی صبح‘ بتا تو دیں گے
ان ادوار میں لکھی گئی نظموں میں فیض کے سیاسی نظریات اور شعری آہنگ کا حسین اِمتزاج موجود ہے جو اہل علم و ادب سے خراجِ تحسین پاتا ہے
چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں ‘ تڑپ لیں‘ رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
فیض کی شاعری کی معراج یہ ہے کہ انہوں نے اُردو روایتی شاعری سے اپنا تعلق بھی قائم رکھا اور عصری تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ان کی شاعری صحیح معنوں میں اپنے اسلاف کی شعری روایات کی امین ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی فیض کی شاعری اپنے مخصوص لب و لہجے کی مانوسیت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
فیض احمد فی
ض حیدر آباد سینٹرل جیل سے رہا ہوئے تھے۔
قفس ہے بس میں تمہارے‘ تمہارے بس میں نہیں
چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم
09 مارچ 1951 کو فیض احمد فیض كو راولپنڈی سازش كیس میں معاونت كے الزام میں لیاقت علی خان کی حکومت نے گرفتار كر لیا
فیض احمد فیض نے چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیلوں میں گزارے۔
05 جنوری 1953 کو راولپنڈی سازش کیس کا فیصلہ سنایا گیا تھا اور فیض احمد فیض کو چار سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ اس وقت وہ حیدرآباد سینٹرل جیل میں قید تھے۔ بعد میں آپ كو 02 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ۔
زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔
محترم محمد اسحاق صاحب (سابق میجر) فیض کی شاعری کو چار ادوار میں تقسیم کرتے ہیں جن کا تفصیلاً ذکر انہوں نے فیض کے کلام ’’زندان نامہ‘‘ میں مضمون بہ عنوان ’’رودادِ قفس‘‘ میں کیا ہے۔
فیض صاحب کی جیل کی شاعری کے چار رنگ
پہلا رنگ۔۔۔۔۔: سرگودھا اور لائل پور کی جیلوں میں ان کی تین مہینوں کی قیدِ تنہائی کا ہے
متاحِ لوح و قلم چِھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
دوسرا رنگ۔۔۔۔: حیدر آباد کا ہے جہاں انہیں ہر طرح کا جسمانی آرام جو جیل میں ممکن ہو سکتا تھا ‘ میسر تھا
یہی جنوں کا یہی طوق و دار کا موسم
یہی ہے جبر‘ یہی اختیار کا موسم
قفس ہے بس میں تمہارے‘ تمہارے بس میں نہیں
چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
تیسرا رنگ۔۔۔۔۔۔: کراچی کا ہے جہاں فیض صاحب دو ماہ مقیم رہے۔ دراصل یہ رنگ دوسرے اور چوتھے رنگ کی درمیانی کڑی ہے۔کراچی اور منٹگمری میں لکھی ہوئی غزلوں اور نظموں کے مجموعے کا نام ’’زندان نامہ‘‘رکھا گیا
ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن‘ نہ تھی تری انجمن سے پہلے
سزا ‘ خطائے نظر سے پہلے‘ عتاب جرمِ سخن سے پہلے
جو چل سکو تو چلو کہ راہِ وفا بہت مختصر ہوئی ہے
مقام ہے اب کوئی نہ منزل‘ فرازِ دار و رسن سے پہلے
چوتھا رنگ۔۔۔۔۔۔: منٹگمری جیل کی شاعری کا ہے
ہم اہل قفس تنہا ہی نہیں‘ ہر روز نسیم صبحِ وطن
یادوں سے معطر آتی ہے‘ اشکوں سے منور جاتی ہے
ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہو اندھیرے کی فصیلوں سے اُدھر
ان کو شعلوں کے رجز اپنا پتا تو دیں گے
خیر ہم تک وہ پہنچیں بھی‘ صدا تو دیں گے
دُور کتنی ہے ابھی صبح‘ بتا تو دیں گے
ان ادوار میں لکھی گئی نظموں میں فیض کے سیاسی نظریات اور شعری آہنگ کا حسین اِمتزاج موجود ہے جو اہل علم و ادب سے خراجِ تحسین پاتا ہے
چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں ‘ تڑپ لیں‘ رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
فیض کی شاعری کی معراج یہ ہے کہ انہوں نے اُردو روایتی شاعری سے اپنا تعلق بھی قائم رکھا اور عصری تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ان کی شاعری صحیح معنوں میں اپنے اسلاف کی شعری روایات کی امین ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی فیض کی شاعری اپنے مخصوص لب و لہجے کی مانوسیت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

No comments:
Post a Comment