Tuesday, April 21, 2020

علامہ اقبال اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

علامہ اقبال اور عشق رسول

علامہ اقبال کی ساری شاعری کا نچوڑ اور مقصدیت شکوہ اور جواب شکوہ میں ہے اور جواب شکوہ کا نچوڑ اس ایک لازوال شعر میں ہے

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

یہ محض شعر نہیں، یہ پورا فلسفہ عشق بیان کر دیا ہے کہ جو محمد سے وفا کا حق ادا کر گیا وہ سمجھو کہ لوح و قلم پا گیا

حیاتِ اقبال کے وہ گوشے جن پر سب سے زیادہ بات کی گئی، لکھا گیا، کہا گیا ان میں سرفہرست علامہ اقبال کی سرورِ کونین محبوبِ کبریا آقائے نامدار سرکارِ دو جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  سے محبت، عشق اور والہانہ عقیدت ہے۔ اسی عشق نے ان کو وہ معراج عطا کی جس کی تمنا ہر فرزندِ اسلام کے دل میں ہے

علامہ اقبال کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام سنتے تو آنکھیں بھر آتیں اور دیر تک روتے رہتے۔ آپ کے کلام کا حاصل ہی حبِ رسول ہے۔ آپ نے ساری زندگی جو عشق کمایا، اس کو اپنے کلام میں سمو دیا۔ اب کلام پڑھیں تو ہر لفظ عشقِ رسول میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے

بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

ترجمہ:
خود کو مصطفیٰ کی بارگاہ سے جوڑ لو کہ دین کی اساس یہی ہیں
اگر تم وہاں تک نہیں پہنچ پاتے تو پھر تمارا تمام عمل بولہبی (کفر) ہے

ایک مرتبہ کسی نے علامہ سے پوچھا کہ حضور آپ نے جو اس قدر سوز کے ساتھ کلام لکھا ہے جو کہ ایک طرف مدحتِ رسول سے بھرا ہوا ہے اور دوسری طرف فلسفیانہ کمال کا نقطہ عروج ہے، تو یہ دو انتہائیں کیسے نصیب ہوئیں ؟ تو اقبال نے ان سے راز کی بات کہی کہ میں درود شریف کثرت سے پڑھتا ہوں کہ مجھے جو کچھ نصیب ہوا وہ سب اسی درود شریف کے صدقے میں ملا ہے۔

علامہ اقبال کی کل شاعری قران کی فلسفیانہ تفسیر ہے اور جیسے قران آقا ﷺ پر نازل ہوا تھا اسی طرح کلام اقبال بھی سیرتِ طیبہ ﷺ کا طواف کرتا نظر آتا ہے

در دلِ مسلم مقامِ مصطفیؐ است
آبروئے مازِ نامِ مصطفیؐ است

طورِ موجے از غبارِ خانہ اش
کعبہ را بیت الحرم کاشانہ اش

کمتر از آنے ز اوقاتش ابد
کاسبِ افزائش از ذاتش ابد

بوریا ممنونِ خوابِ راحتش
تاجِ کسریٰ زیرِ پائے امتش

درشبستانِ حرا خلوت گزید
قوم و آئین و حکومت آفرید

ماند شبہا چشم او محروم نوم
تابہ تخت خسروی خوابیدہ قوم

در جہاں آئینِ نو آغاز کرد
مسندِ اقوامِ پیشیں در نورد

از کلیدِ دیں درِ دنیا کشاد
ہمچو او بطنِ اَمِ گیتی نزاد

در نگاہِ او یکے بالا و پست
با غلامِ خویش بر یک خواں نشست

روزِ محشر اعتبارِ ماست او
در جہاں ہم پردہ دارِ ماست او

لطف و قہرِ او سر اپا رحمتے
آں بیاراں ایں باعدا رحمتے

آنکہ بر اعدا درِ رحمت کشاد
مکہ را پیغام ’ لا تثریب‘ داد

مستِ چشمِ ساقیِ بطحاستیم
در جہاں مثلِ مے و میناستیم

امتیازاتِ نسب را پاک سوخت
آتشِ او ایں خس و خاشاک سوخت

چوں گلِ صد برگ مارا بو یکیست
اوست جانِ ایں نظام و او یکیست

سرِّ مکنونِ دلِ او ما بدیم
نعرہ بے باکانہ زد، افشا شدیم

شورِ عشقش در نئے خاموشِ من
می تپد صد نغمہ در آغوشِ من

من چہ گویم از تولَّایش کہ چیست
خشک چوبے در فراقِ او گریست

نسخہء کونین را دیباچہ اوست
جملہ عالم بندگان و خواجہ اوست

’’[ترجمہ] حضرت محمد مصطفی ﷺ کا مقام مسلمان کے دل میں ہے۔ ہم مسلمانوں کی عزت و آبرو بھی آپ ﷺ ہی کے نام سے قائم ہے۔ آپ کے گھر کے غبار کی لہر ’طور سینا‘ ہے۔آپ ﷺ کا حجرہ مبارک ، بیت اللہ کے لیے بھی کعبہ کا درجہ رکھتا ہے۔ ابد آپ کے اوقات کے مقابلے میں ایک لمحے سے بھی کم وقفہ ہے۔ دراصل آپ ہی کی ذات سے ابد نے بھی ابدیت حاصل کی ہے۔ آپ بورئیے پر آرام فرماتے تھے اس لیے بوریا بھی آپ کے احسان کا ممنون ہے۔ آپ کی امت کے پاؤں کے نیچے کسریٰ کا تاج آیا۔ آپ ﷺ نے غار حرا میں تنہائی کی راتیں گزاریں۔آپ ﷺنے ایک نئی قوم، ایک نیا آئین اور ایک نئی حکومت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے بہت سی راتیں بغیر نیند گزاریں تاکہ آپ ﷺ کی امت تخت خسروی پر آرام کرے۔ دنیا میں آپﷺ نے نئے دستور کا آغاز فرمایا۔ سابقہ قوموں کی مسند اقتدار کو آپﷺ نے لپیٹ دیا۔ آپ ﷺ نے دین کی چابی سے دنیا کا دروازہ کھولا۔ آپ جیسا سپوت مادر گیتی نے بھی نہ جنا۔ (حضرت حسان بن ثابتؓ نے فرمایا تھا و اجمل منک لم تلدالنساءٗ اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی ماں نے نہیں جنا)۔ آپ ﷺ کی نگاہ میں بلند اور پست سب انسان برابر ہیں۔ آپؐ اپنے غلام کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے۔ حشر کے دن ہم مسلمانوں کا بھروسہ (شفاعت کے لیے) آپﷺ ہی کی ذات پر ہوگا۔ دنیا میں بھی آپ ﷺ ہی ہماری کمزوریوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔ آپ ﷺ کا لطف اور قہر، دونوں سراپا رحمت ہیں۔ لطف دوستوں کے لیے اور قہر دشمنوں کے لیے رحمت ہے۔ آپ ﷺ وہ ہیں جنہوں نے دشمنوں پر رحمت کے دروازے کھو ل دئیے۔ فتح مکہ کے وقت اپنے جانی دشمنوں سے فرمایا ’آج تم پر کوئی گرفت نہیں‘ (جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں اپنے بھائیوں کو معاف فرمایا تھا)۔ ہم بطحا کے ساقی کی آنکھوں سے پی کر مست ہیں۔ ہم دنیا میں شراب اور صراحی کی طرح ہیں۔ آپ ﷺ نے نسل و نسب کے فرق کو یکسر بھسم کردیا۔ دنیا کے باغ کو اس کوڑے کرکٹ سے پاک فرما دیا۔ سو پتیوں کے پھول کی طرح ہماری خوشبو ایک ہی ہے۔ (کیونکہ) آپ ﷺ اس نظام کی روح ہیں اور آپ ﷺ ایک ہیں۔ ہم آپ ﷺ کے قلب میں چھپے ہوئے بھید کی طرح تھے۔ جب آپ نے بے باکانہ نعرۂ توحید بلند فرمایا تو ہم ظاہر ہو گئے۔ میری خاموش بنسری میں آپ ﷺ کے عشق کا شور ہے۔ میرے سینے میں سینکڑوں نغمے تڑپ رہے ہیں۔ میں آپ ﷺ کی محبت کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ کیا ہے۔ آپ ﷺ کی جدائی کے خیال سے تو سوکھا ہوا تنا (حنانہ) بھی رونے لگا تھا۔ (المختصر) ساری کائنات کتاب ہے تو اس کا دیباچہ (مغز، جوہر) آپ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ تمام عوالم غلام ہیں اور آپ ﷺ ہی آقا ہیں‘‘


 اللہ تعالیٰ علامہ اقبال کی روح کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پاکستان کو ان کے خوابوں کے مطابق ایک ایسی ریاست بنائے جو صحیح معنوں میں اسلام کی تجربہ گاہ بن سکے۔ آمین، ثمہ آمین

آخر میں علامہ اقبال کے چند اشعار عشق و محبت والوں کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادیِ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قراں وہی فرقاں وہی یٰس وہی طہٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عشق دم جبرائیل عشق دل مصطفی​
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام​

عشق کے مضراب سے نغمئہ تار حیات​
عشق سے نور حیات عشق سے نار حیات

No comments:

Post a Comment