04 اپریل 1938
یومِ پیدائش میجر محمد اکرم شہید نشانِ حیدر
ذکر اس شہید نشانِ حیدر کا جو پاکستان میں مدفون نہیں
ہم کوئی شہادت نہیں بُھولے
ہر شہید ہمارے سر کا تاج ہے
وہ جن کو فقط 16 دسمبر 1971 کو جنرل نیازی کا ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنا یاد رہتا ہے انہیں چاہیے کہ ہلی کے محاذ پہ میجر محمد اکرم شہید کی داستان شجاعت و بہادری کا ضرور مطالعہ کریں۔
میجر محمد اکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں 4 اپریل 1938 کو اپنے ننھیال کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی گاؤں نکہ کلاں جہلم سے بیس میل جنوب میں پنڈدادن خان روڈ پر واقع ہے۔ آپ کے والد محترم کا نام ملک سخی محمد تھا۔ انہوں نے بھی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ نیک سیرت اور نہایت ہی پرہیزگار انسان تھے۔ میجر محمد اکرم شہید کی والدہ ماجدہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ وہ بڑی باشعور اور دیندار خاتون تھیں جن کی وجہ سے ان کے دو بیٹوں افضل ملک اور حفیظ اللہ نے قرآن پاک حفظ کیا۔ اکرم شہید کی آبیاری بھی اسی دینی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کرنے اور میٹرک کرنے کے بعد وہ 16 اگست 1948 کو ملٹری کالج جہلم میں داخل ہوئے جہاں تعلیم کے ساتھ انہوں نے باکسنگ اور ہاکی میں بھی دلچسپی لی اور کالج کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ اکرم شہید جولائی 1953 میں کالج سے فارغ ہو کر پنجاب رجمنٹ کی بوائز کمپنی میں بھرتی ہوئے جہاں انہیں تعلیم اور کھیلوں میں آگے ہونے کے سبب پلاٹون کمانڈر اور بعد ازاں بوائز کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا
دو سال بعد وہ ایک باقاعدہ سپاہی کی حیثیت سے 8 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ملٹری اسپیشل امتحان پاس کیا جو کمیشن میں جانے کے لئے ضروری تھا اور انہوں نے کمیشن کے لئے درخواست دی۔ ناکامی ہوئی‘ لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوبارہ کوشش کی اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔1961ء میں انہیں 28 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے چُن لیا گیا جس کے بعد 13 اکتوبر 1963ء کو انہیں کمیشن مِلا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر 4 ایف ایف رجمنٹ میں ہوا جو اس وقت پشاور میں تعینات تھی۔ دو سال بعد انہیں کیپٹن بنا دیا گیا۔ 1965 کی جنگ میں انہوں نے دشمن سے بھرپور مقابلہ کیا
7 جولائی 1968 کو ان کا تبادلہ ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوگیا اور وہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔ 23 مارچ 70 تک وہاں رہے اس عرصے میں انہیں مشرقی پاکستان کے بڑے حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے بنگالی زبان بھی سیکھ لی
مشرقی پاکستان میں دو سال گزارنے کے بعد جب کیپٹن اکرم اپنی پلٹن 4 ایف ایف سیالکوٹ پہنچے تو سب نے مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ ستمبر 1970 میں آپ کی یونٹ کوئٹہ پہنچی۔ وہاں جانے سے پہلے آپ نے جولائی اگست میں مری انٹیلیجینس کورس بھی کیا۔
31 مارچ 71ء کو میجر اکرم یونٹ کے ساتھ ایک بار پھر مشرقی پاکستان پہنچے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ان کی کمپنی ہلی کے مقام پر صف آراء ہوئی۔ ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رگ کی سی تھی۔ مشرقی پاکستان کے شمالی علاقوں میں متعین ساری فوج کی سپلائی لائن یہاں سے گزرتی تھی۔ دشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کرکے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ ہلی پر قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے 202 ماؤنٹین بریگیڈ کو دو ماؤنٹین رجمنٹس‘ آرٹلری کی ایک لائٹ بیٹری اور ایک میڈیم رجمنٹ (ایک بیٹری کم) اور T-55 ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی اس موقع پر میجر اکرم نے کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے بھرپور حملوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف دشمنوں کو پیش قدمی سے روکے رکھا بلکہ اس کے کئی ٹینک تباہ کئے اور سخت جانی نقصان بھی پہنچایا
یہ 5 دسمبر 1971 ہے ۔ تاریخ کے اوراق الٹیں تو چشمِ تصور میں نگاہیں مشرقی پاکستان کے ضلع بوگرہ دیناج پور کے قصبہ ہلّی پہ رک جاتی ہیں۔ مشرقی پاکستان ، ماہِ دسمبر، جاڑا اور خاکی وردی میں ملبوس صرف 42 سپاہی ۔۔۔ !! جن کے پاس ہتھیار اور خوراک سب ختم ہوچکے تھے ۔ سردیاں عروج پر تھیں ۔ گرمی تھی تو رگوں میں دوڑتے خون کی گرمی یا پھر ان دھماکوں کی جو دشمن کے بھاری توپ خانے سے اٹھتے اور جب خاموش ہوتے تو بکھرے ہوئے خون کی گرمی ان سرد لمحوں میں اپنی تپش کا اظہار کرتی۔ اس آگ و خون کے معرکے میں پاک فوج کے ساتھ البدر، الشمس اور مجاہد فورس کے چند نوجوان بھی آج مشرقی پاک کی سرحد پہ سینہ سپر تھے
ہلّی کے اسی محاذ پر 03 دسمبر 1971 یعنی دو دن قبل وائرلیس سے اچانک ایک پیغام سنائی دیتا ہے :
" کرنل شرما ! بریگیڈئیر لچھمن سنگھ ہیٸر۔۔۔ کرنل شرما ! آج جنگ کو شروع ہوئے 12 دن ہوچکے تمہارے بقول یہاں صرف ایک چھوٹی سی یونٹ ہے جو ہلّی ریلوے لائن پہ ہے لیکن یہاں ہمارے چار بریگیڈ آگے نہیں بڑھ رہے "
وائرلیس پہ انٹر سیپٹ ہوتی یہ آواز سنتے ہی پاک فوج کا کمپنی کمانڈر جس کا بھوک سے برا حال تھا نعرہ تکبیر بلند کرکے اپنی چھوٹی سی کمپنی کا مورال بلند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ " اللّہ کا شکر ہے کہ ہم نے دشمن کی پیش قدمی روکتے ہوئے آگے بڑھنے سے روکا ہوا ہے " اب وہ تمام سپاہی جن پر بھوک اور تکان کا غلبہ تھا اُن میں بھی جوشِ تازہ بیدار ہوتا ہے ۔۔ 22 نومبر سے باضابطہ جنگ شروع ہوئے دو ہفتے گذر چکے تھے ۔ مشرقی پاکستان کا یہ شمالی حصّہ جہاں سے بھارت نے مکتی باہنی کے غنڈوں کے لیے اسلحہ اور افرادی قوت پہنچانی تھی تاحال رکا ہوا تھا ۔ یہاں میجر محمد اکرم کی قیادت میں اب صرف 42 سپاہی معہ رضاکار بچے تھے جو ارضِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے بھارت کی چار بریگیڈ کو للکار رہے تھے ۔ دوسری جانب دیناج پور ، بوگرا سیکٹر اور اس کے نواح میں البدر ، الشمس اور مجاہد فورس کے چند رضا کار بھی تھے جو آفت کی اس گھڑی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھامے مکتی باہنیوں سے نبرد آزما تھے لیکن اب ان کے پاس بھی ہتھیار ختم ہو رہے تھے۔
خوراک کی قلت اس لیے بھی تھی کہ دریائے برہم پترا کی ندی کو غدار بنگالیوں نے پاکستان کا نام لینے والے اہلِ اردو بہاریوں ، محبِ وطن بنگالیوں اور اطراف میں بسنے والے چکمہ قبیلے کے بُدھوں کے خون سے سرخ کردیا تھا ۔ جبکہ اندرونِ شہر غداروں نے تمام دکانیں بند کروالی تھیں ۔ ہاں، کوئی مجاہد رضاکار وہاں کچھ روٹیاں اور مچھلی یا دال بھجوا دیتا تو بھجوادیتا، لیکن آج دوپہر تک کوئی بھی نہیں آیا تھا ۔ اس سیکٹر میں میجر (ر) قاضی نور الزماں نے مکتی باہنی کے غنڈوں کی کمان سنبھالی ہوئی تھی بلکہ وہی بھارتی فوج کو راستہ بھی دکھا رہا تھا ۔ یہ بنگال کا " جدید میر جعفر" وہی قاضی نور الزماں تھا جو 1954 میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد مشرقی پاکستان صنعتی ترقیاتی کے شعبے میں گھس گیا اور خوب مال کما کر ڈھاکا اور چاٹگام میں اپنی کوٹھیاں بنوائیں اور جب حکومتِ پاکستان نے حساب مانگا تو صدر ایوب کے خلاف ہوگیا ۔ یہ غدار اور دین فروش اب مکتی باہنی کا کرنل بنا ہوا تھا جس کے ہاتھوں بے شمار بے گناہ شہری شہید ہوچکے تھے
میجر اکرم جو بوگرہ سیکٹر میں موجود بریگیڈئیر تجمل حسین ملک کی قیادت میں ہلی کے مقام پر تعینات تھے انہیں خبر ملتی ہے کہ پاک فوج کے جوان اور رضاکار جو یہاں خوراک اور دشمن سے چھینا ہتھیار لیکر آرہے تھے بُونا نامی علاقے کی طرف ان کی مکتی باہنی اور بھارت کی چھاتہ بردار فوج سے جھڑپ ہوئی جہاں صرف 25 اہلکاروں نے سینکڑوں سے مقابلہ کیا لیکن وہ سب کے سب شہید ہوچکے ہیں ۔۔۔ !! ہاں صرف شہید الحسن نامی ایک اہلکار کچھ سامان لیے پہنچا ہے اور اسی نے یہ اطلاع دی ہے
میجر اکرم یہ خبر سنتے ہی آسمان کی طرف سر اٹھاتے ہیں جیسے اللّہ سے غیبی مدد طلب کر رہے ہوں ۔ پھر واپس اپنے سپاہیوں کو آکر صورتحال بتاکر کہتے ہیں
" یہ علاقہ جہاں ہم موجود ہیں مشرقی پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ مانا کہ ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں۔ ہماری اپنی بریگیڈ میں غداری کی وجہ سے اب سب کچھ ہاتھ سے جا چکا ہے لیکن ہم قسم کھاتے ہیں کہ مرجائیں گے لیکن اپنی زندگی میں دشمن کو یہاں نہ قدم رکھنے دیں گے نہ ریلوے لائن عبور کرنے دیں گے "
میجر صاحب کی یہ بات گویا موت کے ہاتھ پر بیعت تھی۔ انہوں نے ابھی بات ختم ہی کی تھی کہ انکے مورچوں پہ شدید گولہ باری ہونے لگی ۔ یہ علاقہ دشمن کی چار بریگیڈ کی زد میں تھا لیکن مجال ہے کہ مردانِ خاکی میں سے کوئی بھی قدم پیچھے ہٹاتا۔ اب گھمسان کا رن پڑا تو بھارتی کرنل شرما اور غدارِ وطن قاضی نور الزماں کی رپورٹ پر کہ یہاں صرف ایک ہی کمپنی ہے بھارتی طیاروں نے پمفلٹ پھینکے کہ " پاک فوج ہتھیار ڈال دے "
بھارتی سکھ کمانڈر بریگیڈئیر لچھمن سنگھ کسی بھی طرح یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا کہ یہاں صرف ایک ہی کمپنی ہے اسی لیے حملے میں اور شدت کروا دی ۔ بھارتی کرنل شرما بجرم بَلی کی مالا جپتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا جہاں اسے میدان تقریباً خالی نظر آرہا تھا لیکن وہ پاک فوج کی جرأت مندی کے باعث اپنے افسر کو یقین دلانے سے قاصر تھا کہ یہاں صرف چند مجاہد سینہ سپر ہیں ۔ بریگیڈئیر لچھمن سنگھ کے حکم پہ وہ ایک ٹینک کا دستہ اور پیادہ فوج لیکر آگے بڑھا تو اچانک میجر اکرم نے اس کے ٹینک اسکواڈرن پر فائر کھلوا دئیے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے چار ٹینک نذرِ آتش ہو چکے تھے جبکہ اس کے ارد گرد بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے غنڈے جہنم میں جانے سے قبل دنیا میں آخری ہچکیاں لے رہے تھے جن میں کرنل شرما بھی تھا ۔۔!!
04 دسمبر 1971 کو بی بی سی کا نمائندہ کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ صرف ایک میجر اپنے چالیس کے قریب سپاہیوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنا تھا ۔ اس نے ان کی عزم و استقامت کو بھی دیکھا تو میجر اکرم اور ان کے ساتھیوں کے گرد آلود چہروں پہ بھوک کے آثار بھی چشمِ نم کے ساتھ محفوظ کیے ۔ اس کی جیب میں کچھ مونگ پھلی کے دانے تھے وہ اس نے میجر صاحب کو دئیے تو محاذ پر مصروف میجر اکرم نے ایک سپاہی کو بلوا کر اسے چھلوائے اور ایک ایک دانہ سب کو دے دیا ۔۔۔ !!
بی بی سی جو اب برٹش براڈ کاسٹنگ کی بجائے برہمن براڈ کاسٹنگ سروس بنا ہوا تھا اس کا نمائندہ یہ دیکھ کر ضبط برقرار نہیں رکھتا اور انہیں سیلیوٹ کرتا ہوا واپس آجاتا ہے ۔
04 دسمبر 1971 اور 05 دسمبر 1971 کی شب سے صبح تک بھارت آخری تابڑ توڑ حملہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں پاک فوج کے صرف بیالیس سپاہیوں نے بھارت کے پانچ سو چالیس جوانوں کو جہنم واصل کردیا تھا ۔ اسی لیے ریڈیو پاکستان سے یہ نغمہ گونج گونج کر ان مجاہدینِ پاک کو عقیدت سے سلام پیش کرتے ہوئے کہہ رہا تھا
" غازی اُتّے کرم نبی ﷺ دا رب دے نیارے نیں
ساڈے صرف بِتالی شیراں پنج سو چالی مارے نیں "
یہ تھے وہ مجاہدینِ وطن جنہوں نے خون کے آخری قطرے تک مقابلہ کیا اور سب کے سب شہید ہوئے، لیکن ان کی زندگی میں مشرقی پاکستان کی یہ شہہ رگ بھارت اور بنگلہ دیش بنانے والوں کے ہاتھ نہ آٸی ۔۔ !!
آج پاکستان سے اندرونی اور لاشعوری بغض رکھنے والوں کی زبانیں 16 دسمبر 1971کا ذکر کرکے نہیں تھکتیں اور کچھ اپنی کوتاہ اور نادان سوچ کے ذریعے بھارتی موقف ہی کا ذکر کرتے ہوئے " سرینڈر کی کہانی" مزے لے لے کر سناتے ہیں لیکن وہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج اور البدر ، الشمس اور مقامی اردو بولنے والے بہاری مجاہدوں پر مشتمل مجاہد فورس کے کارناموں کو بھول جاتے ہیں، بلکہ کچھ ناہنجار تو کچھ نادان حضرات اپنے سیاسی بغض کی بنیاد پر اِن مجاہدین کی حب الوطنی اور غیرتِ دینی کو بھی نشانہ بناتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر وہی سیاسی جماعت کے حامی ہیں جن کے رہنماؤں نے پاکستان توڑنے میں حصہ لیا یا پھر وہ اسی قسم کی مغلظات ہی بکتے نظر آتے ہیں
بہرحال ہلّی سیکٹر کے اس معرکے کے عظیم ہیرو میجر محمد اکرم شہیدؒ کو نشانِ حیدرؓ سے نوازا گیا اور جب ان کے گھر خبر پہنچی تو ان کی والدہ عاٸشہ بی بی کھانا پکاتے ہوئے ترانہ گنگنا رہی تھیں " اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا ۔۔ اللّہ اکبر، اللّہ اکبر " جبکہ ہمشیرہ جس نے جنگِ ستمبر 1965 کے بعد اپنے بھائی اکرم سے پوچھا تھا کہ افسروں کو تمغے ملے آپ کو کیا مِلا ؟ تو بھائی اکرم جو اسوقت ظفروال میں بطور کپتان تھا کہتا ہے " اب جنگ ہوئی تو ایسا کارنامہ انجام دوں گا کہ دنیا یاد رکھے گی " بھی بھائی کی شہادت کی خبر سُن کر جہاں خوش تھی وہاں اپنے بھائی سے ہمیشہ کے لیے بچھڑنے کا درد بھی اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لا رہا تھا ۔ شہید کے دونوں بھائی حفاظِ قرآن تھے وہ بھی اپنے بھائی کے کارنامے پر خوشی و غمی کی کیفیت میں تھے ۔۔ شہید میجر اکرمؒ کو مشرقی پاکستان کے شہر دیناج پور میں مدفون کیا گیا جہاں آج بھی ان کی آرام گاہ مشرقی پاکستان میں قربانیوں کی یاد دلاتی ہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے غدار مطیع الرحمٰن کی باقیات تو واپس کیں لیکن اس کے بدلے اپنے نشانِ حیدر میجر اکرم شہیدؒ کو نہ لایا جاسکا !!
6 دسمبر 1971ء کو یونٹ کے نائب خطیب نے ان کی نمازِ جنازہ بوگرہ میں پڑھائی اور انہیں ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میجر محمد اکرم شہید نے جس شاندار مزاحمت کا مظاہرہ کیا وہ مشکل ترین حدوں تک لڑنے کی ان کی قابل تقلید بہادری اور غیر متزلزل عزم و حوصلے کا ثبوت تھی۔ میجر محمد اکرم شہید اس دلیرانہ جنگ میں دوران کاروائی شہید ہوگئے اور اپنے پیچھے ایک بہادرانہ مشن کی تکمیل کیلئے اپنی اعلٰی ترین قربانی کی داستان چھوڑ گئے
ہلی کے محاذ پر میجر محمد اکرم شہید کی جرات و بہادری نے ایسا رنگ جمایا کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا ، دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچانے پر میجر محمد اکرم شہید کو ’’ ہیرو آف ہلی ‘‘ کے نام سے شہرت ملی ، دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے 5 دسمبر 1971کو جام شہادت نوش کیا اور سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے شہر بوگرہ میں سپرد خاک کئے گئے۔ میجر محمد اکرم شہید کے برادر حفیظ ملک اور ملک افضل نے بتایا کہ میجر محمد اکرم شہید کی بے مثال جرات و بہادری کا اعتراف اس وقت کے بھارتی کمانڈر نے بھی کیا اور کہا کہ
’’ اگر میجر اکرم جیسا جری افسر ہمارے پاس ہوتا تو اس کو سب سے بڑے اعزاز سے نوازا جاتا ‘‘
اسی بھارتی آرمی جنرل کی سفارش پر پاکستان آرمی کی جانب سے شہید کو سب سے بڑے فوجی اعزاز ’’ نشان حیدر ‘‘ سے نوازا گیا
میجر محمد اکرام شہید کا نشان حیدر کا اعزاز 31 جنوری 1977ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ان کی والدہ مسماۃ احسان بی بی نے حاصل کیا۔
آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جہلم شہر میں ایک عظیم الشان یادگار تعمیر کی گئی ہے جب کہ تاریخ جہلم اور شہدائے جہلم از انجم سلطان شہباز میں ان کی مکمل سوانح موجود ہے۔ نیز پروفیسر سعید راشد نے ان کے حوالے سے ایک کتاب "شہید ہلی" لکھی تھی۔ میجر محمد اکرم شہید کی یادگار کی تعمیر کا کام 1996ء میں اُس وقت کے 23 ڈویژن کے جی-او-سی میجر جنرل محمد مشتاق اور ڈپٹی کمشنر جناب صفدر محمود نے اپنی نگرانی میں شروع کروایا اور اس کا باقاعدہ افتتاح 20 نومبر 1999ء کو اُس وقت کے جی-او-سی میجر جنرل تاج الحق نے کیا۔ یادگار سے متصل قائم لائبریری کے لیے سابق صدر جناب رفیق تارڑ صاحب نے خصوصی گرانٹ دی۔ میجر محمد اکرم شہید کے لواحقین حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے شہید کی یادگار تعمیر کرائی۔ یہ یادگار آنے والی نوجوان نسل کے اندر جذبہ حُب الوطنی اور جذبۂ جاں نثاری پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی
یومِ پیدائش میجر محمد اکرم شہید نشانِ حیدر
ذکر اس شہید نشانِ حیدر کا جو پاکستان میں مدفون نہیں
ہم کوئی شہادت نہیں بُھولے
ہر شہید ہمارے سر کا تاج ہے
وہ جن کو فقط 16 دسمبر 1971 کو جنرل نیازی کا ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنا یاد رہتا ہے انہیں چاہیے کہ ہلی کے محاذ پہ میجر محمد اکرم شہید کی داستان شجاعت و بہادری کا ضرور مطالعہ کریں۔
میجر محمد اکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں 4 اپریل 1938 کو اپنے ننھیال کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی گاؤں نکہ کلاں جہلم سے بیس میل جنوب میں پنڈدادن خان روڈ پر واقع ہے۔ آپ کے والد محترم کا نام ملک سخی محمد تھا۔ انہوں نے بھی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ نیک سیرت اور نہایت ہی پرہیزگار انسان تھے۔ میجر محمد اکرم شہید کی والدہ ماجدہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ وہ بڑی باشعور اور دیندار خاتون تھیں جن کی وجہ سے ان کے دو بیٹوں افضل ملک اور حفیظ اللہ نے قرآن پاک حفظ کیا۔ اکرم شہید کی آبیاری بھی اسی دینی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کرنے اور میٹرک کرنے کے بعد وہ 16 اگست 1948 کو ملٹری کالج جہلم میں داخل ہوئے جہاں تعلیم کے ساتھ انہوں نے باکسنگ اور ہاکی میں بھی دلچسپی لی اور کالج کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ اکرم شہید جولائی 1953 میں کالج سے فارغ ہو کر پنجاب رجمنٹ کی بوائز کمپنی میں بھرتی ہوئے جہاں انہیں تعلیم اور کھیلوں میں آگے ہونے کے سبب پلاٹون کمانڈر اور بعد ازاں بوائز کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا
دو سال بعد وہ ایک باقاعدہ سپاہی کی حیثیت سے 8 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ملٹری اسپیشل امتحان پاس کیا جو کمیشن میں جانے کے لئے ضروری تھا اور انہوں نے کمیشن کے لئے درخواست دی۔ ناکامی ہوئی‘ لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوبارہ کوشش کی اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں۔1961ء میں انہیں 28 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے چُن لیا گیا جس کے بعد 13 اکتوبر 1963ء کو انہیں کمیشن مِلا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان کا تقرر 4 ایف ایف رجمنٹ میں ہوا جو اس وقت پشاور میں تعینات تھی۔ دو سال بعد انہیں کیپٹن بنا دیا گیا۔ 1965 کی جنگ میں انہوں نے دشمن سے بھرپور مقابلہ کیا
7 جولائی 1968 کو ان کا تبادلہ ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوگیا اور وہ مشرقی پاکستان چلے گئے۔ 23 مارچ 70 تک وہاں رہے اس عرصے میں انہیں مشرقی پاکستان کے بڑے حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے بنگالی زبان بھی سیکھ لی
مشرقی پاکستان میں دو سال گزارنے کے بعد جب کیپٹن اکرم اپنی پلٹن 4 ایف ایف سیالکوٹ پہنچے تو سب نے مسرت اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ ستمبر 1970 میں آپ کی یونٹ کوئٹہ پہنچی۔ وہاں جانے سے پہلے آپ نے جولائی اگست میں مری انٹیلیجینس کورس بھی کیا۔
31 مارچ 71ء کو میجر اکرم یونٹ کے ساتھ ایک بار پھر مشرقی پاکستان پہنچے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ان کی کمپنی ہلی کے مقام پر صف آراء ہوئی۔ ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رگ کی سی تھی۔ مشرقی پاکستان کے شمالی علاقوں میں متعین ساری فوج کی سپلائی لائن یہاں سے گزرتی تھی۔ دشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کرکے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ ہلی پر قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے 202 ماؤنٹین بریگیڈ کو دو ماؤنٹین رجمنٹس‘ آرٹلری کی ایک لائٹ بیٹری اور ایک میڈیم رجمنٹ (ایک بیٹری کم) اور T-55 ٹینکوں کے ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی اس موقع پر میجر اکرم نے کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے بھرپور حملوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف دشمنوں کو پیش قدمی سے روکے رکھا بلکہ اس کے کئی ٹینک تباہ کئے اور سخت جانی نقصان بھی پہنچایا
یہ 5 دسمبر 1971 ہے ۔ تاریخ کے اوراق الٹیں تو چشمِ تصور میں نگاہیں مشرقی پاکستان کے ضلع بوگرہ دیناج پور کے قصبہ ہلّی پہ رک جاتی ہیں۔ مشرقی پاکستان ، ماہِ دسمبر، جاڑا اور خاکی وردی میں ملبوس صرف 42 سپاہی ۔۔۔ !! جن کے پاس ہتھیار اور خوراک سب ختم ہوچکے تھے ۔ سردیاں عروج پر تھیں ۔ گرمی تھی تو رگوں میں دوڑتے خون کی گرمی یا پھر ان دھماکوں کی جو دشمن کے بھاری توپ خانے سے اٹھتے اور جب خاموش ہوتے تو بکھرے ہوئے خون کی گرمی ان سرد لمحوں میں اپنی تپش کا اظہار کرتی۔ اس آگ و خون کے معرکے میں پاک فوج کے ساتھ البدر، الشمس اور مجاہد فورس کے چند نوجوان بھی آج مشرقی پاک کی سرحد پہ سینہ سپر تھے
ہلّی کے اسی محاذ پر 03 دسمبر 1971 یعنی دو دن قبل وائرلیس سے اچانک ایک پیغام سنائی دیتا ہے :
" کرنل شرما ! بریگیڈئیر لچھمن سنگھ ہیٸر۔۔۔ کرنل شرما ! آج جنگ کو شروع ہوئے 12 دن ہوچکے تمہارے بقول یہاں صرف ایک چھوٹی سی یونٹ ہے جو ہلّی ریلوے لائن پہ ہے لیکن یہاں ہمارے چار بریگیڈ آگے نہیں بڑھ رہے "
وائرلیس پہ انٹر سیپٹ ہوتی یہ آواز سنتے ہی پاک فوج کا کمپنی کمانڈر جس کا بھوک سے برا حال تھا نعرہ تکبیر بلند کرکے اپنی چھوٹی سی کمپنی کا مورال بلند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ " اللّہ کا شکر ہے کہ ہم نے دشمن کی پیش قدمی روکتے ہوئے آگے بڑھنے سے روکا ہوا ہے " اب وہ تمام سپاہی جن پر بھوک اور تکان کا غلبہ تھا اُن میں بھی جوشِ تازہ بیدار ہوتا ہے ۔۔ 22 نومبر سے باضابطہ جنگ شروع ہوئے دو ہفتے گذر چکے تھے ۔ مشرقی پاکستان کا یہ شمالی حصّہ جہاں سے بھارت نے مکتی باہنی کے غنڈوں کے لیے اسلحہ اور افرادی قوت پہنچانی تھی تاحال رکا ہوا تھا ۔ یہاں میجر محمد اکرم کی قیادت میں اب صرف 42 سپاہی معہ رضاکار بچے تھے جو ارضِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے بھارت کی چار بریگیڈ کو للکار رہے تھے ۔ دوسری جانب دیناج پور ، بوگرا سیکٹر اور اس کے نواح میں البدر ، الشمس اور مجاہد فورس کے چند رضا کار بھی تھے جو آفت کی اس گھڑی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھامے مکتی باہنیوں سے نبرد آزما تھے لیکن اب ان کے پاس بھی ہتھیار ختم ہو رہے تھے۔
خوراک کی قلت اس لیے بھی تھی کہ دریائے برہم پترا کی ندی کو غدار بنگالیوں نے پاکستان کا نام لینے والے اہلِ اردو بہاریوں ، محبِ وطن بنگالیوں اور اطراف میں بسنے والے چکمہ قبیلے کے بُدھوں کے خون سے سرخ کردیا تھا ۔ جبکہ اندرونِ شہر غداروں نے تمام دکانیں بند کروالی تھیں ۔ ہاں، کوئی مجاہد رضاکار وہاں کچھ روٹیاں اور مچھلی یا دال بھجوا دیتا تو بھجوادیتا، لیکن آج دوپہر تک کوئی بھی نہیں آیا تھا ۔ اس سیکٹر میں میجر (ر) قاضی نور الزماں نے مکتی باہنی کے غنڈوں کی کمان سنبھالی ہوئی تھی بلکہ وہی بھارتی فوج کو راستہ بھی دکھا رہا تھا ۔ یہ بنگال کا " جدید میر جعفر" وہی قاضی نور الزماں تھا جو 1954 میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد مشرقی پاکستان صنعتی ترقیاتی کے شعبے میں گھس گیا اور خوب مال کما کر ڈھاکا اور چاٹگام میں اپنی کوٹھیاں بنوائیں اور جب حکومتِ پاکستان نے حساب مانگا تو صدر ایوب کے خلاف ہوگیا ۔ یہ غدار اور دین فروش اب مکتی باہنی کا کرنل بنا ہوا تھا جس کے ہاتھوں بے شمار بے گناہ شہری شہید ہوچکے تھے
میجر اکرم جو بوگرہ سیکٹر میں موجود بریگیڈئیر تجمل حسین ملک کی قیادت میں ہلی کے مقام پر تعینات تھے انہیں خبر ملتی ہے کہ پاک فوج کے جوان اور رضاکار جو یہاں خوراک اور دشمن سے چھینا ہتھیار لیکر آرہے تھے بُونا نامی علاقے کی طرف ان کی مکتی باہنی اور بھارت کی چھاتہ بردار فوج سے جھڑپ ہوئی جہاں صرف 25 اہلکاروں نے سینکڑوں سے مقابلہ کیا لیکن وہ سب کے سب شہید ہوچکے ہیں ۔۔۔ !! ہاں صرف شہید الحسن نامی ایک اہلکار کچھ سامان لیے پہنچا ہے اور اسی نے یہ اطلاع دی ہے
میجر اکرم یہ خبر سنتے ہی آسمان کی طرف سر اٹھاتے ہیں جیسے اللّہ سے غیبی مدد طلب کر رہے ہوں ۔ پھر واپس اپنے سپاہیوں کو آکر صورتحال بتاکر کہتے ہیں
" یہ علاقہ جہاں ہم موجود ہیں مشرقی پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ مانا کہ ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں۔ ہماری اپنی بریگیڈ میں غداری کی وجہ سے اب سب کچھ ہاتھ سے جا چکا ہے لیکن ہم قسم کھاتے ہیں کہ مرجائیں گے لیکن اپنی زندگی میں دشمن کو یہاں نہ قدم رکھنے دیں گے نہ ریلوے لائن عبور کرنے دیں گے "
میجر صاحب کی یہ بات گویا موت کے ہاتھ پر بیعت تھی۔ انہوں نے ابھی بات ختم ہی کی تھی کہ انکے مورچوں پہ شدید گولہ باری ہونے لگی ۔ یہ علاقہ دشمن کی چار بریگیڈ کی زد میں تھا لیکن مجال ہے کہ مردانِ خاکی میں سے کوئی بھی قدم پیچھے ہٹاتا۔ اب گھمسان کا رن پڑا تو بھارتی کرنل شرما اور غدارِ وطن قاضی نور الزماں کی رپورٹ پر کہ یہاں صرف ایک ہی کمپنی ہے بھارتی طیاروں نے پمفلٹ پھینکے کہ " پاک فوج ہتھیار ڈال دے "
بھارتی سکھ کمانڈر بریگیڈئیر لچھمن سنگھ کسی بھی طرح یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا کہ یہاں صرف ایک ہی کمپنی ہے اسی لیے حملے میں اور شدت کروا دی ۔ بھارتی کرنل شرما بجرم بَلی کی مالا جپتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا جہاں اسے میدان تقریباً خالی نظر آرہا تھا لیکن وہ پاک فوج کی جرأت مندی کے باعث اپنے افسر کو یقین دلانے سے قاصر تھا کہ یہاں صرف چند مجاہد سینہ سپر ہیں ۔ بریگیڈئیر لچھمن سنگھ کے حکم پہ وہ ایک ٹینک کا دستہ اور پیادہ فوج لیکر آگے بڑھا تو اچانک میجر اکرم نے اس کے ٹینک اسکواڈرن پر فائر کھلوا دئیے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے چار ٹینک نذرِ آتش ہو چکے تھے جبکہ اس کے ارد گرد بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے غنڈے جہنم میں جانے سے قبل دنیا میں آخری ہچکیاں لے رہے تھے جن میں کرنل شرما بھی تھا ۔۔!!
04 دسمبر 1971 کو بی بی سی کا نمائندہ کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ صرف ایک میجر اپنے چالیس کے قریب سپاہیوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنا تھا ۔ اس نے ان کی عزم و استقامت کو بھی دیکھا تو میجر اکرم اور ان کے ساتھیوں کے گرد آلود چہروں پہ بھوک کے آثار بھی چشمِ نم کے ساتھ محفوظ کیے ۔ اس کی جیب میں کچھ مونگ پھلی کے دانے تھے وہ اس نے میجر صاحب کو دئیے تو محاذ پر مصروف میجر اکرم نے ایک سپاہی کو بلوا کر اسے چھلوائے اور ایک ایک دانہ سب کو دے دیا ۔۔۔ !!
بی بی سی جو اب برٹش براڈ کاسٹنگ کی بجائے برہمن براڈ کاسٹنگ سروس بنا ہوا تھا اس کا نمائندہ یہ دیکھ کر ضبط برقرار نہیں رکھتا اور انہیں سیلیوٹ کرتا ہوا واپس آجاتا ہے ۔
04 دسمبر 1971 اور 05 دسمبر 1971 کی شب سے صبح تک بھارت آخری تابڑ توڑ حملہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں پاک فوج کے صرف بیالیس سپاہیوں نے بھارت کے پانچ سو چالیس جوانوں کو جہنم واصل کردیا تھا ۔ اسی لیے ریڈیو پاکستان سے یہ نغمہ گونج گونج کر ان مجاہدینِ پاک کو عقیدت سے سلام پیش کرتے ہوئے کہہ رہا تھا
" غازی اُتّے کرم نبی ﷺ دا رب دے نیارے نیں
ساڈے صرف بِتالی شیراں پنج سو چالی مارے نیں "
یہ تھے وہ مجاہدینِ وطن جنہوں نے خون کے آخری قطرے تک مقابلہ کیا اور سب کے سب شہید ہوئے، لیکن ان کی زندگی میں مشرقی پاکستان کی یہ شہہ رگ بھارت اور بنگلہ دیش بنانے والوں کے ہاتھ نہ آٸی ۔۔ !!
آج پاکستان سے اندرونی اور لاشعوری بغض رکھنے والوں کی زبانیں 16 دسمبر 1971کا ذکر کرکے نہیں تھکتیں اور کچھ اپنی کوتاہ اور نادان سوچ کے ذریعے بھارتی موقف ہی کا ذکر کرتے ہوئے " سرینڈر کی کہانی" مزے لے لے کر سناتے ہیں لیکن وہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج اور البدر ، الشمس اور مقامی اردو بولنے والے بہاری مجاہدوں پر مشتمل مجاہد فورس کے کارناموں کو بھول جاتے ہیں، بلکہ کچھ ناہنجار تو کچھ نادان حضرات اپنے سیاسی بغض کی بنیاد پر اِن مجاہدین کی حب الوطنی اور غیرتِ دینی کو بھی نشانہ بناتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر وہی سیاسی جماعت کے حامی ہیں جن کے رہنماؤں نے پاکستان توڑنے میں حصہ لیا یا پھر وہ اسی قسم کی مغلظات ہی بکتے نظر آتے ہیں
بہرحال ہلّی سیکٹر کے اس معرکے کے عظیم ہیرو میجر محمد اکرم شہیدؒ کو نشانِ حیدرؓ سے نوازا گیا اور جب ان کے گھر خبر پہنچی تو ان کی والدہ عاٸشہ بی بی کھانا پکاتے ہوئے ترانہ گنگنا رہی تھیں " اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا ۔۔ اللّہ اکبر، اللّہ اکبر " جبکہ ہمشیرہ جس نے جنگِ ستمبر 1965 کے بعد اپنے بھائی اکرم سے پوچھا تھا کہ افسروں کو تمغے ملے آپ کو کیا مِلا ؟ تو بھائی اکرم جو اسوقت ظفروال میں بطور کپتان تھا کہتا ہے " اب جنگ ہوئی تو ایسا کارنامہ انجام دوں گا کہ دنیا یاد رکھے گی " بھی بھائی کی شہادت کی خبر سُن کر جہاں خوش تھی وہاں اپنے بھائی سے ہمیشہ کے لیے بچھڑنے کا درد بھی اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لا رہا تھا ۔ شہید کے دونوں بھائی حفاظِ قرآن تھے وہ بھی اپنے بھائی کے کارنامے پر خوشی و غمی کی کیفیت میں تھے ۔۔ شہید میجر اکرمؒ کو مشرقی پاکستان کے شہر دیناج پور میں مدفون کیا گیا جہاں آج بھی ان کی آرام گاہ مشرقی پاکستان میں قربانیوں کی یاد دلاتی ہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے غدار مطیع الرحمٰن کی باقیات تو واپس کیں لیکن اس کے بدلے اپنے نشانِ حیدر میجر اکرم شہیدؒ کو نہ لایا جاسکا !!
6 دسمبر 1971ء کو یونٹ کے نائب خطیب نے ان کی نمازِ جنازہ بوگرہ میں پڑھائی اور انہیں ڈھاکہ روڈ پر بوگرہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میجر محمد اکرم شہید نے جس شاندار مزاحمت کا مظاہرہ کیا وہ مشکل ترین حدوں تک لڑنے کی ان کی قابل تقلید بہادری اور غیر متزلزل عزم و حوصلے کا ثبوت تھی۔ میجر محمد اکرم شہید اس دلیرانہ جنگ میں دوران کاروائی شہید ہوگئے اور اپنے پیچھے ایک بہادرانہ مشن کی تکمیل کیلئے اپنی اعلٰی ترین قربانی کی داستان چھوڑ گئے
ہلی کے محاذ پر میجر محمد اکرم شہید کی جرات و بہادری نے ایسا رنگ جمایا کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا ، دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچانے پر میجر محمد اکرم شہید کو ’’ ہیرو آف ہلی ‘‘ کے نام سے شہرت ملی ، دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے 5 دسمبر 1971کو جام شہادت نوش کیا اور سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے شہر بوگرہ میں سپرد خاک کئے گئے۔ میجر محمد اکرم شہید کے برادر حفیظ ملک اور ملک افضل نے بتایا کہ میجر محمد اکرم شہید کی بے مثال جرات و بہادری کا اعتراف اس وقت کے بھارتی کمانڈر نے بھی کیا اور کہا کہ
’’ اگر میجر اکرم جیسا جری افسر ہمارے پاس ہوتا تو اس کو سب سے بڑے اعزاز سے نوازا جاتا ‘‘
اسی بھارتی آرمی جنرل کی سفارش پر پاکستان آرمی کی جانب سے شہید کو سب سے بڑے فوجی اعزاز ’’ نشان حیدر ‘‘ سے نوازا گیا
میجر محمد اکرام شہید کا نشان حیدر کا اعزاز 31 جنوری 1977ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ان کی والدہ مسماۃ احسان بی بی نے حاصل کیا۔
آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جہلم شہر میں ایک عظیم الشان یادگار تعمیر کی گئی ہے جب کہ تاریخ جہلم اور شہدائے جہلم از انجم سلطان شہباز میں ان کی مکمل سوانح موجود ہے۔ نیز پروفیسر سعید راشد نے ان کے حوالے سے ایک کتاب "شہید ہلی" لکھی تھی۔ میجر محمد اکرم شہید کی یادگار کی تعمیر کا کام 1996ء میں اُس وقت کے 23 ڈویژن کے جی-او-سی میجر جنرل محمد مشتاق اور ڈپٹی کمشنر جناب صفدر محمود نے اپنی نگرانی میں شروع کروایا اور اس کا باقاعدہ افتتاح 20 نومبر 1999ء کو اُس وقت کے جی-او-سی میجر جنرل تاج الحق نے کیا۔ یادگار سے متصل قائم لائبریری کے لیے سابق صدر جناب رفیق تارڑ صاحب نے خصوصی گرانٹ دی۔ میجر محمد اکرم شہید کے لواحقین حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے شہید کی یادگار تعمیر کرائی۔ یہ یادگار آنے والی نوجوان نسل کے اندر جذبہ حُب الوطنی اور جذبۂ جاں نثاری پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی

No comments:
Post a Comment