04 اپریل 1963
یومِ پیدائش نوابزادہ سراج خان رئیسانی شہید
شہید وفائے پاکستان
" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، میرے بلوچستان کے بہادر لوگو "
یہ نواب سراج خان رئیسانی شہید کے آخری الفاظ تھے
شہید سراج خان رئیسانی شہید بلوچ باغیوں کے مقابل سینہ تانے کھڑے تھے، وہ فراری کیمپوں پر قہر بن کر نازل ہوتے تھے۔ وہ ہر محاذ پر پاکستان دشمنوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہے تھے۔ اداروں کی ترجیحات ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہوں گی لیکن شہید سراج خان رئیسانی کا مرکز و محور اوّل و آخر صرف اور صرف پاکستان رہا۔ وہ پاکستان کیلئے جیے اور اسی کے لئے جام شہادت نوش کیا۔ حب الوطنی کی میراث کے امین نوابزادہ سراج خان رئیسانی شہید کے دو سنگین ”جرائم“ تھے۔
1۔ بھارتی ترنگے کے جوتے بنوانا اور
2۔ دو کلومیٹر طویل سبز ہلالی پرچم لہرانا
نواب سراج خان رئیسانی شہید ضلع بولان کے علاقے مہر گڑھ، بلوچستان کے رئیسانی قبیلے کے بڑے کے گھر میں 04 اپریل 1963 کو پیدا ہوئے۔ نواب سراج 7 بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔
سراج خان رئیسانی نے اپنی ابتدائی تعلیم بولان کے سرکاری تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ پھر انہوں نے ٹنڈو جام کی سندھ زرعی یونیورسٹی سے دیہی معاشیات میں بیچلر کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے نیدرلینڈز کے ایک تعلیمی ادارے سے گل پروری میں کورس کیا۔
نواب سراج خان رئیسانی شہید کا تعلق سیاسی خاندان سے تھا۔ ان کے والد غوث بخش رئیسانی نے 1970ء اور 1971ء کے درمیان میں گورنرِ بلوچستان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ ان کے سب سے بڑے بھائی اسلم رئیسانی بلوچستان کے تیرہویں وزیر اعلیٰ (2008ء — 2013ء) تھے۔ ان کے دوسرے بھائیوں میں سے ایک، لشکری رئیسانی ایوان بالا پاکستان میں 2009ء سے 2015ء تک سینیٹر رہے۔ سراج خان رئیسانی خود بھی اپنے والد کی جماعت بلوچستان متحدہ محاذ کے نئی تشکیل شدہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم ہونے سے قبل جون 2018ء تک سربراہ رہے۔
نواب سراج خان رئیسانی شہید 13 جولائی 2018ء کو پاکستانی عام انتخابات سے قبل اپنی نشست کے لیے مہم چلا رہے تھے اور مہم کے دوران خودکش دھماکا ہو گیا اور وہ شہید ہو گئے۔ سراج خان رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن لڑرہے تھے۔ اس خودکش حملے کے نتیجے میں سراج خان رئیسانی سمیت 130 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حلقے میں انتخابات ملتوی کر دئیے تھے۔
سراجخان رئیسانی کے قبیلے کو بلوچستان کے قبائلی اور سیاسی نظام میں اہم مقام حاصل ہے لیکن نوجوان، نڈر اور بے خوف سراج کی سوچ، خیالات اور نکتہ نظر اپنے بڑے بھائیوں سے شاید مختلف تھا کہ اس نے بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد قیام امن اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے ایجنڈے میں سکیورٹی فورسز کا بے جگری سے ساتھ دیا۔
نواب سراج خان رئیسانی شہید کو نشانہ اس لئے بھی بنایا گیا کہ وہ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کو تیز کررہے تھے۔ جولائی 2011 میں پاکستان کی آزادی کی خوشیاں منانے کے لیے ایک فٹ بال میچ انہوں نے منعقد کروایا۔ دشمنوں کو سخت ناگوار گزرا اور نوابزادہ سراج خان رئیسانی کو دوران میچ بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں وہ بچ گئے لیکن انکے بڑے بیٹے میر حقمل رئیسانی سمیت متعدد افراد شہید ہوگئے تھے۔ اعتراف جرم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے کیا جس سے اس معصوم کی شہادت پر مہر تصدیق ثبت ہوئی۔
وطن سے محبت کرنیوالا، جان کے نذرانے سے اپنا عہد وفا کرگیا۔ ورنہ یہاں ایسے بھی ہیں جو ہندوستان کی جوتیوں میں گنجائش نکالنے کو بے چین رہے۔ نگران وزیراعلٰی بلوچستان علاﺅ الدین مری نے سراج خان رئیسانی شہید کی شہادت پر گواہی دی کہ ’دہشت گردی کی جنگ میں اپنے جوان سال بیٹے کی قربانی دینے کے باوجود انہوں نے کبھی دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی۔ دہشتگردی کیخلاف اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور بہادری کے ساتھ دہشتگردوں کی بھرپور مخالفت کرتے رہے‘
وطن کے بیٹے ایسے ہوتے ہیں
23 مارچ 2019 کو حکومت پاکستان نے سراج خان رئیسانی شہید کو تمغہ شجاعت سے نوازا جسے ان کے بیٹے نے وصول کیا۔
یومِ پیدائش نوابزادہ سراج خان رئیسانی شہید
شہید وفائے پاکستان
" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، میرے بلوچستان کے بہادر لوگو "
یہ نواب سراج خان رئیسانی شہید کے آخری الفاظ تھے
شہید سراج خان رئیسانی شہید بلوچ باغیوں کے مقابل سینہ تانے کھڑے تھے، وہ فراری کیمپوں پر قہر بن کر نازل ہوتے تھے۔ وہ ہر محاذ پر پاکستان دشمنوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہے تھے۔ اداروں کی ترجیحات ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہوں گی لیکن شہید سراج خان رئیسانی کا مرکز و محور اوّل و آخر صرف اور صرف پاکستان رہا۔ وہ پاکستان کیلئے جیے اور اسی کے لئے جام شہادت نوش کیا۔ حب الوطنی کی میراث کے امین نوابزادہ سراج خان رئیسانی شہید کے دو سنگین ”جرائم“ تھے۔
1۔ بھارتی ترنگے کے جوتے بنوانا اور
2۔ دو کلومیٹر طویل سبز ہلالی پرچم لہرانا
نواب سراج خان رئیسانی شہید ضلع بولان کے علاقے مہر گڑھ، بلوچستان کے رئیسانی قبیلے کے بڑے کے گھر میں 04 اپریل 1963 کو پیدا ہوئے۔ نواب سراج 7 بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔
سراج خان رئیسانی نے اپنی ابتدائی تعلیم بولان کے سرکاری تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ پھر انہوں نے ٹنڈو جام کی سندھ زرعی یونیورسٹی سے دیہی معاشیات میں بیچلر کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے نیدرلینڈز کے ایک تعلیمی ادارے سے گل پروری میں کورس کیا۔
نواب سراج خان رئیسانی شہید کا تعلق سیاسی خاندان سے تھا۔ ان کے والد غوث بخش رئیسانی نے 1970ء اور 1971ء کے درمیان میں گورنرِ بلوچستان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ ان کے سب سے بڑے بھائی اسلم رئیسانی بلوچستان کے تیرہویں وزیر اعلیٰ (2008ء — 2013ء) تھے۔ ان کے دوسرے بھائیوں میں سے ایک، لشکری رئیسانی ایوان بالا پاکستان میں 2009ء سے 2015ء تک سینیٹر رہے۔ سراج خان رئیسانی خود بھی اپنے والد کی جماعت بلوچستان متحدہ محاذ کے نئی تشکیل شدہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم ہونے سے قبل جون 2018ء تک سربراہ رہے۔
نواب سراج خان رئیسانی شہید 13 جولائی 2018ء کو پاکستانی عام انتخابات سے قبل اپنی نشست کے لیے مہم چلا رہے تھے اور مہم کے دوران خودکش دھماکا ہو گیا اور وہ شہید ہو گئے۔ سراج خان رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن لڑرہے تھے۔ اس خودکش حملے کے نتیجے میں سراج خان رئیسانی سمیت 130 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حلقے میں انتخابات ملتوی کر دئیے تھے۔
سراجخان رئیسانی کے قبیلے کو بلوچستان کے قبائلی اور سیاسی نظام میں اہم مقام حاصل ہے لیکن نوجوان، نڈر اور بے خوف سراج کی سوچ، خیالات اور نکتہ نظر اپنے بڑے بھائیوں سے شاید مختلف تھا کہ اس نے بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد قیام امن اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے ایجنڈے میں سکیورٹی فورسز کا بے جگری سے ساتھ دیا۔
نواب سراج خان رئیسانی شہید کو نشانہ اس لئے بھی بنایا گیا کہ وہ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کو تیز کررہے تھے۔ جولائی 2011 میں پاکستان کی آزادی کی خوشیاں منانے کے لیے ایک فٹ بال میچ انہوں نے منعقد کروایا۔ دشمنوں کو سخت ناگوار گزرا اور نوابزادہ سراج خان رئیسانی کو دوران میچ بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں وہ بچ گئے لیکن انکے بڑے بیٹے میر حقمل رئیسانی سمیت متعدد افراد شہید ہوگئے تھے۔ اعتراف جرم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے کیا جس سے اس معصوم کی شہادت پر مہر تصدیق ثبت ہوئی۔
وطن سے محبت کرنیوالا، جان کے نذرانے سے اپنا عہد وفا کرگیا۔ ورنہ یہاں ایسے بھی ہیں جو ہندوستان کی جوتیوں میں گنجائش نکالنے کو بے چین رہے۔ نگران وزیراعلٰی بلوچستان علاﺅ الدین مری نے سراج خان رئیسانی شہید کی شہادت پر گواہی دی کہ ’دہشت گردی کی جنگ میں اپنے جوان سال بیٹے کی قربانی دینے کے باوجود انہوں نے کبھی دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی۔ دہشتگردی کیخلاف اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور بہادری کے ساتھ دہشتگردوں کی بھرپور مخالفت کرتے رہے‘
وطن کے بیٹے ایسے ہوتے ہیں
23 مارچ 2019 کو حکومت پاکستان نے سراج خان رئیسانی شہید کو تمغہ شجاعت سے نوازا جسے ان کے بیٹے نے وصول کیا۔

No comments:
Post a Comment