Saturday, April 4, 2020

چار اپریل 1967 جب لاہور میں پہلی مرتبہ پرچم استقلال لہرایا گیا

04 اپریل 1967
لاہور میں پہلی مرتبہ پرچم استقلال لہرایا گیا تھا

لاہور کے جناح ہال پر پاکستان کے دو پرچم لہرائے جاتے ہیں ایسا ہی سیالکوٹ اور سرگودھا کے جناح ہال پر ہوتا ہے کہ وہاں بھی دو دو پرچم ہی لہرائے جاتے ہیں۔ سرسری نظر سے دونوں پرچم ایک جیسے ہی لگتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ ان میں سے ایک تو عام سبز ہلالی پرچم ہے جبکہ دوسرے میں اضافی تین ستارے اور ایک نشان نظر آتا ہے۔ یہ تھوڑا سا مختلف پرچم دراصل ’’ہلالِ استقلال‘‘ ہے۔ ’’ہلالِ استقلال‘‘ درحقیقت ایک اعزازی پرچم ہے، جو جنگ ستمبر 1965ء میں وطنِ عزیز کے دفاع کے لئے قابلِ فخر کارنامے انجام دینے والے شہروں کو دیا گیا تھا۔ جب ان شہروں کو پرچم عطا کرنے کا سوچا گیا تو پرچم کے ڈیزائن کی تیاری کے لئے باقاعدہ مقابلہ کرایا گیا تھا۔ مقابلے میں متعدد ڈیزائن آئے چنانچہ جنوری1967ء میں تین سو منتخب ڈیزائنز میں سے مرکزی حکومت کے شعبۂ مطبوعات و فلمز کے سینئر آرٹسٹ اقبال احمد خان کا تیارکرہ ’’ہلالِ استقلال‘‘ پرچم کا ڈیزائن قطعی طور پر منظور کر لیا گیا۔ 14 مارچ 1967ء کو اعلان کیا گیا کہ لاہور، سیالکوٹ اور سرگودھا شہروں کو جنگ ستمبر میں حوصلے و جذبے کے انمٹ نقوش چھوڑنے پر ’’ہلالِ استقلال ‘‘ دیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ اعزاز ایک پرچم پر مشتمل ہوگا جو ان شہروں کے ٹاؤن ہالز (جو بعد میں جناح ہال کہلانے لگے) پر پورا سال لہرائے گا اور ہر سال یومِ دفاع (چھ ستمبر) کے موقع پر اسے اتار کر نیا پرچم لہرایا جائے گا

 لاہور کے شہریوں کو یہ اعزاز پاکستان کے سابق صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے 4 اپریل 1967ء کو اور سیالکوٹ اور سرگودھا کے شہریوں کو مغربی پاکستان کے سابق گورنر جنرل محمد موسیٰ خان نے بالترتیب 7 مئی 1967ء اور 8 مئی 1967ء کو ایک خصوصی تقریب میں عطا کیا تھا۔ 15 مئی 1967ء کو  پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اس پرچم ہلالِ استقلال کی تصویر سے مزین ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا، اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت  15 پیسے تھی اور اسے پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے آرٹسٹ عبدالرؤف نے ڈیزائن کیا تھا

جیسا کہ لاہور کے شہریوں کو بتایا گیا کہ ان کو یہ پرچم خود صدرِ پاکستان پیش کریں گے۔ چنانچہ 4 اپریل 1967ء کو صدر ایوب خان نے گول باغ (ناصر باغ) میں منعقدہ ایک پُروقار تقریب میں لاہور شہر کو ’’ہلالِ استقلال‘‘ پیش کیا۔ اس موقع پر ٹاؤن ہال کو روشنیوں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔ ٹاؤن ہال اور اس سے ملحقہ عمارتوں پر سُرخ رنگ کیا گیا تھا۔ 1966ء کے زلزلے کی وجہ سے ٹاؤن ہال کی جو بُرجی گِر گئی تھی اس کی بھی مرمت کی گئی تھی۔ صدر پاکستان نے ٹاؤن ہال کی پہلی چھت پر جا کر ہلالِ استقلال لہرایا اور مبارکباد دی۔ اس روز لاہور میں مقامی تعطیل تھی۔اس لئے لوگوں کی بڑی تعداد تقریب دیکھنے پہنچی۔ لاہور میں دو سال کے دوران یہ پہلا عظیم الشان جلسۂ عام تھا۔ عوام کے ریلے کی وجہ سے سڑک پر رکھا جنگلہ ٹوٹ گیا اور لوگ باغ میں بے دھڑک داخل ہو گئے تھے۔ تقریب سے اپنے خطاب میں صدر نے کہا کہ

" پاکستان امن پسند ملک ہے۔اس نے کبھی جارحانہ جنگ کی خواہش نہیں کی لیکن اگر کسی نے ہماری طرف بُرے عزائم کے ساتھ آنکھ اُٹھا کر دیکھا اور ہماری غیرت کو للکارا تو ہم وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہمارے دل شوقِ شہادت سے لبریز ہیں "

اس سے قبل صدر کے پرسنل سیکرٹری سیّد فدا حسین نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے’’ سپاسِ لاہور ‘‘پیش کیا۔

اس موقع پر ابو الاثر حفیظ جالندھری نے اپنی نظم ’’ مبارک برسرِ لاہور استقلالِ پاکستان ‘‘ پیش کی جو خاص طور پر اس موقع پر لکھی گئی تھی۔ لاہور کارپوریشن کے وائس چیئرمین چودھری محمد حسین نے صدر کو سپاسنامہ پیش کیا۔ ہلالِ استقلال دراصل قومی پرچم میں معمولی اضافے کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ ’’ ہلال استقلال ‘‘ سبز ہلالی پرچم کے سفید حصے میں تین تارے اور پاکستانی مسلح افواج کا نشان اور ہلالِ استقلال کے الفاظ سے مزّین ہے۔

لاہور کو ہلالِ استقلال ملنے پر قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھر
ی نے ’’لاہور کا پرچم…ہلالِ استقلال‘‘ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی اور لاہور کے غیور عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا

No comments:

Post a Comment